پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان وفود کی سطح پر اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں کشیدگی ختم کرنے اور جمہوریت کے وسیع تر مفاد میں مل کر آگے بڑھنے پر اتفاق ہوا ہے۔
قمر زمان کائرہ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان جاری لفظی جنگ اب ختم ہو چکی ہے، کیونکہ انتخابی مہم، جلسے جلوس اور سیاسی تقاریر اپنے اختتام کو پہنچ چکے ہیں۔
مزید پڑھیں:وفاقی وزرا کی صدر زرداری سے اہم ملاقات، پیپلز پارٹی اور ن لیگ بیان بازی روکنے پر متفق
انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران سخت بیانات سیاسی ماحول اور انتخابی جوش و خروش کا حصہ ہوتے ہیں، تاہم اب دونوں جماعتوں کو جمہوریت کے وسیع تر مفاد میں مل بیٹھ کر آگے بڑھنا چاہیے۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اگر آزاد کشمیر کے انتخابات کے آئندہ مراحل میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا اور انتخابی عمل میں انتظامی جانبداری یا بے ضابطگیوں کا تاثر پیدا نہ ہوا تو پاکستان پیپلز پارٹی بھی سخت الزامات یا محاذ آرائی کی سیاست اور لفظی واروں سے گریز کرے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کا مقصد انتخابی عمل کو متنازع بنانا نہیں بلکہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے تحفظات اور شکایات کھل کر بیان کیں۔ پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کے کردار اور انتخابی انتظامات سے متعلق اپنے خدشات سے بھی آگاہ کیا تاکہ آئندہ مرحلے میں کسی بھی قسم کے تنازع یا بداعتمادی سے بچا جا سکے۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ دونوں جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ باقی ماندہ انتخابی مراحل، خصوصاً مظفرآباد سمیت دیگر حلقوں میں، پولنگ اسٹیشنوں کے اندر یا اطراف کسی بھی مسلح شخص کی موجودگی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور پرامن ماحول میں ووٹنگ کو یقینی بنایا جائے گا۔
مزید پڑھیں:وزیراعلیٰ بلوچستان کے لیے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے مشترکہ امیدوار سرفراز بگٹی کون ہیں؟
اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیر میں جاری انتخابات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر جمعرات کو مظفرآباد میں دونوں اتحادی جماعتوں کے اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کا مقصد انتخابی دھاندلی کے الزامات سے پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی کو کم کرنا اور اس کے اثرات کو وفاقی اتحادی حکومت تک پھیلنے سے روکنا تھا۔
ملاقات میں پیپلز پارٹی کی نمائندگی قمر زمان کائرہ، ندیم افضل چن، آزاد کشمیر کے وزیر اعظم فیصل راٹھور اور نیئر بخاری نے کی، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے رانا ثنا اللہ اور امیر مقام شریک ہوئے۔
مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی سے منظم انتخابی دھاندلی کے الزامات کے ثبوت طلب کیے، جس پر پیپلز پارٹی نے واضح کیا کہ اس کے اعتراضات صرف 4 حلقوں، ایل اے 5، ایل اے 9، ایل اے 11 اور ایل اے 12 تک محدود ہیں، جہاں ان کے بقول سنگین بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
مزید پڑھیں:بجٹ میں ریلیف یا مہنگائی کا طوفان؟ ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں ڈیڈلاک برقرار
اس کے جواب میں مسلم لیگ (ن) نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ پیپلز پارٹی نے اپنے اعتراضات صرف 4 حلقوں تک محدود رکھے ہیں، اس لیے باقی نشستوں کے نتائج کو عملی طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔
ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ موجودہ سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھنے نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی اسے آزاد کشمیر کے انتخابات کے باقی مراحل پر اثرانداز ہونے دیا جائے گا۔ دونوں جماعتوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولنگ کے دوران امن و امان، شفافیت اور غیرجانبداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد برقرار رہے۔














