فیفا، ارجنٹینا اور سازشی نظریات: حقائق کیا کہتے ہیں؟

جمعہ 31 جولائی 2026
author image

فیصل حمید

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ورلڈ کپ 2026 اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ اسپین نے سنسنی خیز فائنل میں ارجنٹینا کو شکست دے کر عالمی چیمپیئن کا اعزاز حاصل کیا، لیکن ٹورنامنٹ کے دوران ایک سوال مسلسل گردش کرتا رہا: کیا فیفا واقعی ارجنٹینا کو ورلڈ کپ جتوانا چاہتی تھی؟

سوشل میڈیا سے لے کر ٹی وی مباحثوں تک یہ دعویٰ بار بار دہرایا گیا کہ ارجنٹینا فیفا کی پسندیدہ ٹیم ہے، ریفری اس کے حق میں فیصلے کرتے ہیں اور لیونل میسی فیفا کی خصوصی سرپرستی حاصل کیے ہوئے ہیں۔ بعض حلقوں نے تو یہاں تک کہا کہ ورلڈ کپ کا نتیجہ پہلے ہی طے تھا۔ لیکن اگر یہ سب درست تھا تو پھر دو بنیادی سوال جنم لیتے ہیں۔

اگر فیفا واقعی ارجنٹینا کو چیمپیئن بنانا چاہتی تھی تو وہ فائنل کیوں ہار گئی؟

اور اگر میسی واقعی فیفا کا پسندیدہ کھلاڑی تھا تو 8 گول اور 4 اسسٹ کے باوجود وہ گولڈن بال کیوں نہ جیت سکا، جبکہ اسپین کے مڈفیلڈر روڈری، جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں نہ کوئی گول کیا اور نہ ہی کوئی اسسٹ دیا، یہ اعزاز اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب جذبات یا سوشل میڈیا پوسٹوں میں نہیں بلکہ اعداد و شمار اور حقائق میں ملتے ہیں۔

تحقیق کہاں سے شروع ہونی چاہیے؟

کسی بھی ورلڈ کپ کا تجزیہ صرف ٹورنامنٹ کے چند ہفتوں تک محدود نہیں ہوتا۔ اصل کہانی تو اس سے قریباً 3 سال پہلے شروع ہوتی ہے، جب دنیا بھر کی قومی ٹیمیں ورلڈ کپ کوالیفائرز کھیل رہی ہوتی ہیں۔

ورلڈ کپ 2026 تاریخ کا پہلا ایڈیشن تھا جس میں 48 ٹیموں نے شرکت کی، لیکن ان 48 ٹیموں تک پہنچنے کے لیے دنیا کی 206 قومی ٹیموں نے مختلف براعظمی کوالیفائنگ مقابلوں میں حصہ لیا۔

یہی وہ مرحلہ ہے جہاں پہلی مرتبہ یہ جانچا جا سکتا ہے کہ آیا کسی ٹیم کو واقعی دوسروں کے مقابلے میں غیر معمولی رعایت دی گئی یا نہیں۔

چاروں سیمی فائنلسٹ ٹیموں کا سفر

ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں چار ٹیمیں پہنچیں: ارجنٹینا، اسپین، فرانس اور انگلینڈ۔ ان میں سے 3 ٹیمیں یورپ سے تھیں جبکہ صرف ارجنٹینا جنوبی امریکا کی نمائندہ تھی۔ یہ فرق معمولی نہیں، کیونکہ دونوں براعظموں کے کوالیفائنگ نظام ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔

یورپ کا نسبتاً آسان راستہ

یورپی کوالیفائرز میں 54 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ ہر گروپ کی فاتح ٹیم براہِ راست ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرتی ہے جبکہ باقی ٹیموں کو اضافی پلے آف مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسپین نے اپنے گروپ میں صرف 6 میچ کھیل کر ورلڈ کپ میں جگہ بنائی۔

فرانس نے بھی 6 میچ کھیلے۔ انگلینڈ کے گروپ میں ایک ٹیم زیادہ ہونے کے باعث اسے 8 میچ کھیلنے پڑے۔ یعنی یورپ کی تینوں بڑی ٹیموں نے زیادہ سے زیادہ 8 مقابلے کھیل کر ورلڈ کپ تک رسائی حاصل کر لی۔

ارجنٹینا کا امتحان

اب جنوبی امریکا کی طرف آتے ہیں۔ کونمبول کوالیفائرز دنیا کے مشکل ترین کوالیفائنگ نظاموں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ یہاں صرف 10 ٹیمیں شریک ہوتی ہیں، مگر ہر ٹیم ہوم اور اوے بنیاد پر ہر دوسری ٹیم کے خلاف کھیلتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ٹیم کو 18 میچ کھیلنے پڑتے ہیں۔

یعنی ارجنٹینا نے ورلڈ کپ تک پہنچنے کے لیے اسپین اور فرانس کے مقابلے میں 3 گنا جبکہ انگلینڈ کے مقابلے میں بھی دوگنے سے زیادہ میچ کھیلے۔ ارجنٹینا کے حریف صرف کمزور ٹیمیں نہیں تھیں بلکہ اس نے برازیل، یوراگوئے، کولمبیا، ایکواڈور، پیراگوئے، وینزویلا، پیرو، بولیویا اور چلی جیسی مضبوط ٹیموں کا سامنا کیا۔

یہ حقیقت اس دعوے کو کمزور کر دیتی ہے کہ ارجنٹینا کو ابتدا ہی سے کوئی غیر معمولی رعایت حاصل تھی۔

اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

اگر صرف کوالیفائرز کی تعداد دیکھی جائے تو تصویر بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ اسپین 6، فرانس 6، انگلینڈ 8، ارجنٹینا 18، یہ اعداد و شمار خود بتاتے ہیں کہ ورلڈ کپ تک پہنچنے کا راستہ ارجنٹینا کے لیے نسبتاً زیادہ طویل اور مشکل تھا۔

اس لیے اگر کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ فیفا ابتدا ہی سے ارجنٹینا کو خصوصی سہولتیں فراہم کر رہی تھی تو کم از کم کوالیفائرز کا ریکارڈ اس کی تائید نہیں کرتا۔

کیا واقعی ارجنٹینا کو آسان گروپ ملا تھا؟

کوالیفائنگ مرحلے کا جائزہ لینے کے بعد اب ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے کا تجزیہ کرتے ہیں، کیونکہ ارجنٹینا کے بارے میں ایک اور مقبول دعویٰ یہی تھا کہ اسے جان بوجھ کر نسبتاً آسان گروپ دیا گیا تاکہ وہ بغیر کسی مشکل کے ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچ جائے۔ لیکن کیا اعداد و شمار بھی یہی کہتے ہیں؟

ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل فیفا کی عالمی درجہ بندی کے مطابق ارجنٹینا پہلے، اسپین دوسرے، فرانس تیسرے اور انگلینڈ چوتھے نمبر پر تھے۔ یہ وہی 4 ٹیمیں تھیں جو بعد میں سیمی فائنل تک پہنچیں۔ اگر ان چاروں ٹیموں کے گروپس کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔

عالمی نمبر 3 فرانس کے گروپ میں سینیگال، ناروے اور عراق شامل تھے۔ اس وقت سینیگال عالمی درجہ بندی میں 14ویں، ناروے 31ویں جبکہ عراق 57ویں نمبر پر تھا۔

انگلینڈ، جو عالمی درجہ بندی میں چوتھے نمبر پر تھا، کروشیا، گھانا اور پاناما کے ساتھ گروپ میں شامل تھا۔ کروشیا 13ویں، پاناما 44ویں اور گھانا 65ویں نمبر پر موجود تھا۔

دوسری جانب اسپین کے گروپ میں یوراگوئے، کیپ ورڈے اور سعودی عرب تھے۔ یوراگوئے کی عالمی رینکنگ 16، سعودی عرب کی 58 اور کیپ ورڈے کی 64 تھی۔

اب ارجنٹینا کے گروپ پر نظر ڈالتے ہیں۔ عالمی نمبر ایک ارجنٹینا کے ساتھ آسٹریا، الجزائر اور اردن شامل تھے۔ ان میں آسٹریا 23ویں، الجزائر 29ویں جبکہ اردن 73ویں نمبر پر تھا۔

اگر صرف رینکنگ کی بنیاد پر موازنہ کیا جائے تو دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔ فرانس، انگلینڈ اور اسپین تینوں کو اپنے اپنے گروپس میں صرف ایک ایسی ٹیم کا سامنا کرنا پڑا جو عالمی درجہ بندی میں ٹاپ 30 کے اندر تھی۔

اس کے برعکس ارجنٹینا کے گروپ میں 2 ایسی ٹیمیں موجود تھیں جو عالمی رینکنگ کی پہلی 30 ٹیموں میں شامل تھیں، یعنی آسٹریا اور الجزائر۔

اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ارجنٹینا کا گروپ کم از کم کاغذی طاقت کے لحاظ سے اسپین، فرانس اور انگلینڈ کے مقابلے میں آسان نہیں تھا۔

ناک آؤٹ مرحلے کا دوسرا اعتراض

گروپ مرحلے کے بعد ایک اور اعتراض سامنے آیا کہ ارجنٹینا کو راؤنڈ آف 32 اور راؤنڈ آف 16 میں نسبتاً آسان حریف ملے۔ یہ اعتراض بھی پہلی نظر میں درست محسوس ہوتا ہے، لیکن جب ٹورنامنٹ کے فارمیٹ کو دیکھا جائے تو اس کی حقیقت مختلف نکلتی ہے۔

مثال کے طور پر راؤنڈ آف 32 میں ارجنٹینا کا مقابلہ کیپ ورڈے سے ہوا۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا فیفا نے جان بوجھ کر کیپ ورڈے کو ارجنٹینا کے سامنے لا کھڑا کیا؟ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

کیپ ورڈے اسی لیے ارجنٹینا کے سامنے آیا کیونکہ اپنے گروپ میں یوراگوئے اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی نہ کر سکا۔ اگر یوراگوئے اپنے گروپ سے آگے بڑھ جاتا تو ناک آؤٹ مرحلے میں ارجنٹینا کا سامنا کیپ ورڈے کے بجائے یوراگوئے سے ہوتا۔

اسی طرح راؤنڈ آف 16 میں ارجنٹینا کا مقابلہ مصر سے ہوا۔ اسے بھی ارجنٹینا کے لیے آسان راستہ قرار دیا گیا، لیکن یہاں بھی اصل وجہ ٹورنامنٹ کے نتائج تھے، نہ کہ کسی قسم کی منصوبہ بندی۔

پرتگال اپنے گروپ کا آخری میچ جیتنے میں ناکام رہا، جس کے باعث وہ گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل نہ کر سکا۔ اگر پرتگال گروپ فاتح بنتا تو ناک آؤٹ مرحلے میں ارجنٹینا کا سامنا مصر کے بجائے پرتگال سے ہوتا۔

یعنی ناک آؤٹ مرحلے میں ارجنٹینا کے سامنے آنے والے حریف کسی خفیہ منصوبے کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ دوسرے گروپس کے نتائج اور ٹیموں کی اپنی کارکردگی نے یہ راستہ متعین کیا۔

یہی ورلڈ کپ کا فارمیٹ ہے، جہاں ہر گروپ کا نتیجہ دوسرے گروپوں کے ناک آؤٹ مقابلوں کو متاثر کرتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ فیفا نے ارجنٹینا کے لیے جان بوجھ کر آسان راستہ بنایا، دستیاب حقائق اور ٹورنامنٹ کے نظام سے مطابقت نہیں رکھتا۔

کھیل، سیاست اور جذبات: کیا ہر حمایت نظریاتی ہوتی ہے؟

ورلڈ کپ 2026 کے دوران ایک اور بیانیہ بھی نمایاں رہا۔ بعض حلقوں نے ارجنٹینا کی مخالفت کو محض کھیل تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سیاسی اور نظریاتی رنگ دے دیا۔ سوشل میڈیا پر ایسے دعوے گردش کرتے رہے کہ ارجنٹینا اسرائیل کا حامی ہے، اس لیے اس کی ہر شکست قابلِ جشن ہے۔

یہ ایک جذباتی مؤقف ضرور ہو سکتا ہے، لیکن کیا کھیل کے میدان میں کسی ٹیم کی حمایت یا مخالفت صرف اسی بنیاد پر طے کی جا سکتی ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے جذبات سے ہٹ کر حقائق کو دیکھنا ضروری ہے۔

راؤنڈ آف 16 میں ارجنٹینا کا مقابلہ مصر سے ہوا۔ بہت سے لوگوں نے مصر کی حمایت اس بنیاد پر کی کہ وہ ایک مسلم اکثریتی ملک ہے۔ یہ ایک فطری جذباتی وابستگی ہو سکتی ہے، لیکن اگر سیاسی تعلقات کا معیار اپنایا جائے تو تصویر زیادہ پیچیدہ نظر آتی ہے۔

مصر ان اولین عرب ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات موجود ہیں، مشترکہ سرحد بھی ہے، اور خطے کے مختلف معاملات میں دونوں کے درمیان رابطے بھی جاری رہتے ہیں۔

یہ حقائق اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود دنیا بھر کے مسلمان مصر کو صرف انہی تعلقات کی بنیاد پر نہیں جانچتے۔

سیمی فائنل میں ارجنٹینا کا سامنا انگلینڈ سے ہوا۔ اگر کسی ملک کی خارجہ پالیسی کو ہی کھیل میں حمایت یا مخالفت کی بنیاد بنایا جائے تو پھر انگلینڈ کے بارے میں بھی وہی معیار اختیار کرنا ہوگا۔

برطانیہ ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اسرائیل کے قیام میں تاریخی کردار ادا کیا، اور آج بھی وہ اسرائیل کے اہم اتحادیوں میں شمار ہوتا ہے۔

اس کے باوجود فٹبال کے میدان میں لاکھوں لوگ انگلینڈ کی حمایت کرتے ہیں، اور ان کی اکثریت کا تعلق کسی سیاسی مؤقف سے نہیں بلکہ کھیل سے ہوتا ہے۔

فائنل میں اسپین ارجنٹینا کا حریف تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخی یادداشت میں اسپین کی ایک الگ حیثیت ہے۔ اندلس کی 8 صدیوں پر محیط مسلم تہذیب، سقوطِ غرناطہ اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات تاریخ کا حصہ ہیں۔

لیکن موجودہ دور میں جب لوگ اسپین کی حمایت کرتے ہیں تو ان کی اکثریت کی نظر تاریخ کے ان ابواب پر نہیں بلکہ میدان میں کھیلنے والی ٹیم کی کارکردگی پر ہوتی ہے۔

اسی طرح ارجنٹینا کے حامی بھی ہرگز ضروری نہیں کہ اس ملک کی ہر سیاسی پالیسی سے اتفاق کرتے ہوں۔ کھیل کو کھیل رہنے دیجیے، یہی نکتہ اس پوری بحث کا مرکز ہے۔

فٹبال کی ٹیمیں ریاستوں کی نمائندہ ضرور ہوتی ہیں، لیکن ہر تماشائی کی پسند یا ناپسند کو لازماً اس ملک کی خارجہ پالیسی سے جوڑ دینا درست نہیں۔ کوئی شخص کسی ٹیم کی حمایت اس کے کھیل، کھلاڑیوں، تاریخ، اندازِ کھیل یا ذاتی پسند کی وجہ سے بھی کر سکتا ہے۔

اسی طرح کسی ٹیم کی مخالفت کا حق بھی ہر شخص کو حاصل ہے، لیکن اس مخالفت کی بنیاد حقائق ہونے چاہییں، نہ کہ غیر مصدقہ دعوے یا سازشی نظریات۔ ورلڈ کپ جیسے عالمی مقابلے جذبات ضرور پیدا کرتے ہیں، مگر جذبات اگر تحقیق پر غالب آ جائیں تو حقیقت دھندلا جاتی ہے۔

فسانہ کہاں ختم ہوتا ہے اور حقیقت کہاں سے شروع ہوتی ہے؟

ہر بڑے عالمی کھیل کے ساتھ کچھ کہانیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ کچھ حقیقت پر مبنی ہوتی ہیں اور کچھ جذبات، قیاس آرائیوں یا سازشی نظریات کی پیداوار۔ ورلڈ کپ 2026 بھی اس سے مختلف نہیں تھا۔ ارجنٹینا کے بارے میں بھی یہی کہا گیا کہ فیفا اسے ہر قیمت پر چیمپیئن بنانا چاہتی ہے، ریفری اس کے حق میں فیصلے کرتے ہیں اور اس کے لیے ناک آؤٹ مرحلے تک آسان راستہ بنایا گیا۔

لیکن جب ان تمام دعوؤں کو جذبات کے بجائے حقائق کی کسوٹی پر پرکھا گیا تو تصویر مختلف دکھائی دی۔

ارجنٹینا نے یورپی طاقتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل کوالیفائنگ مرحلہ طے کیا۔ اس کے گروپ میں عالمی درجہ بندی کی دو مضبوط ٹیمیں موجود تھیں، جبکہ ناک آؤٹ مرحلے میں سامنے آنے والے حریف کسی خفیہ منصوبے کا نہیں بلکہ دوسرے گروپس کے نتائج کا منطقی نتیجہ تھے۔ اگر بعض ٹیمیں اپنے گروپس میں متوقع کارکردگی دکھاتیں تو ناک آؤٹ مرحلے کی شکل ہی مختلف ہوتی۔

پھر سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر واقعی پورا نظام ارجنٹینا کو عالمی چیمپیئن بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا تو وہ فائنل میں اسپین کے ہاتھوں کیوں شکست کھا گئی؟ اگر سب کچھ پہلے سے طے تھا تو گولڈن بال کا اعزاز لیونل میسی کے بجائے روڈری کے حصے میں کیوں آیا؟ ایسے سوالات ان تمام دعوؤں کو کمزور کر دیتے ہیں جو بغیر ثبوت کے پیش کیے جاتے رہے۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ فٹبال میں ریفریوں سے غلطیاں نہیں ہوتیں یا فیفا پر کبھی تنقید نہیں کی جا سکتی۔ کھیل کی تاریخ میں متنازع فیصلے بھی ہوئے ہیں، ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (VAR) کے باوجود کئی فیصلوں پر اختلاف بھی سامنے آتا ہے۔ لیکن کسی ایک یا دو فیصلے کی بنیاد پر پورے ٹورنامنٹ کو سازش قرار دینا تحقیق کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

جدید دور میں سوشل میڈیا نے معلومات کی ترسیل کو تیز ضرور کیا ہے، مگر اس کے ساتھ افواہیں اور نامکمل معلومات بھی اسی رفتار سے پھیلتی ہیں۔ ایک مختصر ویڈیو، ایک متنازع تصویر یا سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا کلپ چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں کی رائے بدل سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں تحقیق کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

فٹبال کی خوبصورتی بھی یہی ہے کہ میدان میں صرف نام، تاریخ یا شہرت نہیں جیتتی بلکہ اس دن بہتر کھیلنے والی ٹیم کامیاب ہوتی ہے۔ اگر صرف پسندیدہ ٹیموں کو ہی جتوانا مقصود ہوتا تو نہ مراکش جیسی ٹیمیں سیمی فائنل تک پہنچتیں، نہ کیپ ورڈے جیسی نووارد ٹیمیں عالمی چیمپیئن ارجنٹینا کو اضافی وقت تک گھسیٹتیں، اور نہ ہی اسپین فائنل میں ارجنٹینا کو شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کرتا۔

کھیل کا حسن اس کی غیر یقینی کیفیت میں ہے۔ یہی غیر یقینی کیفیت اسے دنیا کا مقبول ترین کھیل بناتی ہے۔

شاید اسی لیے ضروری ہے کہ ہم ہر بڑے مقابلے کو جذبات، تعصب یا سازشی نظریات کی عینک سے دیکھنے کے بجائے حقائق، اعداد و شمار اور کھیل کے اصولوں کی روشنی میں پرکھیں۔ اختلاف رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن تحقیق کا تقاضا یہ ہے کہ ہر دعوے کو ثبوت کے ساتھ جانچا جائے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ورلڈ کپ 2026 نے صرف ایک نئے عالمی چیمپیئن کو جنم نہیں دیا، بلکہ ایک بار پھر یہ سبق بھی دیا کہ فسانے ہمیشہ دلکش ہوتے ہیں، مگر تاریخ اور اعداد و شمار اکثر ان کی تردید کر دیتے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی سی بی کا نیا ورک لوڈ سسٹم فاسٹ بولرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، نسیم شاہ

یوکرین جنگ کے بعد خلا میں عسکری سرگرمیوں پر عالمی خدشات بڑھ گئے

شہزادہ چارلس اور شہزادی ڈیانا کے ہنی مون کی تلخ یادیں سامنے آگئیں

بھارت کا اسرائیل کو فراہم کردہ اسلحہ غزہ جنگ میں استعمال ہو رہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

کینسر علاج میں اہم پیشرفت، 58 سالہ خاتون کو جدید مدافعتی تھراپی دی گئی

ویڈیو

لائیوبلوچستان میں ترقی روکنے کے لیے دہشتگردی کی جاتی ہے، احساسِ محرومی اور نمائندگی کا بیانیہ حقائق کے منافی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘