واٹس ایپ نے صارفین کی مین چیٹ لسٹ کو غیر ضروری بزنس پیغامات سے پاک رکھنے کے لیے’آفرز اینڈ اَپ ڈیٹس ‘ کے نام سے الگ فولڈر کی آزمائش شروع کر دی ہے۔
اس فیچر کے تحت بڑی کمپنیوں کے پیغامات مقررہ وقت کے بعد خودکار طور پر علیحدہ فولڈر میں منتقل ہو جائیں گے، جبکہ صارفین اسے بند کرنے کا اختیار بھی رکھیں گے۔
بڑی کمپنیوں کے پیغامات خودکار طور پر منتقل ہوں گے
واٹس ایپ ایک ایسے نئے فیچر کی آزمائش کر رہا ہے جس کا مقصد صارفین کی ذاتی اور گروپ چیٹس کو منظم رکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ کے یوزرنیم فیچر نے کئی ممالک کو پریشان کردیا، صومالیہ بھی بول پڑا، خدشات کیا ہیں؟
اس فیچر کے تحت بینکوں، ایئرلائنز، ریٹیلرز اور دیگر بڑی کمپنیوں کے پیغامات خودکار طور پر ’آفرز اینڈ اَپ ڈیٹس‘ نامی الگ فولڈر میں منتقل کر دیے جائیں گے تاکہ مین ان باکس کم مصروف اور زیادہ منظم رہے۔
منتقلی کا وقت مختلف ہوگا
میٹا کے مطابق اس فیچر کی مختلف اوقات کے ساتھ آزمائش جاری ہے۔ بعض صورتوں میں بزنس پیغامات چند گھنٹوں بعد جبکہ بعض میں 24 گھنٹے گزرنے کے بعد نئے فولڈر میں منتقل ہوں گے۔
تاہم صارفین اس فیچر کو مکمل طور پر بند کر سکتے ہیں، البتہ پیغامات منتقل ہونے کے وقت میں اپنی مرضی سے تبدیلی کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
ابتدائی مرحلے میں محدود کاروباری شراکت دار شامل
فی الحال اس فیچر کی آزمائش صرف واٹس ایپ بزنس پلیٹ فارم استعمال کرنے والے منتخب شراکت داروں کے ساتھ کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں:واٹس ایپ پر آن لائن صارفین کی شناخت آسان، ’گرین ڈاٹ‘ فیچر کی آزمائش شروع
چھوٹے کاروبار اور انفرادی واٹس ایپ بزنس اکاؤنٹس اس سہولت میں شامل نہیں، تاہم میٹا کا کہنا ہے کہ آزمائشی نتائج کی بنیاد پر مستقبل میں اس دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔
مین ان باکس کو غیر ضروری پیغامات سے پاک رکھنے کی کوشش
میٹا کے مطابق پروموشنل آفرز، ڈلیوری نوٹیفکیشنز اور اسی نوعیت کے دیگر بزنس پیغامات کو الگ فولڈر میں منتقل کرنے سے صارفین کی مین چیٹ لسٹ کم بوجھل ہوگی، جبکہ ضرورت پڑنے پر اہم کاروباری پیغامات تک رسائی بھی آسان رہے گی۔
یہ اقدام واٹس ایپ کی جانب سے کاروباری پیغامات کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ کمپنی 2024 سے صارفین کو مارکیٹنگ پیغامات سے ان سبسکرائب ہونے کی سہولت، کاروباری براڈکاسٹ پیغامات کی تعداد محدود کرنے اور صارف کے جواب کے بغیر بار بار پیغامات بھیجنے پر پابندیاں متعارف کرا چکی ہے۔














