بلوچستان حکومت میں ایک نئی سیاسی ہلچل اس وقت پیدا ہوگئی جب مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر خوراک نور محمد دمڑ نے چند صحافیوں کو پیغام بھیج کر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے فیصلے سے آگاہ کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: نور محمد دمڑ کو قومی اقتصادی کونسل اجلاس میں شرکت مہنگی پڑگئی
نور محمد دمڑ نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ استعفے کی وجوہات سے متعلق جلد پریس کانفرنس کریں گے اور عوام کو اپنے فیصلے کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔
دوسری جانب وی نیوز نے معاملے کی تصدیق کے لیے حکومتی ذرائع سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ خبر سامنے آنے تک نہ گورنر ہاؤس اور نہ ہی وزیراعلیٰ ہاؤس کو نور محمد دمڑ کا باضابطہ استعفیٰ موصول ہوا تھا۔
تاہم مسلم لیگ (ن) کے ایک سینیئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وی نیوز کو بتایا کہ نور محمد دمڑ گزشتہ کچھ عرصے سے پارٹی کے بعض وزرا سے شدید نالاں ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کے انتخابی حلقے کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت کی جا رہی ہے جس سے نہ صرف ان کی سیاسی حیثیت متاثر ہو رہی ہے بلکہ کارکنوں میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے۔
مزید پڑھیے: سندھ اور بلوچستان حکومت پانی کی تقسیم پر متفق، فارمولا کیا ہوگا؟
مزید برآں دیگر ذرائع کا بھی کہنا ہے کہ نور محمد دمڑ اپنی موجودہ وزارت سے بھی مطمئن نہیں تھے۔ ان کے قریبی حلقوں کے مطابق وہ خود کو حکومت کے سینئر وزرا میں شمار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہیں زیادہ اہم اور بااختیار وزارت دی جانی چاہیے تھی۔
ذرائع یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ حکومت کی تشکیل کے وقت انہیں سنجاوی کو ضلع کا درجہ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی تاہم یہ وعدہ اب تک عملی شکل اختیار نہیں کرسکا، جس کے باعث ان کی ناراضی میں اضافہ ہوا۔
اگرچہ ان تمام وجوہات کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی تاہم نور محمد دمڑ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی پریس کانفرنس میں استعفے اور اس کے پس منظر سے متعلق تمام حقائق عوام کے سامنے رکھیں گے۔
مزید پڑھیں: ایم کیو ایم، ق لیگ اور بلوچستان عوامی پارٹی کا دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم
سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ اگر نور محمد دمڑ واقعی استعفیٰ دے دیتے ہیں تو یہ بلوچستان حکومت اور مسلم لیگ (ن) دونوں کے لیے ایک اہم سیاسی دھچکا ثابت ہوسکتا ہے۔ بظاہر یہ معاملہ صرف ایک وزارت چھوڑنے کا نہیں بلکہ حکومتی اتحاد کے اندر اختیارات، سیاسی اثرورسوخ اور وعدوں کی تکمیل سے جڑے اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔
بلوچستان کی مخلوط حکومت پہلے ہی مختلف اتحادی جماعتوں اور گروپوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے چیلنج سے دوچار ہے۔
ایسے میں اگر ایک سینیئر وزیر کھل کر حکومتی فیصلوں، حلقے میں مداخلت یا سیاسی وعدوں کی عدم تکمیل پر مؤقف اختیار کرتے ہیں تو اس کے اثرات کابینہ کے اندر دیگر ناراض ارکان پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین سمجھتے ہیں کہ اب اصل توجہ نور محمد دمڑ کی متوقع پریس کانفرنس پر ہوگی۔ اگر ان کے تحفظات صرف وزارت یا حلقے تک محدود ہوئے تو معاملہ سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل ہونے کا امکان موجود ہے تاہم اگر انہوں نے حکومتی پالیسیوں یا اتحادی سیاست پر کھل کر تنقید کی تو یہ بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک نئے بحران کا آغاز بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان کی اقتصادی ترقی مسلم لیگ ن کے وژن کا بنیادی ستون ہے، احسن اقبال
فی الوقت تمام نظریں نور محمد دمڑ کی پریس کانفرنس پر مرکوز ہیں جو یہ واضح کرے گی کہ آیا یہ استعفیٰ محض دباؤ بڑھانے کی سیاسی حکمت عملی ہے یا واقعی بلوچستان کابینہ میں ایک بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔










