شمالی افریقہ میں واقع اسپین کے خودمختار علاقے سیوٹا میں مہاجرین کے غیرمعمولی بحران کے بعد اٹلی نے اسپین کے ساتھ اپنی سرحدیں عارضی طور پر بند کردی ہے۔
اس اقدام کے باعث شینگن معاہدے کے تحت آزادانہ آمدورفت معطل کر دی گئی ہے، جبکہ فرانس نے بھی اسپین سے ملحق اپنی سرحد پر سیکیورٹی سخت کر دی ہے۔
اطالوی وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً 60 ہزار افراد مراکش سے سیوٹا میں داخل ہوئے، جس سے علاقے کی انتظامیہ شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسپین کے علاقے سیوٹا میں مہاجرین کا سیلاب، مراکش سے ہزاروں افراد سرحد عبور کر گئے
یہ صورتحال اسپین کی سپریم کورٹ کے اس حالیہ فیصلے کے بعد پیدا ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ اسپینی حدود میں داخل ہونے والے مہاجرین کو فوری طور پر واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔
بحران کے دوران مراکش سے سیوٹا پہنچنے کی کوشش میں کم از کم 57 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں زیادہ تر وہ تھے جو سرحدی باڑ عبور کرنے یا سمندر کے راستے تیر کر علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
🚨 NOW: Italy has just SHUT OFF its borders from Spain after tens of thousands of African savages invaded Ceuta
Free travel flow is now SUSPENDED from Spain to Italy
The FULL solution MUST be historic, mass deportations!
FOLLOW ME, THE NEXT DROP WILL BE SHOCKING. pic.twitter.com/c4gJWYmSeo
— Ed Bradley 🇺🇸 (@Ed_Bradley) July 31, 2026
اٹلی کے نائب وزیراعظم انتونیو تاجانی نے کہا کہ شینگن معاہدے کی عارضی معطلی یورپی سرحدوں کے تحفظ اور شہریوں کی سلامتی کے لیے ناگزیر اقدام ہے۔
ان کے بقول غیرقانونی ہجرت پر قابو پانا یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
مزید پڑھیں: یورپی یونین نے روس پر پابندیوں کا 21واں پیکج منظور کر لیا
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے ہنگامی طور پر سیوٹا کا دورہ کیا اور اس صورتحال کو اسپین کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں یورپی ممالک کو تقسیم ہونے کے بجائے یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
اسپینی حکام کے مطابق جمعہ تک تقریباً 48 ہزار مہاجرین کو واپس مراکش بھیجا جا چکا تھا، جبکہ امن و امان کی صورتحال قابو میں لانے کے لیے فوج کو بھی سیوٹا تعینات کر دیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ مراکش کے ساتھ مل کر غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کی جلد واپسی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب فرانس نے بھی ممکنہ اثرات کے پیش نظر اسپین سے ملحق اپنی سرحد پر نگرانی مزید سخت کر دی ہے اور اضافی بارڈر فورس تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سیوٹا، جس کی آبادی تقریباً 83 ہزار نفوس پر مشتمل ہے، افریقی مہاجرین کے لیے یورپ میں داخلے کا ایک اہم راستہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ مراکش آج بھی سیوٹا اور میلیلا پر اسپین کی خودمختاری کو تسلیم نہیں کرتا۔











