الیکٹرک گاڑیوں کا خواب کیوں ادھورا ہے، پاکستان میں بڑی رکاوٹیں کونسی؟

ہفتہ 1 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں مہنگے درآمدی ایندھن، بڑھتی فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کو مستقبل کی ماحول دوست ٹرانسپورٹ قرار دیا جا رہا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ چارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی، گاڑیوں کی بلند قیمت، آسان فنانسنگ کی عدم دستیابی اور پالیسیوں پر سست عمل درآمد کے باعث یہ ٹیکنالوجی تاحال عام شہری، خصوصاً موٹرسائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں، ڈیلیوری رائیڈرز اور کم آمدنی والے طبقے کی پہنچ سے دور ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا الیکٹرک وہیکل سیکٹر ترقی کی راہ پر گامزن، مینوفیکچرز کو اسمبلنگ کے لیے لائسنس جاری

پاکستان ہر سال تقریباً 17 سے 18 ارب امریکی ڈالر مالیت کی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے جبکہ ملک میں گرین ہاؤس گیسوں کے مجموعی اخراج میں ٹرانسپورٹ سیکٹر کا حصہ تقریباً 23 فیصد ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حکومت نے نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے مختلف اہداف مقرر کیے ہیں، تاہم زمینی سطح پر پیشرفت ابھی بھی توقعات کے مطابق نہیں ہو سکی۔

سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کو ماحول دوست بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ الیکٹرک گاڑیاں شہری فضائی آلودگی اور کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی لا سکتی ہیں۔ تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے چارجنگ اسٹیشنز، قابلِ تجدید توانائی، گرین فنانسنگ اور مؤثر حکومتی پالیسیوں پر بیک وقت سرمایہ کاری اور ان پر مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہے۔

اس کے باوجود چارجنگ اسٹیشنز کی محدود تعداد، الیکٹرک گاڑیوں کی بلند قیمت، بجلی کی غیر یقینی فراہمی اور آسان اقساط پر مالی سہولتوں کی کمی کے باعث لاکھوں پاکستانی اب بھی روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔

الیکٹرک اسکوٹی استعمال کرنے والی پروشہ کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل تک وہ روزانہ پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرتی تھیں جس پر ان کے کافی اخراجات آتے تھے۔ تاہم الیکٹرک اسکوٹی خریدنے کے بعد ان کے سفری اخراجات میں نمایاں کمی آئی ہے اور اب وہ بچنے والی رقم اپنی دیگر ضروریات پر خرچ کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ الیکٹرک اسکوٹی نے نہ صرف ان کے روزمرہ سفر کو آسان بنایا بلکہ وقت کی بھی بچت ہوئی، کیونکہ انہیں پبلک ٹرانسپورٹ کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ ان کے بقول خواتین کے لیے الیکٹرک اسکوٹی ایک محفوظ، آرام دہ اور کم خرچ سفری ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔

پروشہ نے دیگر خواتین، خصوصاً طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین، کو مشورہ دیا کہ اگر ان کے لیے ممکن ہو تو پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار کم کرتے ہوئے الیکٹرک اسکوٹی یا دیگر الیکٹرک ذرائع آمدورفت اختیار کریں، کیونکہ اس سے نہ صرف ماہانہ سفری اخراجات میں کمی آتی ہے بلکہ وقت کی بچت اور سفر میں سہولت بھی حاصل ہوتی ہے۔

جولٹا الیکٹرک کے نمائندے فیضان چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کو متبادل سفری ذرائع اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے جس کے باعث الیکٹرک بائیکس کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ان کے مطابق حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اسکیموں نے بھی اس رجحان کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں صارفین نے الیکٹرک بائیکس خریدیں تاکہ اپنے روزمرہ سفری اخراجات میں کمی لا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ جولٹا پاکستان میں الیکٹرک بائیکس متعارف کرانے والی ابتدائی کمپنیوں میں شامل ہے اور اس نے ملک میں الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق الیکٹرک بائیکس اب صرف ذاتی استعمال تک محدود نہیں رہیں بلکہ ہزاروں افراد کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی بن چکی ہیں۔

فیضان چوہدری نے کہا کہ آن لائن رائیڈ ہیلنگ سروسز اور فوڈ ڈیلیوری سے وابستہ بڑی تعداد میں رائیڈرز اپنی روایتی موٹر سائیکلوں کو الیکٹرک بائیکس سے تبدیل کر رہے ہیں کیونکہ اس سے ایندھن کے اخراجات میں نمایاں کمی آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے تناظر میں الیکٹرک بائیکس عام شہری کے لیے نسبتاً کم خرچ اور قابل عمل متبادل بن کر سامنے آ رہی ہیں اور اگر حکومت مراعات اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں مزید بہتری لائے تو اس شعبے میں ترقی کی رفتار مزید تیز ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان میں سستی اور تیز ترین الیکٹرک بائیکس متعارف

ایس ڈی پی آّئی سے وابستہ انجینیئر عبید ضیا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کا شعبہ گزشتہ دو برسوں کے دوران نمایاں ترقی کر چکا ہے۔

ان کے مطابق اس پیش رفت کے پیچھے مارکیٹ سے ملنے والے مثبت اشارے اور حکومت کی سازگار پالیسیوں کا اہم کردار ہے جنہیں وزارتِ صنعت و پیداوار، انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کاوشوں سے عملی شکل ملی۔

انہوں نے کہا کہ ان پالیسیوں کے نتائج اب زمینی سطح پر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ سڑکوں پر الیکٹرک دو پہیوں والی گاڑیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ان کی مقامی مارکیٹ بھی تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔

ان کے بقول جس طرح پاکستان میں سولر فوٹو وولٹک نظام اور بیٹری ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا ہے اسی طرح الیکٹرک گاڑیاں بھی تیزی سے ایک مؤثر متبادل کے طور پر ابھر رہی ہیں جو عوام کو فوسل فیول کی بڑھتی اور غیر یقینی قیمتوں کے اثرات سے بچانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان الیکٹرک وہیکل سیکٹر میں اہم سنگ میل، مقامی طور پر اسمبل الیکٹرک کاریں لانچ

انجینیئر عبید ضیا کے مطابق اس مثبت رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کے پورے ماحولیاتی نظام کی ترقی کے لیے سرمایہ کاری اور مالی وسائل کو متحرک کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ملک بھر میں چارجنگ اسٹیشنز اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کی توسیع کے ساتھ ساتھ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی ویلیو چین کو مقامی سطح پر فروغ دینا بھی ناگزیر ہے۔

کلائمیٹ ایکسپرٹ شیبا گل کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیاں فضائی آلودگی میں کمی لانے کے لیے ایک مؤثر متبادل ضرور ہیں تاہم پاکستان میں چارجنگ اسٹیشنز کی تعداد نہایت محدود ہے جبکہ ان گاڑیوں کی قیمتیں عام آدمی کی استطاعت سے باہر ہیں۔

ان کے مطابق یہ بھی ضروری ہے کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ الیکٹرک گاڑیوں کو چارج کرنے کے لیے استعمال ہونے والی بجلی کن ذرائع سے پیدا کی جا رہی ہے کیونکہ اگر بجلی تیل، گیس یا کوئلے سے پیدا ہو رہی ہو تو ماحولیاتی فوائد محدود رہ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں الیکٹرک گاڑیوں میں سرمایہ کاری زیادہ تر مالی طور پر مضبوط طبقہ ہی کر سکتا ہے جو آبادی کا ایک محدود حصہ ہے۔

ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ چین کی طرز پر الیکٹرک گاڑیوں پر سبسڈی دے اور پرانی گاڑیوں کے بدلے نئی الیکٹرک گاڑیاں فراہم کرنے کے لیے وہیکل ایکسچینج پالیسی متعارف کرائے تاکہ متوسط اور کم آمدنی والے افراد بھی  اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں۔

یہ بھی پڑھیے: الیکٹرک گاڑیوں و متعلقہ ٹیکنالوجی میں چین سب سے آگے، عالمی کار ساز کمپنیاں سخت دباؤ کا شکار

شیبا گل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ حکومت کو ایندھن کی قیمتوں پر مؤثر کنٹرول اور پیٹرولیم مصنوعات کے معیار کی سخت نگرانی بھی کرنی چاہیے۔ ان کے بقول پاکستان میں فروخت ہونے والے ایندھن کا معیار بہتر بنایا جائے تو اس سے بھی فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب ماہر ماحولیات حسن بن سادات کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عوام کا رجحان الیکٹرک بائیکس اور الیکٹرک گاڑیوں کی جانب واضح طور پر بڑھا ہے۔

ان کے مطابق متعدد کمپنیوں کی الیکٹرک بائیکس کی فروخت اس قدر بڑھی کہ بعض ماڈلز عارضی طور پر مارکیٹ میں دستیاب ہی نہیں رہے، جبکہ طلبہ، نوجوانوں اور روزانہ سفر کرنے والے افراد نے بڑی تعداد میں الیکٹرک بائیکس خریدیں۔

حسن بن سادات کے مطابق الیکٹرک بائیکس نہ صرف فضائی اور شور کی آلودگی میں کمی کا باعث بنتی ہیں بلکہ ان کی دیکھ بھال کے اخراجات بھی روایتی موٹر سائیکلوں کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر صارفین کے گھروں میں سولر سسٹم موجود ہو تو وہ اپنی بائیکس کو شمسی توانائی سے چارج کر کے ایندھن کے اخراجات مزید کم کر سکتے ہیں تاہم الیکٹرک وہیکلز کے حقیقی ماحولیاتی فوائد اسی وقت حاصل ہوں گے جب بجلی کی پیداوار بھی قابلِ تجدید ذرائع، خصوصاً شمسی اور ہوائی توانائی، سے کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت بڑے پیمانے پر الیکٹرک وہیکلز کو فروغ دینا چاہتی ہے تو اسے چارجنگ انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ صاف توانائی کے منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ بصورت دیگر اگر بجلی کی پیداوار کا انحصار فوسل فیول پر برقرار رہا تو الیکٹرک گاڑیوں کے ماحولیاتی فوائد محدود رہ جائیں گے۔

مزید پڑھیں: کیا آپ بھی اپنی لینڈ روور کو الیکٹرک وہیکل میں تبدیل کروانا چاہتے ہیں؟

حسن بن سادات نے پنجاب حکومت کے لاہور میں رینٹل الیکٹرک بائیکس منصوبے کو مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے تحت شہر میں تقریباً 300 ڈاکنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے جہاں شہری بائیکس کرائے پر لے کر سفر مکمل کرنے کے بعد کسی بھی مقررہ اسٹیشن پر واپس جمع کرا سکیں گے۔ ان کے مطابق دنیا کے مختلف شہروں، خصوصاً دبئی، میں یہ نظام کامیابی سے چل رہا ہے اور اگر اسے مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو شہری آمدورفت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کی ماہر ڈاکٹر عافیہ سلیم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافہ چارجنگ اسٹیشنز کی محدود تعداد کے باعث سست رفتاری سے ہوا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان پیرس معاہدے کا دستخط کنندہ ملک ہے، اس لیے ماحولیاتی آلودگی اور کاربن اخراج میں کمی کے لیے متبادل ذرائع اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ دوسری جانب پنجاب میں ہر سال سردیوں کے موسم میں شدید سموگ کے باعث صحت، معیشت اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو پہنچنے والے نقصانات نے بھی لوگوں کو یہ احساس دلایا ہے کہ اب روایتی ایندھن سے ہٹ کر صاف توانائی کی جانب منتقل ہونا ضروری ہے۔

ڈاکٹر عافیہ سلیم کا کہنا تھا کہ جب تک ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ کا دائرہ وسیع نہیں ہوگا اور اسے قابلِ تجدید یا ماحول دوست توانائی، جیسے الیکٹرک گاڑیوں یا بایومی تھین پر منتقل نہیں کیا جائے گا، ای ویز کا استعمال تیزی سے فروغ نہیں پا سکے گا۔

انہوں نے کراچی ریڈ لائن منصوبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے متبادل نظام ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ رجسٹریشن موٹر سائیکلوں کی ہوتی ہے جبکہ الیکٹرک موٹر سائیکلیں ابھی عام آدمی کی پہنچ میں نہیں آئیں۔

ان کے بقول جب تک ان کی قیمتیں کم نہیں ہوتیں، چارجنگ کی سہولیات عام نہیں ہوتیں اور بڑے پیمانے پر استعمال کے باعث معاشی فوائد پیدا نہیں ہوتے اس وقت تک الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی مطلوبہ رفتار سے ممکن نہیں ہوگی۔

مزید پڑھیے: پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کا مستقبل

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی جانب بڑھتا ہوا رجحان ماحول، معیشت اور توانائی کے شعبے کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، تاہم اس تبدیلی کو کامیاب بنانے کے لیے حکومت کو سستی فنانسنگ، سبسڈی، چارجنگ اسٹیشنز کے قیام، قابل تجدید توانائی کے فروغ اور معیاری ایندھن کی فراہمی جیسے بنیادی چیلنجز پر فوری توجہ دینا ہوگی تاکہ الیکٹرک گاڑیاں صرف خوشحال طبقے تک محدود رہنے کے بجائے عام شہری کی بھی پہنچ میں آ سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp