آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال، خلیجی ممالک متبادل برآمدی نیٹ ورک کی تشکیل میں مصروف

ہفتہ 1 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لندن: آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کے باعث خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک نے خام تیل کی برآمد کے متبادل راستے تیزی سے تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جس کے تحت متعدد نئی پائپ لائنوں کے منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے یا پہلے سے موجود منصوبوں کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  آبنائے ہرمز پر انحصار ختم کرنے کے لیے مقامی سطح پر تیل کی تلاش شروع کرنے پر کام ہورہا ہے، وزیر پیٹرولیم

بین الاقوامی توانائی ایجنسی یعنی آئی ای اے کے مطابق 2025 کے دوران آبنائے ہرمز کے ذریعے یومیہ تقریباً 1 کروڑ 49 لاکھ 50 ہزار بیرل خام تیل برآمد کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے اس عرصے میں یومیہ تقریباً 16 لاکھ 90 ہزار بیرل تیل برآمد کیا اور امکان ہے کہ وہ طویل مدت تک آبنائے ہرمز ہی پر انحصار کرے گا کیونکہ اس آبی گزرگاہ پر اس کا مؤثر کنٹرول موجود ہے۔

برطانوی شپ بروکریج کمپنی بی آر ایس شپ بروکر کے ماہر اینڈریو ولسن کے مطابق ایران اپنی زیادہ سے زیادہ پیداوار جاری رکھتے ہوئے چین کو تیل برآمد کرتا رہے گا، اس لیے اس کے لیے متبادل راستوں کی فوری ضرورت نہیں۔

دوسری جانب ایران کے علاوہ خلیجی ممالک کی یومیہ 1 کروڑ 32 لاکھ 60 ہزار بیرل برآمدات میں سے تقریباً 1 کروڑ 15 لاکھ بیرل تیل موجودہ پائپ لائنوں کی مکمل استعداد استعمال کرنے اور مجوزہ منصوبے مکمل ہونے کے بعد متبادل راستوں سے منتقل کیا جا سکے گا۔

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

جنگ سے قبل متحدہ عرب امارات یومیہ تقریباً 11 لاکھ بیرل خام تیل ابوظہبی کروڈ آئل پائپ لائن یعنی ایڈکوپ کے ذریعے فجیرہ کی بندرگاہ تک منتقل کرتا تھا، جو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر خلیج عمان تک پہنچتی ہے۔

اس پائپ لائن کی مجموعی گنجائش 18 لاکھ بیرل یومیہ ہے، جس میں مزید 7 لاکھ بیرل یومیہ اضافی صلاحیت موجود ہے۔

مزید پڑھیں: ’اسلام آباد ایم او یو‘ کیا امن کا عارضی وقفہ ہے، آبنائے ہرمز کا معاملہ سب سے زیادہ اہمیت کیوں اختیار کر گیا ہے؟

امارات نے مئی میں اعلان کیا تھا کہ وہ موجودہ پائپ لائن کے متوازی ایک دوسری پائپ لائن کی تعمیر تیز کر رہا ہے، جو ملک کے شمالی ساحل تک جائے گی اور آبنائے ہرمز کے شمال میں پیدا ہونے والے خام تیل کو بھی متبادل راستے سے برآمد کرنے کی سہولت دے گی۔

ابوظہبی میڈیا آفس کے مطابق اس منصوبے سے فجیرہ کے ذریعے تیل برآمد کرنے کی صلاحیت دوگنی ہو جائے گی اور اسے آئندہ سال فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: چین نے آبنائے ہرمز کھولنے میں مدد کی پیشکش کی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی محکمہ خارجہ نے جولائی میں بتایا تھا کہ عراق کے تیل کے ذخائر کو شام کے بحیرہ روم کے ساحل سے ملانے والی اہم پائپ لائن بحال کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔

واشنگٹن کے مطابق ایک بین الاقوامی کنسورشیم اس منصوبے کے تکنیکی اور مالیاتی امور کی نگرانی کر رہا ہے، جس کی ابتدائی گنجائش 20 لاکھ بیرل یومیہ ہوگی۔

تاہم اس منصوبے کی تکمیل کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی، جبکہ سیاسی اور سرمایہ کاری سے متعلق مشکلات اس میں تاخیر کا باعث بن سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp