امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے ایران کے ساتھ تعلقات اور اسٹریٹجک واٹر وے، آبنائے ہرمز، کھولنے میں بیجنگ کی مدد پیش کی اور واشنگٹن کو یقین دلایا کہ چین ایران کو فوجی ساز و سامان فراہم نہیں کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کا دورہ چین: امریکا اور چین کے تعلقات دنیا کی تاریخ کے سب سے اہم تعلقات میں سے ایک ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
ٹرمپ نے جمعرات کو بیجنگ میں شی کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ چینی رہنما نے اس اہم پانی کے راستے کو کھلا رکھنے کی حمایت ظاہر کی اور ضرورت پڑنے پر مدد کی پیشکش کی۔
ٹرمپ کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ وہ فوجی ساز و سامان نہیں دیں گے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید بتایا کہ ’شی پنگ نے کہا کہ میں آبنائے ہرمز کو کھلا دیکھنا چاہتا ہوں اور اگر میں کسی بھی طرح مدد کر سکتا ہوں تو میں ضرور مدد کرنا چاہوں گا‘۔
آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم توانائی کے شپنگ راستوں میں سے ایک ہے جو عالمی تیل کی بڑی مقدار کی ترسیل کا ذریعہ ہے۔
امریکی ردعمل اور پالیسی
ادھر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن چین کی مدد طلب نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اور شی نے ہرمز کے حوالے سے مشترکہ مفاہمت حاصل کی ہے۔
روبیو نے این بی سی کو بتایا کہ ہم چین کی مدد طلب نہیں کر رہے اور ہمیں ان کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔
مزید پڑھیے: صدر ٹرمپ کا دورۂ چین، شی جن پنگ کا امریکا کو شراکت داری کا پیغام
صدر ٹرمپ اس وقت چین کے سرکاری دورے پر ہیں جہاں انہوں نے گریٹ ہال آف دی پیپل میں شی جن پنگ کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کیے۔
ٹرمپ نے ملاقات کے دوران کہا کہ یہ اعزاز ہے کہ میں آپ کے ساتھ ہوں، یہ اعزاز ہے کہ میں آپ کا دوست ہوں اور چین اور امریکا کے تعلقات پہلے سے بھی بہتر ہوں گے۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطی کے تنازعات، یوکرین کی جنگ اور کوریا کے خطے میں ترقیات پر بات چیت کی۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں
دوسری جانب پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار نے کہا کہ اسلام آباد فعال سفارت کاری اور علاقائی امن و استحکام کے لیے پرعزم ہے۔
China's Xi 'would like to see a deal made' to open the Hormuz Strait — Trump
'He did offer, he said: if I can be of any help at all, I would like to be of help' pic.twitter.com/kOXD3HKagK
— RT (@RT_com) May 14, 2026
اسلام آباد میں ایک ریجنل اینوائز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈار نے کہا کہ خطے اور دنیا میں بدلتی ہوئی صورتحال کے باوجود پاکستان فعال سفارت کاری، مضبوط علاقائی شراکت داری، اقتصادی تعاون اور امن و استحکام کے لیے پرعزم ہے۔
پاکستان نے 8 اپریل کو ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالثی کی جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات اسلام آباد میں ہوئے۔
چینی صدر کی پاکستان کی تعریف
بدھ کو چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بھی فون پر اسحاق ڈار سے بات چیت میں پاکستان کی ثالثی کے کردار کو سراہا۔
مزید پڑھیں: کیا آپ نے چین کے دورے پر موجود ڈونلڈ ٹرمپ کے وفد پر غور کیا ہے؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس ہفتے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ وہ بہت اچھے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی واقعی شاندار رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فیلڈ مارشل عامر منیر اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بہترین کام کیا۔














