وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ ہم مقامی کمپنیوں کو تیل کی تلاش میں متحرک کرنے جارہے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز یا کسی اور پر ہم منحصر نہ ہوں، مقامی طور پر ذرائع تلاش کرنے پر کام ہو رہا ہے، اور ہمارے پاس کافی کمرشل ذخائر موجود ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام میں بنیادی تبدیلی لا رہی ہے، جس کے تحت آئندہ قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے شفافیت، مسابقت اور صارفین کو فوری ریلیف یقینی بنایا جا سکے گا جبکہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ ماضی میں ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتوں میں ردوبدل ہونے کی وجہ سے بعض عناصر مصنوعی قلت پیدا کرتے، عوام کو پیٹرول کی فراہمی محدود کر دیتے اور ناجائز منافع کماتے تھے۔
انہوں نے کہاکہ نئے نظام کے تحت قیمتوں میں کمی یا اضافہ فوری طور پر عوام تک منتقل ہوگا، جس سے مارکیٹ زیادہ شفاف اور متوازن بنے گی۔
صنعتی نمائندوں نے حکومتی اقدام کا خیرمقدم کیا
علی پرویز ملک نے کہاکہ پیٹرولیم انڈسٹری کے بڑے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ متعدد اجلاس ہوئے ہیں اور زیادہ تر شرکا نے حکومت کے مجوزہ نظام کی حمایت کی ہے۔ ان کے مطابق حکومت ایسے مستقل انتظامات کر رہی ہے جن سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں میں بہتری آئے گی بلکہ صارفین کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے کہاکہ وہ خود آئل انڈسٹری کے نمائندوں کے ساتھ مزید مشاورتی اجلاس کریں گے اور اگر کسی فریق کو تحفظات ہوں گے تو انہیں دور کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک جامع مشاورت کے بعد پیٹرول پمپ مالکان کے تحفظات بھی ختم ہو جائیں گے، کیونکہ ہر شعبے میں مسابقت بڑھنے سے لاگت میں کمی آتی ہے۔
اوگرا قیمتوں کے تعین میں مرکزی کردار ادا کرے گا
وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ اوگرا بطور ریگولیٹر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا کردار ادا کرے گا اور یہ عمل سیاسی مداخلت سے پاک ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ایسا شفاف نظام قائم کرنا ہے جس سے عوام کو فائدہ پہنچے، نقصان نہیں۔
ڈی ریگولرائزیشن پر پیشرفت
ایک سوال کے جواب میں علی پرویز ملک نے بتایا کہ پیٹرولیم سیکٹر کی ڈی ریگولرائزیشن کے لیے حکومتی سطح پر منصوبہ بندی جاری ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اب تک چار اجلاس ہو چکے ہیں اور آئندہ 15 سے 20 روز کے اندر اس حوالے سے مزید پیش رفت متوقع ہے۔
سپلائی چین کی نگرانی، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے سپلائی چین کی نگرانی کے لیے ایک الگ ادارہ قائم کیا ہے، جس کا مقصد اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ کہیں مصنوعی قلت یا ذخیرہ اندوزی نہ ہو رہی ہو۔ ان کے مطابق حکومت پورے نظام میں شفافیت لانے کے لیے کام کر رہی ہے اور آئندہ ایک ماہ کے اندر عوام کے سامنے ایک جامع پیکیج پیش کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز کی بندش سے امریکی ڈالر پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟
ایک اور سوال کے جواب میں علی پرویز ملک نے کہا کہ بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ زیادہ تر غریب طبقے پر پڑتا ہے، اس لیے ایسے ٹیکسوں میں کمی ہونی چاہیے تاکہ عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔












