امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں حماس کی جانب سے مرحلہ وار اسلحہ حوالے کرنے کے معاہدے کو امن کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیا ہے.
تاہم معاہدے میں اسرائیلی افواج کے غزہ سے انخلا اور انتظامی اختیارات بتدریج فلسطینی انتظامیہ کو منتقل کرنے کی شقوں نے اسرائیل میں شدید سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔
اگرچہ اسرائیلی حکومت نے اس معاہدے پر ابھی تک باضابطہ مؤقف اختیار نہیں کیا، تاہم ایک سینیئر اسرائیلی عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل اس وقت تک غزہ میں اپنی فوجی پوزیشنوں سے دستبردار نہیں ہوگا جب تک حماس کے مکمل اور حقیقی غیر مسلح ہونے کا اطمینان نہیں ہو جاتا۔
یہ بھی پڑھیں: حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ
اس کے برعکس صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس معاہدے سے مطمئن ہے۔
اسرائیل میں خصوصاً دائیں بازو کی جماعتوں نے معاہدے کی سخت مخالفت کی ہے، قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے اسے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ حماس کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رہنی چاہییں۔
💢🇵🇸 NEW: President Donald Trump claims the U.S. has “an understanding with Israel” that it will abide by the newly announced Gaza roadmap that involves Hamas storing heavy weapons and Israel withdrawing its forces from Gaza.
But Israeli officials immediately signaled… pic.twitter.com/DJvH28V0BP
— Drop Site (@DropSiteNews) July 31, 2026
سابق آرمی چیف اور اپوزیشن رہنما گاڈی آئزنکوٹ نے بھی کہا کہ اگر معاہدہ حماس کی عسکری اور سیاسی طاقت کے مکمل خاتمے کی ضمانت نہیں دیتا تو اسے کامیاب نہیں کہا جا سکتا۔
وزیراعظم نیتن یاہو نے تاحال اس معاملے پر کوئی عوامی بیان نہیں دیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ انتخابات کے تناظر میں وہ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔
انہیں ایک طرف اپنی دائیں بازو کی اتحادی جماعتوں کو مطمئن رکھنا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات بھی خراب نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ واشنگٹن اس معاہدے پر عمل درآمد کا خواہاں ہے۔
مزید پڑھیں: اسرائیل غزہ سے مکمل انخلا نہیں کرے گا، مستقل فوجی اڈہ قائم کریں گے، اسرائیلی وزیردفاع
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل معاہدے سے پیچھے ہٹتا ہے تو اس سے امریکا کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ معاہدے کی مکمل حمایت کرنے کی صورت میں نیتن یاہو کو اپنے سخت گیر اتحادیوں کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسرائیلی امور کے تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو ممکنہ طور پر معاہدے کی رسمی حمایت کریں گے، لیکن غزہ سے مکمل فوجی انخلا کا امکان کم ہے۔
ان کے بقول نیتن یاہو کی سیاسی حکمت عملی اور سیکیورٹی پالیسی ایسے کسی اقدام کی اجازت نہیں دیتی، اس لیے انتخابات سے قبل غزہ سے انخلا کے بجائے فوجی دباؤ برقرار رہنے کا امکان زیادہ ہے۔













