چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے ریٹائر ہونے والے ملازمین کو پنشنری مراعات کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے یہ ہدایات سپریم کورٹ کے ریٹائر ہونے والے سینیئر اسسٹنٹ رجسٹرار حفظ الرحمان کے اعزاز میں منعقدہ الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جاری کیں۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے حفظ الرحمان کو پینشنری مراعات کا چیک بھی پیش کیا اور اسٹیبلشمنٹ برانچ کو ہدایت کی کہ پینشن سے متعلق تمام کارروائیاں بروقت مکمل کی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا ایک سال مکمل، سپریم کورٹ میں کیا کچھ بدلا؟
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ ملازمین کو ان کی ریٹائرمنٹ کے وقت ہی تمام پنشنری مراعات فراہم کی جائیں تاکہ انہیں اپنے قانونی حقوق کے حصول میں کسی قسم کی تاخیر یا دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے زور دیا کہ پینشن کی تمام رسمی کارروائیاں ملازم کی ریٹائرمنٹ سے قبل ہی مکمل کر لی جائیں تاکہ ریٹائرمنٹ کے بعد کسی قسم کی انتظامی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ریٹائر ہونے والے افسران اور ملازمین کو ان کے قانونی حقوق بلا تاخیر اور بغیر کسی دشواری کے ملنے چاہییں۔
مزید پڑھیں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے صاحبزادے پشاور کے بڑے طبی ادارے کے لیگل ایڈوائزر مقرر
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سپریم کورٹ ملازمین کی فلاح و بہبود اور ایک مؤثر انتظامی نظام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے، جبکہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کے وقار اور ان کے حقوق کے بروقت تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بھی عملی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
تقریب میں رجسٹرار سپریم کورٹ، افسران اور ملازمین نے سینیئر اسسٹنٹ رجسٹرار حفظ الرحمان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کے لیے صحت مند، خوشحال اور کامیاب ریٹائرڈ زندگی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔













