پاکستان کے سمندری اور تجارتی شعبے کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ لارڈز مارکیٹ ایسوسی ایشن کی جوائنٹ وار کمیٹی (جے ڈبلیو سی) نے پاکستان اور اس کی علاقائی سمندری حدود کو اپنے خطرناک اور اعلیٰ خطرے کے حامل علاقوں کی فہرست سے باضابطہ طور پر خارج کر دیا ہے۔
اس فیصلے کے تحت اب پاکستان کی بندرگاہوں کا رخ کرنے والے بین الاقوامی بحری جہازوں کو اضافی وار رسک انشورنس پریمیم ادا نہیں کرنا پڑے گا، جس کے نتیجے میں عالمی شپنگ لاگت میں نمایاں کمی اور ملکی تجارت میں بڑی معاشی بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی، خطرناک پانیوں کی فہرست سے خارج، بحری تجارت کے لیے بڑا ریلیف مل گیا
تجارتی اور معاشی اثرات، بحری لاگت میں کمی اور برآمدات کو فروغ
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کے مطابق، یہ فیصلہ پاکستان کی بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک نیا موڑ ثابت ہوگا۔ لارڈز کی فہرست سے نام نکلنے کے بعد شپنگ لاگت اور انشورنس سرچارجز ختم ہونے سے پاکستانی اشیا عالمی منڈیوں میں زیادہ ارزاں اور مقابلے کے قابل ہو جائیں گی۔
عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد
محمد جنید انور کے مطابق بین الاقوامی شپنگ لائنز، غیر ملکی تاجروں اور لاجسٹکس کمپنیوں کا پاکستان کے بحری راستوں پر اعتماد بحال ہوگا۔ کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور بالخصوص گوادر پورٹ اب عالمی ترانزٹ اور خطے کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے زیادہ پرکشش اور فعال بن سکیں گی۔
دہائیوں پر محیط مسئلہ اور سفارتی فتح
معاشی ماہر منور مرزا کے مطابق پاکستان کی سمندری حدود گزشتہ کئی دہائیوں سے لارڈز کی اعلیٰ خطرے والے علاقوں کی فہرست میں شامل تھیں، جس کا خمیازہ ملک کو بھاری تجارتی خسارے اور زیادہ انشورنس اخراجات کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا تھا۔
اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے 13 مارچ 2026 کو باقاعدہ حکمت عملی کا آغاز کیا گیا۔ وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی۔
اس کمیٹی نے لارڈز کے حکام اور بین الاقوامی بحری اداروں کے سامنے پاکستان کی سمندری حدود کے محفوظ ہونے سے متعلق جامع تکنیکی شواہد، سیکیورٹی ڈیٹا اور حقائق پیش کیے۔ مسلسل اور مؤثر مذاکرات کے نتیجے میں بالآخر جے ڈبلیو سی (جے ڈبلیو سی) نے پاکستان کا نام اس فہرست سے حذف کرنے کا اعلان کیا۔
پاکستان کے لیے گیم چینجر اقدام
معاشی و تجارتی ماہر جنید خان نے اس پیشرفت کو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک آکسیجن کے مترادف قرار دیا ہے، ان کے مطابق وار رسک پریمیم کے ختم ہونے سے پاکستانی تاجروں کو سالانہ کروڑوں ڈالر کی بچت ہوگی۔
’اب تک غیر ملکی بحری جہاز پاکستان آنے کے لیے جو اضافی رسک چارجز وصول کرتے تھے، ان کا بوجھ براہِ راست ملکی معیشت اور عام صارف پر پڑتا تھا۔ لاگت میں اس کمی سے درآمدی خام مال بھی سستا ہوگا جس سے مقامی انڈسٹری کو پیداواری اخراجات گھٹانے میں مدد ملے گی۔‘
بین الاقوامی تجارت اور ٹرانزٹ کے نئے افق
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گوادر اور کراچی کی بندرگاہیں خطے کے لیے سب سے کم خرچ اور محفوظ تجارتی راستہ بن سکتی ہیں۔ فہرست سے نام نکلنے کے بعد گوادر پورٹ کو عالمی شپنگ روٹس سے جوڑنے میں حائل بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثرات
معاشی ماہر ظفر پراچہ کے مطابق، انشورنس پریمیم کی مد میں بیرون ملک جانے والے زرمبادلہ کی بچت سے پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور ملکی کرنسی پر دباؤ میں کمی آئے گی۔
مزید پڑھیں: گوادر پورٹ پر پہلی بار تجارتی بنکرنگ سروس کا آغاز، پاکستان کی بحری تجارت میں اہم سنگِ میل
یہ پیشرفت پاکستان کو جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک مرکزی لاجسٹکس، ٹرانزٹ اور شپنگ ہب بنانے کی جانب ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں ملک کے تجارتی حجم اور معاشی استحکام میں واضح طور پر نظر آئیں گے۔












