برطانیہ کی معروف بحری بیمہ تنظیم لائیڈز مارکیٹ ایسوسی ایشن کی جوائنٹ وار کمیٹی (جے ڈبلیو سی) نے پاکستان اور اس کے بحری علاقوں کو ’لسٹڈ ایریاز‘ یعنی جنگی خطرات سے دوچار خطرناک پانیوں کی فہرست سے خارج کر دیا ہے،جس سے وار رسک انشورنس پریمیم اور شپنگ اخراجات میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اس فیصلے کو پاکستانی برآمدات کی مسابقت اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے سنگ میل قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی فضائی، زمینی اور سمندری حدود بھارتی امپورٹ اور ایکسپورٹ کے لیے بند
وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے پاکستانی برآمدات کی عالمی سطح پر مسابقت بہتر ہو گی اور بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں، تاجروں اور سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد مزید مضبوط ہو گا۔
کراچی، قاسم اور گوادر بندرگاہوں کو فائدہ
وزیر موصوف کے مطابق اس فیصلے سے کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ عالمی شپنگ لائنز اور سرمایہ کاروں کے لیے مزید پرکشش بن سکتے ہیں، جس سے علاقائی تجارت، کارگو ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
20 سال سے فہرست میں شمولیت
وفاقی وزیر نے بتایا کہ یہ معاملہ 13 مارچ 2026 کو زیرِ غور آیا، جب یہ نشاندہی کی گئی کہ پاکستان اور اس کے بحری علاقے گزشتہ 2 دہائیوں سے ’جے ڈبلیو سی‘ کی ‘لسٹڈ ایریاز’ میں شامل تھے۔
یہ شمولیت سال 2001 میں امریکا پر 9/11 کے حملوں کے بعد امریکا کی ‘وار آن ٹیرر’ یعنی دہشتگردی کے خلاف جنگ کے اعلان کے نتیجے میں عمل میں آئی تھی۔
مزید پڑھیں:ایل نینو اور موسمیاتی تبدیلی پاکستان میں شدید گرمی اور مون سون کے خطرات کو کیسے بڑھا رہے ہیں؟
اس فہرست میں شامل ہونے کے باعث پاکستانی شپنگ اور تجارت کو اضافی وار رسک انشورنس پریمیم اور سرچارجز کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، جس سے ملکی برآمدات پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا تھا۔
خصوصی کمیٹی کی تشکیل اور مذاکرات
اس مسئلے کے حل کے لیے وزیراعظم نے وفاقی وزیر جنید انور چوہدری کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی، جس نے لائیڈز کے حکام کے ساتھ مذاکرات کیے اور تکنیکی شواہد و حقائق پر مبنی ڈیٹا کی بنیاد پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
وزیر بحری امور نے بتایا کہ ’رمضان المبارک میں بھی افطار کے بعد گھنٹوں طویل اجلاس ہوتے رہے۔‘ انہوں نے کہا کہ مسلسل اور تسلسل کے ساتھ کی گئی کوششوں کے نتیجے میں بالآخر پاکستان کو اس فہرست سے نکالنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔
مستقبل کے لیے حکومتی عزم
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس فیصلے سے ملکی بحری تجارت پر پڑنے والا اضافی مالی بوجھ کم ہو گا اور پاکستانی برآمدات بین الاقوامی منڈیوں میں زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں گی۔
مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز کھل تو گئی، مگر بحری جہازوں کی حفاظت اب بھی سوالیہ نشان
انہوں نے اس پیش رفت کو پاکستان کے ایک بڑے علاقائی لاجسٹکس، ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ مرکز بننے کی جانب اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ حکومت بحری تحفظ اور کارکردگی بہتر بنانے، بندرگاہوں کی گنجائش بڑھانے اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوششیں جاری رکھے گی۔














