پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ انتخابی عمل شفاف نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھاندلی زدہ انتخابات کے نتائج کو کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔
الیکشن کمیشن پر کارروائی نہ کرنے کا الزام
اتوار کو مظفرآباد ڈویژن میں دوسرے مرحلے کے انتخابات کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجا پرویز اشرف نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے انتخابی دھاندلی کے ثبوت الیکشن کمیشن کو فراہم کیے، تاہم ان شکایات پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:پیپلز پارٹی کا آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کا الزام، نتائج تسلیم نہ کرنے کا اعلان کردیا
انہوں نے کہا کہ آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے، مگر اس ذمہ داری کو پورا نہیں کیا گیا۔
سب کچھ پہلے سے طے نظر آ رہا ہے
راجا پرویز اشرف نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے یہی تاثر ملتا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں ‘سب کچھ پہلے سے طے’ ہے۔ ان کے بقول، دھاندلی سے حاصل ہونے والے انتخابی نتائج نہ عوام کے اعتماد کی نمائندگی کریں گے اور نہ ہی ایسی حکومت عوامی مسائل کے حل کی صلاحیت رکھے گی۔
میرپور ڈویژن اور دیگر حلقوں کا حوالہ
سابق وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ میرپور ڈویژن میں پیپلز پارٹی کے کامیاب امیدواروں کو شکست میں تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نکیال میں انتخابی عمل کے دوران پیپلز پارٹی کا ایک کارکن جان سے گیا، جبکہ جاوید ایوب کے حلقے میں پولنگ یہ کہہ کر ملتوی کر دی گئی کہ پولنگ کا سامان نہیں پہنچا۔
انہوں نے اس مؤقف پر بھی سوال اٹھایا کہ پولنگ کا سامان نہ پہنچنے کی وجہ سے انتخاب ملتوی کیا گیا اور کہا کہ معمول کے مطابق پولنگ اسٹیشنز پر سامان ایک روز پہلے پہنچا دیا جاتا ہے۔
ن لیگ کو تنقید کا نشانہ
راجا پرویز اشرف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما ووٹ چوری کو معمولی واقعہ قرار دے رہے ہیں، حالانکہ ‘بیلٹ پیپر جھوٹ نہیں بولتے’۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے شفافیت ناگزیر ہے۔ انہی روّیوں نے پاکستان میں جمہوریت کو اس نہج پر پہنچایا ہے۔
صدر آزاد کشمیر کے واقعے کا ذکر
انہوں نے صدر آزاد کشمیر لطیف اکبر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں مکے مارے گئے، مگر اس واقعے کو محض ‘تو تکرار’ قرار دیا جا رہا ہے، جو حقائق کے برعکس ہے۔
مزید پڑھیں:کسی کو شکایت ہے تو الیکشن کمیشن سے رجوع کرے، ن لیگ نے آزاد کشمیر میں دھاندلی کا الزام مسترد کردیا
آزاد کشمیر میں بلدیاتی و انتخابی عمل کے مختلف مراحل کے دوران سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی شفافیت، پولنگ کے انتظامات اور نتائج کے حوالے سے تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی مسلسل دعویٰ کر رہی ہے کہ متعدد حلقوں میں انتخابی بے ضابطگیاں ہوئیں، جبکہ دیگر متعلقہ فریقین اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔














