پلاسٹک کی ایک بار استعمال ہونے والی پیکجنگ جدید طرز زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہے، خاص طور پر پاکستان میں شہری آبادی میں اضافے اور سہولت پسندی کے باعث پلاسٹک کے استعمال میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔
اگرچہ پلاسٹک کو سستا اور آسان سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے طویل مدتی ماحولیاتی، معاشی اور صحت کے نقصانات کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ پوشیدہ نقصان پاکستان کے لیے ترقی اور پائیداری کے درمیان توازن قائم کرنے کا بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: باورچی خانوں میں پلاسٹک ذرات کی بہتات، کھانوں میں ان کی ملاوٹ کم کیسے کی جائے؟
نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میں پلاسٹک کا کچرا روزمرہ زندگی کا نمایاں حصہ بن گیا ہے۔ سڑکوں، نہروں، زرعی زمینوں، ریلوے پٹریوں اور شہری نالوں میں پلاسٹک کے تھیلے، بوتلیں، ریپرز اور کھانے کے ڈبے بڑی مقدار میں نظر آتے ہیں۔
مون سون کے دوران پلاسٹک کے کچرے سے بند ہونے والے نکاسی آب کے نظام بڑے شہروں، جن میں لاہور، کراچی، فیصل آباد اور ملتان شامل ہیں، میں شہری سیلاب اور صفائی کے مسائل میں اضافہ کرتے ہیں۔ پلاسٹک کی آلودگی کمزور کچرا انتظامی نظام، غیر پائیدار استعمال اور ماحولیاتی ذمہ داری سے متعلق محدود شعور کی عکاسی کرتی ہے۔
پلاسٹک آلودگی کا سب سے خطرناک پہلو مائیکرو پلاسٹک میں اضافہ ہے۔ وقت کے ساتھ پلاسٹک کی پیکجنگ گرمی، دھوپ اور ماحولیاتی اثرات کے باعث انتہائی چھوٹے ذرات میں تبدیل ہو جاتی ہے، جو خوراک، پینے کے پانی اور انسانی جسم تک پہنچ رہے ہیں۔
پاکستان میں ایک بار استعمال ہونے والی پلاسٹک پیکجنگ روزمرہ زندگی میں گہرائی تک شامل ہو چکی ہے۔ لاکھوں صارفین اب بھی دہی، دودھ، گرم چائے، سالن اور دیگر غذائی اشیا پتلے پلاسٹک کے تھیلوں میں حاصل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: روزانہ کتنے ہزار مائیکرو پلاسٹک ذرات کیسے ہمارے جسم میں داخل ہو رہے ہیں؟
کئی مقامات پر گرم مشروبات اور تازہ تیار شدہ کھانے کم معیار کے پلاسٹک میں ڈال دیے جاتے ہیں، جس سے صحت کے ممکنہ خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ گرمی کی وجہ سے پلاسٹک سے نقصان دہ کیمیکلز اور مائیکرو پلاسٹک ذرات خوراک اور مشروبات میں شامل ہو سکتے ہیں۔
بوتل بند پانی کا بڑھتا ہوا استعمال بھی پلاسٹک آلودگی میں اضافہ کر رہا ہے۔ بہت سے پاکستانی صاف پانی کے خدشات کے باعث بوتل کا پانی استعمال کرتے ہیں، تاہم دھوپ اور گرمی میں زیادہ دیر رہنے سے پلاسٹک سے کیمیکلز کے اخراج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
پلاسٹک آلودگی زراعت کے شعبے کے لیے بھی سنگین مسئلہ بن رہی ہے۔ کسان اکثر کھاد کی تھیلیاں، زرعی ادویات کے ڈبے اور دیگر پلاسٹک کچرا تلف کرنے کے مناسب انتظام کی عدم موجودگی میں کھیتوں میں جلا دیتے ہیں، جس سے زہریلی گیسیں خارج ہوتی ہیں، فضائی آلودگی بڑھتی ہے اور زمین کا معیار متاثر ہوتا ہے۔
نہروں میں پھینکا جانے والا پلاسٹک پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ بنتا ہے اور آبی حیات کو نقصان پہنچاتا ہے۔ دیہی علاقوں میں مویشی اکثر خوراک کے ساتھ پلاسٹک کے تھیلے کھا لیتے ہیں، جس سے ان کی صحت متاثر ہوتی ہے اور بعض اوقات ہلاکت بھی ہوجاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گھروں کی ہوا میں کروڑوں مائیکرو پلاسٹک موجود، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
پلاسٹک آلودگی کے معاشی اخراجات بھی بہت زیادہ ہیں۔ حکومتیں شہری صفائی، نکاسی آب کی بحالی اور کچرے کے انتظام پر ہر سال لاکھوں روپے خرچ کرتی ہیں، لیکن پلاسٹک کچرے کی بڑی مقدار ان نظاموں پر دباؤ بڑھا دیتی ہے۔
سیاحت بھی متاثر ہوتی ہے کیونکہ تفریحی مقامات، دریاؤں کے کنارے اور عوامی جگہیں آلودہ ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح آلودگی سے متعلق بیماریوں اور زہریلے کیمیکلز کے طویل مدتی اثرات کے باعث صحت کے نظام پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان میں پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کا نظام اب بھی کمزور اور زیادہ تر غیر رسمی ہے۔ اگرچہ کچرا چننے والے افراد اور چھوٹے ری سائیکلنگ کاروبار پلاسٹک جمع کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن مناسب علیحدگی، سرمایہ کاری کی کمی اور کمزور پالیسیوں کے باعث ری سائیکلنگ کی شرح بہت کم ہے۔
زیادہ تر صارفین پلاسٹک کچرے کو دیگر کچرے سے الگ نہیں کرتے، جس سے ری سائیکلنگ کا عمل مہنگا اور مشکل ہو جاتا ہے۔ کئی کھانے اور مشروبات کی پیکجنگ ایسی ہوتی ہے جسے ری سائیکل کرنا ممکن نہیں یا معاشی طور پر فائدہ مند نہیں ہوتا۔
پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی اور خوراک کی پیکجنگ کے تحفظ کے لیے مختلف ادارے کام کر رہے ہیں، تاہم پلاسٹک کے استعمال میں کمی کے لیے جامع قومی حکمت عملی کا فقدان اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مائیکروپلاسٹکس انسانی صحت کے لیے کس قدر خطرناک ہیں؟
صوبائی حکومتوں نے پلاسٹک شاپنگ بیگز پر جزوی پابندیاں اور آگاہی مہمات شروع کی ہیں، لیکن ان پر مؤثر عمل درآمد اور متبادل اشیا کی دستیابی محدود ہے۔
ماہرین کے مطابق پلاسٹک کے بحران سے نمٹنے کے لیے کاروباری اداروں، مشروبات بنانے والی کمپنیوں، خوراکی صنعت اور پیکجنگ شعبے کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ صرف ری سائیکلنگ اس مسئلے کا مکمل حل نہیں ہے۔
پائیدار مستقبل کے لیے مضبوط قوانین، بہتر ری سائیکلنگ نظام، ماحول دوست متبادل اشیا اور عوامی شعور میں اضافہ ضروری ہے، کیونکہ سہولت کے لیے استعمال ہونے والا پلاسٹک اب ایک بھاری قیمت وصول کر رہا ہے۔













