وار رسک لسٹ سے اخراج: بلیو اکانومی کا اہم سنگ میل

منگل 4 اگست 2026
author image

راحیل نواز سواتی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا کی معیشت میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر سرخیوں میں نمایاں نہیں ہوتے لیکن ان کے اثرات برسوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ پاکستان اور اس کی سمندری حدود کا لائیڈز جوائنٹ وار کمیٹی کے “لسٹڈ ایریاز” سے اخراج بھی ایک ایسا ہی فیصلہ ہے، جسے محض ایک انتظامی پیش رفت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اگر اس موقع سے درست انداز میں فائدہ اٹھایا جائے تو یہ پاکستان کی بحری معیشت، تجارت اور علاقائی رابطہ کاری کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

لائیڈز جوائنٹ وار کمیٹی ان سمندری علاقوں کی نشاندہی کرتی ہے جہاں جنگ، دہشت گردی، قزاقی یا دیگر سکیورٹی خدشات کے باعث جہازوں کے لیے اضافی خطرات موجود ہوں۔ ایسے علاقوں میں جانے والے جہازوں پر عموماً اضافی وار رسک انشورنس پریمیم اور دیگر سرچارجز لاگو ہوتے ہیں، جس سے نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ ان اخراجات کا اثر بالآخر درآمدات، برآمدات اور بین الاقوامی تجارت پر بھی پڑتا ہے۔

پاکستان کئی برسوں تک اس فہرست میں شامل رہا، حالانکہ گزشتہ برسوں میں ملک کی سمندری سکیورٹی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی اور بندرگاہوں کے تحفظ کے اقدامات نے پاکستان کی سمندری حدود کو زیادہ محفوظ بنایا، تاہم عالمی انشورنس مارکیٹ کی درجہ بندی میں یہ تبدیلی بروقت نظر نہیں آئی۔ موجودہ حکومت کی توجہ اور کوششوں سے پاکستان اس فہرست سے خارج ہو گیا ہے اور یہ بین الاقوامی سطح پر بہتری کے اعتراف کے مترادف اور اہم سنگ میل ہے۔

اس فیصلے کا پہلا مثبت اثر شپنگ لاگت میں کمی کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ جب اضافی انشورنس اخراجات کم ہوں گے تو بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کے لیے پاکستانی بندرگاہوں تک رسائی نسبتاً سستی ہوگی۔ اس کا فائدہ برآمدکنندگان، درآمدکنندگان اور بالآخر ملکی معیشت کو پہنچ سکتا ہے۔ عالمی تجارت میں لاگت کا معمولی فرق بھی کسی ملک کی مسابقت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ کے لیے بھی یہ پیش رفت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان ایک ایسے جغرافیائی محل وقوع کا حامل ہے جو مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، چین اور جنوبی ایشیا کو آپس میں جوڑتا ہے۔ اگر شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مزید مضبوط ہوتا ہے تو پاکستان نہ صرف اپنی بندرگاہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ علاقائی ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ کے میدان میں بھی بہتر مقام حاصل کر سکتا ہے۔

تاہم اس کامیابی کو منزل نہیں بلکہ آغاز سمجھنا چاہیے۔ صرف ایک فہرست سے نام نکل جانے سے پاکستان خود بخود علاقائی لاجسٹکس ہب نہیں بن جائے گا۔ اس کے لیے بندرگاہوں کی جدید کاری، کسٹمز اصلاحات، ڈیجیٹل تجارتی نظام، ریلوے اور سڑکوں کے مؤثر رابطے، گوداموں کی سہولت، نجی سرمایہ کاری اور پالیسی کے تسلسل کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے۔ اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو اس فیصلے کے ممکنہ فوائد محدود رہ سکتے ہیں۔

یہ پیش رفت پاکستان کی بلیو اکانومی کے تناظر میں بھی اہم ہے، دنیا بھر میں سمندر صرف تجارت کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشی ترقی، روزگار، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون کا محور بن چکے ہیں۔ پاکستان کے پاس تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحلی پٹی، تین بڑی بندرگاہیں اور بحیرہ عرب تک براہِ راست رسائی موجود ہے۔ اگر ان وسائل کو جدید منصوبہ بندی کے تحت استعمال کیا جائے تو بحری تجارت، لاجسٹکس، جہاز رانی، ماہی گیری، ساحلی سیاحت اور متعلقہ صنعتوں میں نمایاں ترقی ممکن ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ اس سفارتی اور انتظامی کامیابی کو معاشی کامیابی میں تبدیل کرے۔ اگر پاکستان بندرگاہوں کی کارکردگی بہتر بنانے، کاروباری آسانیاں پیدا کرنے اور عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو لائیڈز کی وار رسک فہرست سے اخراج مستقبل میں صرف ایک خبر نہیں بلکہ پاکستان کی بحری معیشت کے عروج کا نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp