غزہ میں ان 112 افراد کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے، جن کی لاشیں اسرائیلی حملوں میں تباہ ہونے والے مکانات کے ملبے سے نکالی گئیں۔
انادولو ایجنسی کے مطابق غزہ شہر کے علاقے صبرا میں ہزاروں فلسطینی جنازے میں شریک ہوئے، جہاں لاشوں کو فلسطینی پرچموں میں لپیٹ کر تباہ شدہ گھروں کے ملبے کے قریب رکھا گیا۔ بعد ازاں انہیں غزہ شہر کے جنوب میں واقع زیتون علاقے کے بپٹسٹ قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ کے باسیوں نے ٹرمپ کا امن منصوبہ زمینی حقائق کے برعکس قرار دیدیا
رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد الحسینہ اور ابو شریہ خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے، جو 23 نومبر 2023 کو اس وقت مارے گئے جب اسرائیلی فوج نے ان کے گھروں کو نشانہ بنایا اور وہ اندر موجود تھے۔
112 افراد کا یہ جنازہ فلسطینی تاریخ کے بڑے جنازوں میں شمار کیا جارہا ہے، کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں لاشیں ایک ساتھ ملبے سے برآمد ہوئی ہیں۔
View this post on Instagram
فلسطینی شہری دفاع کے مطابق ملبے سے نکالی گئی لاشوں میں 40 بچے، 38 خواتین اور 7 معذور افراد شامل تھے، جبکہ شہری دفاع کے عہدیدار محمد ابو دان نے بتایا کہ مزید 157 لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں اب تک غزہ میں 73 ہزار سے زائد فلسطینی شہید جبکہ ایک لاکھ 74 ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، مزید 18 فلسطینی شہید، انسانی بحران سنگین ہوگیا
وزارت صحت کے مطابق 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود غزہ میں اسرائیلی حملے جاری رہے، جن میں مزید 1250 فلسطینی جاں بحق اور 4110 زخمی ہوئے۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے اب بھی تقریباً 9500 افراد موجود ہیں۔
View this post on Instagram
دوسری جانب غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فائرنگ سے مزید 19 فلسطینی جاں بحق ہوئے، جس کے بعد اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں مجموعی اموات کی تعداد 73 ہزار 375 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 74 ہزار 220 ہوگئی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کے 90 فیصد شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے اور تعمیر نو پر تقریباً 70 ارب ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔














