سعودی کابینہ نے یونیسکو کی سرپرستی میں قائم ہونے والے بین الاقوامی مرکز برائے مصنوعی ذہانت تحقیق و اخلاقیات کے بنیادی نظام کی منظوری دے دی، جسے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون اور ذمہ دارانہ استعمال کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کابینہ کے اجلاس میں منظور کیے گئے اس اقدام کے بعد مرکز مصنوعی ذہانت سے متعلق تحقیق و ترقی، اخلاقی اصولوں کے فروغ، آگاہی، صلاحیت سازی اور عالمی سطح پر پالیسی سازی کے شعبوں میں اپنی سرگرمیوں کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیے اقوام متحدہ کا اعلیٰ ترین پبلک سروس ایوارڈ سعودی عرب کے نام، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی کامیابی
اس موقع پر سعودی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت اتھارٹی (سدايا) کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ بن شرف الغامدی نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ منظوری مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال کے فروغ کے لیے سعودی قیادت کے وژن اور بھرپور حمایت کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرکز نہ صرف مصنوعی ذہانت کے میدان میں تحقیق و ترقی کو فروغ دے گا بلکہ اس ٹیکنالوجی کے اخلاقی پہلوؤں سے متعلق عالمی آگاہی میں اضافہ، ماہر افرادی قوت کی تیاری اور بین الاقوامی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے سعودی عرب نے میڈیا میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے اصول جاری کر دیے
سعودی عرب حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں نمایاں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور یہ اقدام مملکت کے وژن 2030 کے تحت جدید ٹیکنالوجیز میں عالمی قیادت کے ہدف کی جانب ایک اور اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔














