وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کا غیرقانونی اقدام ناقابلِ قبول ہے۔
اپنے پیغام میں خالد حسین مگسی نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف میں کسی قسم کے سمجھوتے کی گنجائش نہیں، جبکہ کشمیری عوام کی آزادی اور حقِ خودارادیت کی حمایت پاکستان کی قومی پالیسی کا حصہ ہے۔
یوم استحصالِ کشمیر: وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کا غیرقانونی اقدام ناقابلِ قبول ہے۔@KulAalam pic.twitter.com/d0dDiuUjPB
— Media Talk (@mediatalk922) August 5, 2026
انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقوق اور ان کی جائز جدوجہد کی ہر سطح پر سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے اقدامات انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور اس نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کو پامال کیا ہے۔
مزید پڑھیں:یومِ استحصالِ کشمیر: پاکستان کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گا، اعظم نذیر تارڑ
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ہر قومی اور بین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اٹھاتا رہے گا اور اپنے اصولی مؤقف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔
خالد حسین مگسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا اور ان کے حقِ خودارادیت کے حصول تک ان کی حمایت جاری رکھے گا۔














