طالبان وفد کی آمد پر مالدووا میں ہنگامہ، وزیراعظم نے دورہ ’شرمناک‘ قرار دے دیا

بدھ 5 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مالدووا کے وزیراعظم نے طالبان رجیم کی وزارت زراعت کے وفد کی ملک آمد کو ’شرمناک‘ اور ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ وفد کو ویزے جاری کرنے کا فیصلہ انتظامی طریقہ کار کے تحت تو کیا گیا، تاہم اس کے سیاسی اور سفارتی اثرات کا درست اندازہ نہیں لگایا گیا، جس کے بعد حکومت نے معاملے کی اندرونی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں واضح کیا کہ مالدووا طالبان ’حکومت‘ کو تسلیم نہیں کرتا۔ ان کے مطابق وفد کے دورے کی منظوری انتظامی جانچ پڑتال کے بعد دی گئی، تاہم اس کے ممکنہ سیاسی اور سفارتی نتائج کو نظر انداز کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے طالبان کا اسماعیلی جماعت خانوں کو مساجد میں تبدیل کرنے کا حکم، اقوامِ متحدہ کااظہارِ تشویش

انہوں نے بتایا کہ وفد کی آمد کی درخواست ایک مقامی کمپنی نے دی تھی، جو ازبکستان کو زرعی مصنوعات برآمد کرتی ہے اور افغانستان کی منڈی میں بھی اپنا کاروبار بڑھانا چاہتی تھی۔

وزیراعظم کے مطابق وزارت زراعت و خوراک نے یہ درخواست وزارت خارجہ، جنرل انسپکٹریٹ برائے مائیگریشن اور بارڈر پولیس کو بھیجی۔ متعلقہ اداروں نے جانچ کے دوران پایا کہ طالبان وفد کے ارکان یورپی یونین کی پابندیوں کی فہرست میں شامل نہیں تھے، جس کے بعد مائیگریشن حکام نے مثبت رائے دی اور وزارت خارجہ نے انہیں ویزے جاری کر دیے۔

رپورٹس کے مطابق اس عمل میں مالدووا کی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی سروس سے مشاورت نہیں کی گئی، کیونکہ موجودہ ضوابط کے تحت ایسا کرنا لازمی نہیں تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ تمام انتظامی مراحل بظاہر مکمل کیے گئے، لیکن ضروری سیاسی اور سفارتی تجزیہ نہیں کیا گیا، جس کے باعث ایک حساس معاملے کو معمول کی انتظامی کارروائی سمجھا گیا اور غلط فیصلہ سامنے آیا۔

انہوں نے زور دیا کہ سرکاری اداروں کو صرف قواعد پر عمل درآمد تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ہر فیصلے کے پس منظر، ممکنہ خطرات اور نتائج کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے طالبان حکومت وطن واپس آنے والے افغان مہاجرین کی آبادکاری میں ناکام، انسانی بحران کا خدشہ

سرکاری حکام کے استعفوں کے مطالبات پر وزیراعظم نے کہا کہ محض کسی ایک فرد کو ذمہ دار ٹھہرانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ان کے بقول اصل ضرورت ان طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لینے اور اصلاحات کی ہے، جن کے باعث ایسا فیصلہ ممکن ہوا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت انٹیلی جنس و سیکیورٹی سروس کے ساتھ مشاورتی نظام کا ازسرنو جائزہ لے گی، جبکہ فیصلے کے ذمہ دار افراد کا تعین کرکے ان کے خلاف مناسب کارروائی بھی کی جائے گی۔

دوسری جانب مالدووا کی وزارت خارجہ نے پیر کو تصدیق کی کہ طالبان کی وزارت زراعت کے وفد کو ملک میں داخلے کے لیے ویزے جاری کیے گئے تھے، تاہم وزارت نے واضح کیا کہ وفد کے ساتھ کوئی سرکاری ملاقات نہیں کی جائے گی۔ حکومت نے اس پورے معاملے کی اندرونی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف سے جائیکا کے صدر کی ملاقات، معدنیات، ہنرمندی اور ایس ایم ایز میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

ہلمند میں طالبان کا خواتین کے لباس پر کریک ڈاؤن، ایک ہفتے میں 10 سے زائد خواتین گرفتار

آزاد کشمیر: الیکشن کمیشن نے 21 حلقوں کے کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

مصنوعی ذہانت کا خطرناک رخ، برطانوی سیکیورٹی ادارے کے ٹیسٹ میں اے آئی ایجنٹس کا غیر قانونی اقدامات کا انکشاف

ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز پر 2 گروپوں میں تصادم اور فائرنگ، دہشتگردی کا مقدمہ درج

ویڈیو

ہلمند میں طالبان کا خواتین کے لباس پر کریک ڈاؤن، ایک ہفتے میں 10 سے زائد خواتین گرفتار

5 اگست کے بھارتی اقدامات مسترد، پاکستان کا کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم

واشنگٹن کے چڑیا گھر میں باؤلی نے اپنی 5ویں سالگرہ کیسے منائی؟

کالم / تجزیہ

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ

خبردار، نظام اسی مہینے میں ری سیٹ ہوسکتا ہے