ہلمند میں طالبان کا خواتین کے لباس پر کریک ڈاؤن، ایک ہفتے میں 10 سے زائد خواتین گرفتار

بدھ 5 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان کے صوبہ ہلمند میں طالبان کی اخلاقی پولیس نے خواتین کے لباس سے متعلق ضوابط پر عمل درآمد مزید سخت کر دیا ہے، جہاں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مبینہ طور پر 10 سے زائد خواتین کو مقررہ حجاب اور لباس کے قواعد کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔

مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ زیادہ تر گرفتاریاں ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ کے علاقے کارتے لگان میں قائم خواتین کی مارکیٹ کے اطراف کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا

میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کارروائیوں کے باعث خواتین میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ مارکیٹ کی کاروباری سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔

ہلمند کے رہائشی سردار محمد نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران 10 سے زائد خواتین کو طالبان کے مقرر کردہ حجاب اور لباس کے ضوابط پر عمل نہ کرنے یا وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں کی ہدایات نہ ماننے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ گرفتاری کے خدشے کے باعث اب بہت سی خواتین مارکیٹ جانے سے گریز کر رہی ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران بھی متعدد خواتین کو اسی مارکیٹ سے مبینہ طور پر مناسب حجاب نہ پہننے اور کسی محرم مرد کے بغیر سفر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

مزید پڑھیں: ہرات سے یورپ تک احتجاج، طالبان کی خواتین مخالف پالیسیوں کو بڑھتی ہوئی مزاحمت کا سامنا

عینی شاہدین نے بتایا کہ خواتین کی مارکیٹ کے قریب ایک خاتون اور طالبان کی اخلاقی پولیس کے اہلکار کے درمیان جھڑپ بھی پیش آئی۔

ان کے مطابق خاتون گاڑی سے اتر کر مارکیٹ میں داخل ہونا چاہتی تھیں لیکن اہلکار نے انہیں روک لیا۔

شاہدین کے مطابق اہلکار نے خاتون کا ہاتھ پکڑا جس پر انہوں نے اپنے جوتے سے اہلکار کو مارا، جس کے بعد دونوں کے درمیان ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔ بعد ازاں متعدد شہریوں نے مداخلت کر کے معاملہ ختم کرایا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد طالبان کی اخلاقی پولیس نے مارکیٹ میں خواتین کی نگرانی، تلاشی اور پوچھ گچھ میں مزید اضافہ کر دیا اور پابندیاں مزید سخت کر دیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق اب بہت سی خواتین گرفتاری سے بچنے کے لیے خود بازار جانے کے بجائے خریداری کی ذمہ داری اپنے مرد رشتہ داروں کو سونپ رہی ہیں۔

دوسری جانب خواتین کی مارکیٹ کے تاجروں نے بتایا کہ طالبان کی سخت پابندیوں کے باعث گاہکوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے اور کاروبار تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان: 75 فیصد امدادی اداروں نے خواتین کی ملازمت سے متعلق طالبان کی شرائط مان لیں

تاجروں کے مطابق ہر دکان کا ماہانہ کرایہ 20 ہزار سے 40 ہزار افغانی کے درمیان ہے، تاہم فروخت میں شدید کمی کے باعث متعدد دکاندار کرایہ ادا کرنے سے بھی قاصر ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو انہیں اپنی دکانیں بند کرنا پڑیں گی۔

طالبان حکام نے ہلمند میں خواتین کی مبینہ گرفتاریوں سے متعلق ان اطلاعات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp