یہ کہانی ان پیاسوں کی ہے جو 10 محرم 61 ہجری کو کربلا کے لق و دق صحرا میں ظلم و بربریت کے ساتھ بے جرم و خطا شہید کیے گئے، یا اس روحانی پیاس کی ہے جو کروڑوں زائرین کو ان شہداء کی یاد تازہ کرنے اور ان کے ساتھ مودّت و عشق کو یقین کی منزل تک لے جانے کے لیے نجف سے کربلا کی طرف پیدل سفر کرنے پر نہ صرف آمادہ کرتی ہے، بلکہ ان کے خون میں جوش و ارتعاش بھی پیدا کرتی ہے۔
شہادتِ امام حسینؓ کے چالیسویں روز کو اربعین سے یاد کیا جاتا ہے۔ روایتی مصادر نہ صرف حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ کو امام حسینؓ کے ابتدائی زائرین میں شمار کرتے ہیں، بلکہ اسیرانِ اہلِ بیتؓ کی انہی دنوں میں شام سے کربلا آمد کا تذکرہ بھی کرتے ہیں۔ تاہم، مشی کی موجودہ روایت کو ان واقعات کا تسلسل قرار دینا شاید درست نہ ہو، بلکہ یہ بہت سے تاریخی ادوار سے گزرتے ہوئے اپنی موجودہ صورت تک پہنچی ہے۔ عراق کی تاریخ نے مذہبی اجتماعات اور زیارات پر سخت ترین پابندی کے دن بھی دیکھے ہیں، لیکن 2003ء کے بعد اس میں کافی وسعت اور عالمگیریت دیکھنے کو ملی۔
اربعین کو سمجھنے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اتنی تعداد میں لوگ جوق در جوق وہاں کیوں پہنچ رہے ہیں؟ اس سفر نے انہیں کچھ سوچنے، محسوس کرنے اور یقین کرنے پر مائل کیا کہ نہیں؟ آخر وہ کون سا مقصد ہے جس کے حصول کی خاطر یہ لوگ اتنی دور تک پیدل چل رہے ہیں اور ان کے پایۂ استقلال میں کمی بھی نہیں آ رہی؟ آخر مشی ہی کیوں؟ اگر مقصد صرف زیارت ہو تو سفر کے دوسرے جدید اور آرام دہ ذرائع بھی تو کم نہیں؟
ان سوالات کے جوابات نہ صرف دقیق ہیں بلکہ لطیف بھی ہیں۔ یہاں پیدل چلنا تکلیف کے معنی نہیں دیتا بلکہ عقیدت کا ایک اظہار بن جاتا ہے۔ راستہ تجربہ بن جاتا ہے۔ تھکن، جسمانی مشقت اور فاصلے کربلا والوں کی یاد سے وابستگی کا احساس بن جاتے ہیں۔ اربعین اور مشی کی اصل طاقت عقیدت، مشقت، تاریخ، اجتماعیت، خدمت، حق گوئی، مہمان نوازی، سماجی مظاہر اور جدید ابلاغ کے کثیرالجہتی پہلوؤں میں پوشیدہ ہے۔
اربعین کی مشی کا ایک نمایاں پہلو راستے میں قائم ہونے والے مواکب ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں زائرین کے لیے کھانے، پینے، رہائش، طبی ضروریات اور آرام کے وسیع پیمانے پر رضاکارانہ اقدامات کرنا، خدمت اور مہمان نوازی کی ایسی مثال ہے جو شاید کرۂ ارض کے کسی اور خطے میں اس پیمانے پر نظر نہ آتی ہو۔ آپ لوگوں کے ایک ایسے جمِ غفیر کا تصور تو کریں جن کے ممالک الگ، زبانیں الگ اور ثقافتی و تہذیبی اقدار بھی الگ ہوں، لیکن ایک ہی راستے پر ایک ساتھ چلتے جا رہے ہوں اور کسی کو کسی سے کوئی مسئلہ بھی نہ ہو۔ ان کے سفرِ عشق کا محور و مرکز ذاتِ حسینؑ ہے۔
مشی کا ایک پہلو شاید سب سے کم بیان ہوتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ ایک سفر تو انسان دوسرے مسافروں کے ساتھ مل کر طے کر رہا ہوتا ہے، لیکن ایک سفر اس کو اپنی ذات کا بھی درپیش ہوتا ہے، جو اسے رک رک کر سوچنے اور اپنا محاسبہ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ توفیقِ خداوندی سے میں یہاں تک تو پہنچ گیا، لیکن کیا میں نے نفس کو درپیش سفر کے لیے بھی زادِ راہ اکٹھا کیا ہے؟ کیا میں محرمات و مکروہات سے خود کو ہمیشہ کے لیے روک پاؤں گا؟ کیا میں واجبات و مستحبات کو پابندی سے ادا کرتا رہوں گا؟ اور آخر میں یہ بھی سوچتا ہے کہ اس سفر کے بعد میں ہر خیر میں داخل ہو سکوں گا اور اس پُرفتن دور میں ہر شر سے محفوظ رہ پاؤں گا؟
ایسا سوچتے ہوئے اس کا دل بھر آتا ہے اور آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ وہ دل ہی دل میں ٹھان لیتا ہے کہ آج سے میں ان اخلاقی اقدار کو اپنی زندگی کا شعار بناؤں گا جو مجھے ایثار، وحدت اور اخلاص کا پیکر بنا سکیں۔ کربلا کی تاریخ کو یاد کرتے ہوئے وہ اپنے عہد کو بھی دیکھتا ہے اور خود سے سوال کرتا ہے کہ اگر حق و باطل کا فرق واضح ہو تو وہ کس طرف کھڑا ہوگا؟ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں مشی محض جسمانی مشقت نہیں رہتی بلکہ ایک فکری اور روحانی تجربے میں بدل جاتی ہے۔
لیکن اربعین و مشی کے بارے میں متوازن گفتگو کا تقاضا ہے کہ ان تحقیقی مطالعوں کو بھی زیرِ بحث لایا جائے جو پیدل چلنے والوں کی صحتِ عامہ، ٹریفک کنٹرول، راستوں کی صفائی اور کچرے کو بہتر طور پر ٹھکانے لگانے کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ موضوعات اربعین یا مشی کی حرمت و افادیت پر منفی اثر نہیں ڈالتے بلکہ اس کے انتظامی امور کو مزید بہتر کرنے کے نئے چیلنجز سامنے لاتے ہیں۔
کربلا کی طرف اٹھنے والے قدموں کی چاپ میں چودہ سو سال پرانی اس پیاس کی چاپ بھی سنائی دیتی ہے جس نے کربلا کی تاریخ کا دردناک باب رقم کیا تھا۔ آج یہ پیادے اسی المناک تاریخ کو اپنے پیدل سفر کی زباں سے بیان کر رہے ہیں۔
اگرچہ کربلا کا راستہ ہی حق کا راستہ ہے، لیکن یہاں ہم ایک اور فرق واضح کرتے چلیں کہ کچھ راستے قدموں سے طے ہوتے ہیں اور کچھ کردار سے اور کربلا کے راستے کو بھی ہر دو طرح سے ہی طے کرنا چاہیے بلکہ اگر قدموں سے طے کرنا ممکن نہ ہو کسی بھی حوالے سے تو کردار سے طے کرنا ہی ضروری ہے۔ نجف سے کربلا تک پیدل چلنے والے زائر کا ہر قدم اس سے استفسار کرتا ہے کہ ہم صرف امام حسینؓ کی یاد منانے والے ہیں یا ان کے راستے پر چلنے والے بھی ہیں؟ اربعین کی مشی کی اصل منزل کربلا نہیں، بلکہ کربلا سے واپسی پر اپنی ذات میں مثبت تبدیلی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














