ماہ رواں کا مکمل سورج گرہن: سائنسدانوں کے لیے پراسرار راز جاننے کا سنہری موقع

بدھ 5 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

12 اگست کو اسپین میں نظر آنے والا مکمل سورج گرہن صرف ایک دلکش فلکیاتی منظر ہی نہیں ہوگا بلکہ دنیا بھر کے سائنس دانوں کے لیے سورج کے پراسرار نظام، اس کے مقناطیسی میدان اور خطرناک شمسی طوفانوں کو بہتر طور پر سمجھنے کا ایک نادر موقع بھی ثابت ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: اسپین کا وہ ننھا گاؤں جہاں ایک ہی رات میں 2 بار غروب آفتاب دکھائی دے گا

ماہرین کے مطابق جب چاند مکمل طور پر سورج کو ڈھانپ لے گا تو تقریباً ایک منٹ 40 سیکنڈ تک سورج کی بیرونی فضا (کورونا) واضح طور پر نظر آئے گی جس دوران مختلف تحقیقی ٹیمیں سورج کی سرگرمیوں، اس کے مقناطیسی میدان، فضا اور شمسی ہواؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیں گی۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سورج مسلسل توانائی، مادہ اور برقی ذرات خارج کرتا رہتا ہے۔ بعض اوقات یہی سرگرمیاں طاقتور شمسی طوفانوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں جو زمین کے گرد موجود مقناطیسی میدان سے ٹکرا کر سیٹلائٹس، خلانوردوں اور مواصلاتی نظام کو متاثر کر سکتی ہیں، جبکہ قطبی علاقوں میں خوبصورت شفق (اورورا) بھی اسی عمل کے نتیجے میں نمودار ہوتی ہے۔

فرانس کے اٹامک انرجی کمیشن (سی ای اے) سے وابستہ فلکی طبیعیات کے ماہر ایلن ساشا برون نے بتایا کہ اس تحقیق کا مقصد سورج کی سرگرمیوں کے بنیادی طبعی عوامل کو سمجھنا ہے تاکہ سورج کی پیدائش سے لے کر اس کے ارتقا اور مستقبل تک کے سفر کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے۔

مزید پڑھیے: چین ’مصنوعی سورج‘ بنانے کے مزید قریب، 582 ٹن وزنی فیوژن مقناطیس کا کامیاب تجربہ

انہوں نے بتایا کہ سورج کی سرگرمیاں تقریباً ہر 11 سال بعد اپنے عروج پر پہنچتی ہیں اور سنہ 2024 میں سورج اپنے 25ویں شمسی چکر کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔

ماہرین اس گرہن کے دوران خاص طور پر سورج کی بیرونی فضا یعنی کورونا کا مشاہدہ کریں گے جو تقریباً ایک کروڑ کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اگرچہ یہ سورج کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 10 لاکھ گنا مدھم ہوتی ہے لیکن اس کا درجہ حرارت 20 لاکھ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ عام حالات میں سیٹلائٹس پر نصب خصوصی آلات کے ذریعے سورج کی بیرونی فضا کا مشاہدہ کیا جاتا ہے تاہم مکمل سورج گرہن کے دوران انہیں سورج کی درمیانی فضائی تہہ کروموسفیئر کو بھی براہ راست دیکھنے کا نادر موقع مل جاتا ہے جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتا۔

یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) بھی اس موقع پر سورج سے نکلنے والی شمسی ہواؤں کا تفصیلی تجزیہ کرے گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ شمسی طوفان کس طرح سفر کرتے ہیں، ان کی ساخت کیا ہوتی ہے اور مستقبل میں ان کی زیادہ درست پیش گوئی کیسے ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: اگلے ماہ سورج گرہن، 2 سال بعد آسمان پر نایاب نظارہ

ای ایس اے کے مطابق سنہ 2020 میں خلا میں بھیجا گیا سولر آربیٹر مشن پہلے ہی سورج کی فضا اور شمسی ہواؤں سے متعلق قیمتی معلومات جمع کر رہا ہے جبکہ موجودہ گرہن ان مشاہدات اور سائنسی ماڈلز کو جانچنے کا بہترین موقع فراہم کرے گا۔

سائنس دانوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ مستقبل میں ’میسوم‘نامی مجوزہ خلائی مشن کے ذریعے ایک خلائی جہاز کو چاند کے سائے میں بھیج کر سورج گرہن کا پہلے سے کہیں زیادہ طویل مشاہدہ کیا جا سکے گا۔

ماہرین کے مطابق مکمل سورج گرہن نہ صرف سائنسی تحقیق کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے بلکہ یہ فنکاروں، محققین اور عام لوگوں کے لیے بھی حیرت اور تجسس کا باعث بنتا ہے یہی وجہ ہے کہ ایسے فلکیاتی مظاہر نئی سائنسی دریافتوں کی راہ ہموار کرتے رہتے ہیں۔

اہم تاریخی حقیقت

مکمل سورج گرہن نے ماضی میں بھی سائنس کی دنیا میں بڑی کامیابیوں کی بنیاد رکھی۔ 29 مئی 1919 کو مغربی افریقہ کے جزیرے پرنسیپ میں ہونے والے مکمل سورج گرہن کے دوران برطانوی ماہر فلکیات آرتھر ایڈنگٹن نے البرٹ آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت (تھیوری آف رلیٹیویٹی) کی عملی تصدیق کی تھی۔ انہوں نے سورج کے قریب سے گزرتی ستاروں کی روشنی کے خمیدہ ہونے کا مشاہدہ کیا جسے بعد میں آئن اسٹائن کے نظریے کی ایک اہم سائنسی شہادت قرار دیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp