بیجنگ: چین نے دنیا کے سب سے بڑے 582 ٹن وزنی فیوژن مقناطیس کا کامیاب تجربہ مکمل کر لیا ہے، جسے مصنوعی سورج بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد مستقبل میں جوہری فیوژن کے ذریعے صاف، محفوظ اور تقریباً لامحدود توانائی پیدا کرنا ہے۔
یہ جدید مقناطیس چینی علومِ اکیڈمی کے تحت انسٹی ٹیوٹ آف پلازما فزکس نے تیار کیا ہے۔ یہ ڈی نما سپر کنڈکٹنگ مقناطیس مقناطیسی قید کے ذریعے انتہائی گرم پلازما کو قابو میں رکھنے کے لیے استعمال ہوگا، جو جوہری فیوژن کے عمل کا بنیادی جزو ہے۔
یہ بھی پڑھیں:انسان نے رات کو دن بنانے کی ٹھان لی، ماہرین پریشان
21 میٹر لمبا اور 12 میٹر چوڑا یہ مقناطیس دنیا کے سب سے بڑے فیوژن ری ایکٹر کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کا حجم بین الاقوامی فیوژن منصوبے کے اسی نوعیت کے مقناطیس سے تقریباً 1.3 گنا زیادہ ہے، جبکہ اس میں محفوظ کی جانے والی توانائی تین گنا زیادہ بتائی گئی ہے۔
the West really is falling behind https://t.co/tWujR5Ms2s
— David Ondrej (@DavidOndrej1) July 27, 2026
یہ مقناطیس 10 کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت رکھنے والے پلازما کو طاقتور مقناطیسی میدان کے ذریعے قابو میں رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاکہ سورج میں ہونے والے قدرتی فیوژن کے عمل کو زمین پر دہرایا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: چین سورج کی سمت سے آنے والے خطرناک خلائی پتھروں کا سراغ لگائے گا
چینی حکام کے مطابق اس منصوبے میں استعمال ہونے والا زیادہ تر مواد اور تیاری مقامی سطح پر کی گئی ہے، جس سے غیرملکی ٹیکنالوجی اور سپلائی پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی سورج دراصل ایسا جوہری فیوژن ری ایکٹر ہے، جو سورج میں توانائی پیدا ہونے کے قدرتی عمل کی نقل کرتا ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ہو جاتی ہے تو مستقبل میں صاف، محفوظ اور تقریباً لامحدود بجلی کی فراہمی ممکن ہوسکتی ہے۔
چین کا ہدف ہے کہ وہ 2030 کے آس پاس فیوژن توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے قابل ہوجائے۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا نے سورج کے قریب ترین پہنچ کر تاریخ رقم کردی، خلائی جہاز سے رابطہ بھی بحال
اس کامیابی کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے چینی سائنسی ترقی کو سراہا، جبکہ بعض صارفین نے اسے عالمی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔














