‘عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں رہی’، سہیل آفریدی کا 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان

بدھ 5 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے مقدمات میں اب عدالتوں سے انصاف کی کوئی امید نہیں رہی۔ انہوں نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا بھی اعلان کر دیا۔

پشاور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے اپنے سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ملک کو درپیش مسائل کا ذمہ دار بھی قرار دیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز عمران خان کے مقدمات سے کیا اور عدلیہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا، ’آئینی ترامیم کے ذریعے عدالتوں کو بے اختیار کر دیا گیا ہے، اب ہمیں انصاف کی کوئی امید نہیں رہی۔‘

یہ بھی پڑھیں: چترال سے ’ریلیز عمران خان‘ تحریک کا آغاز: صوبے میں ناراض کارکنان کو منانے کے لیے کیا اقدامات جاری ہیں؟

سہیل آفریدی کے خطاب کے دوران کارکن مسلسل ’ڈی چوک، ڈی چوک‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالتوں سے انصاف کی امید ختم ہو گئی ہے تو اب وہ خود میدان میں نکل کر اپنا حق حاصل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ احتجاج کے ذریعے انصاف لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب اڈیالہ جیل جائیں گے اور کارکنوں سے سوال کیا کہ کیا وہ اس کے لیے تیار ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اب بہت ہو چکا، نکلنے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا، ’اگر آپ سب عمران خان کے لیے تیار ہیں تو پھر 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کریں گے۔‘

تاہم سہیل آفریدی نے یہ واضح نہیں کیا کہ اسلام آباد مارچ کہاں تک ہوگا، آیا شرکا اڈیالہ جیل جائیں گے یا ڈی چوک تک مارچ کریں گے۔ البتہ کارکن مسلسل ’ڈی چوک‘ کے نعرے لگاتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پی ٹی آئی پنجاب میں ایک اور لانگ مارچ کی تیاری کررہی ہے؟

اسلام آباد مارچ کے اعلان کے ساتھ سہیل آفریدی نے اپنے مطالبات بھی پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو 27 ستمبر کو پورا پاکستان سڑکوں پر نکلے گا۔ ان کے مطابق تمام مطالبات آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے مقدمات میرٹ پر سنے جائیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ مزید یہ کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں پر عائد پابندی ختم کر کے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ 27 ستمبر کو انصاف کے حصول کے لیے احتجاج کریں گے۔

پشاور جلسے میں کتنے لوگ شریک تھے؟

پاکستان تحریک انصاف نے کافی عرصے بعد پشاور میں سیاسی جلسہ منعقد کیا۔ ابتدائی طور پر یہ جلسہ عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونا تھا، تاہم بعد ازاں اسے موٹروے ٹول پلازہ کے قریب واقع کرکٹ گراؤنڈ منتقل ک دیا گیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جلسے کی جگہ کی تبدیلی ایک سیاسی حکمت عملی تھی۔

پشاور کے صحافی شہزادہ فہد کے مطابق مجموعی طور پر جلسہ کامیاب رہا، جس کی ایک بڑی وجہ مقام کا انتخاب تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کرکٹ گراؤنڈ میں تقریباً 5 ہزار افراد کی گنجائش تھی، جو مکمل طور پر بھر گئی، جبکہ متعدد کارکن گراؤنڈ کے باہر بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ’ریلیز عمران خان‘ جلسہ، پی ٹی آئی پشاور میں کتنے لاکھ لوگوں کے آنے کی توقع کر رہی ہے؟

انہوں نے کہا، ’عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں 20 ہزار سے زائد افراد کی گنجائش ہے، جہاں اتنی بڑی تعداد اکٹھی کرنا مشکل ہوتا، جبکہ اس گراؤنڈ کی گنجائش تقریباً 5 ہزار تھی، اس لیے جلسہ بھرپور اور کامیاب نظر آیا۔‘

شہزادہ فہد کے مطابق جلسے میں صوبے بھر سے کارکن شریک ہوئے، تاہم پارٹی کی مرکزی قیادت آخری وقت تک اسٹیج پر موجود نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ جلسے کی قیادت سہیل آفریدی کر رہے تھے، اس لیے منتخب اراکینِ اسمبلی کی دلچسپی نسبتاً کم دکھائی دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp