پاکستان اور صومالیہ نے دفاعی تعاون، پیشہ ورانہ روابط اور استعدادِ کار بڑھانے کے لیے تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
صومالی وزیرِ دفاع کی نیول ہیڈکوارٹرز اور ایئر ہیڈکوارٹرز میں اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقاتوں کے دوران علاقائی سلامتی، تربیت اور دوطرفہ دفاعی شراکت داری کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
دفاعی تعاون کے فروغ پر اتفاق
پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وفاقی جمہوریہ صومالیہ کے وزیرِ دفاع، سفیر احمد معلم فقی کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے دفاعی وفد نے نیول ہیڈکوارٹرز میں چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور ایئر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور صومالیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط
نیول ہیڈکوارٹرز میں ہونے والی ملاقات کے دوران باہمی پیشہ ورانہ دلچسپی کے امور، علاقائی بحری سلامتی اور دوطرفہ دفاعی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف دی نیول اسٹاف نے اس موقع پر صومالیہ کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
فضائی تعاون، تربیت اور استعدادِ کار پر زور
ایئر ہیڈکوارٹرز میں چیف آف ایئرچیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ہونے والی ملاقات میں دوطرفہ دفاعی تعاون، پیشہ ورانہ اشتراک، تربیتی پروگراموں اور استعدادِ کار میں اضافے سے متعلق امور زیرِ غور آئے۔
چیف آف دی ایئر اسٹاف نے پاکستان ایئر فورس کی مقامی سطح پر دفاعی صلاحیتوں کی ترقی، تربیتی نظام اور پیشہ ورانہ تبادلوں پر روشنی ڈالتے ہوئے صومالی فضائیہ کے ساتھ ادارہ جاتی تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
صومالی وزیرِ دفاع کا پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا اعتراف
صومالی وزیرِ دفاع نے علاقائی بحری سلامتی کے لیے پاک بحریہ کے کردار کو سراہتے ہوئے پاکستان ایئر فورس کی پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل صلاحیتوں کی بھی تعریف کی۔
انہوں نے دونوں افواج کے تجربات سے استفادہ اور مستقبل میں دفاعی تعاون کے مزید فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان اور صومالیہ کے درمیان دفاعی تعلقات گزشتہ چند برسوں کے دوران بتدریج مضبوط ہوئے ہیں۔
پاکستان اپنی مسلح افواج کے ذریعے دوست ممالک کو تربیت، پیشہ ورانہ تبادلوں اور استعدادِ کار بڑھانے کے مختلف پروگرام فراہم کرتا رہا ہے۔
دونوں ممالک علاقائی سلامتی، انسدادِ بحری قزاقی اور دفاعی تعاون کے شعبوں میں روابط کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔ حالیہ ملاقاتوں کو اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔














