مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں ایران کو آنے والے بحری جہازوں پر کنٹرول مل سکتا ہے، رائٹرز

جمعرات 6 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران اور عمان کے درمیان زیرِ غور ایک مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کی آمدورفت پر کنٹرول دیا جا سکتا ہے، جسے خطے میں طاقت کے توازن میں تہران کے حق میں ایک بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دعویٰ رائٹرز نے ایرانی اور علاقائی ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران اور عمان گزشتہ 5 ماہ سے جاری ایران امریکا جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔ مجوزہ انتظام کے تحت تجارتی جہاز خلیج میں داخل ہوتے اور باہر نکلتے وقت ایرانی علاقائی پانیوں سے گزریں گے، جبکہ ان کی نگرانی میں بھی ایران کو مرکزی کردار حاصل ہوگا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق معاہدہ قریب ہے، تاہم امریکی حکام ماضی میں بارہا یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ وہ دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ پر ایران کا کنٹرول قبول نہیں کریں گے۔ اس حوالے سے امریکا کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا سے گفتگو میں کہا کہ عمان کے ساتھ مذاکرات میں اہم بنیادی پیشرفت ہوئی ہے اور مجوزہ انتظام اس انداز سے تیار کیا جا رہا ہے کہ تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے آتے اور جاتے وقت ایرانی علاقائی پانیوں سے گزریں۔ ان کے بقول مذاکرات حتمی مرحلے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق مجوزہ معاہدے میں سب سے بڑا اختلاف اس بات پر ہے کہ ایران کو کس حد تک اختیار حاصل ہوگا۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے جہازوں کے کارگو کی مالیت کا 5 سے 7 فیصد بطور فیس وصول کرنا چاہتا ہے، جبکہ عمان تقریباً 3 فیصد فیس کی تجویز دے رہا ہے۔ دوسری جانب امریکا کسی بھی قسم کی لازمی فیس کے حق میں نہیں ہے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک چاہتے ہیں کہ جہازوں کے معائنے کی نگرانی علاقائی ریاستیں مشترکہ طور پر کریں اور اگر کوئی فیس عائد کی جائے تو وہ رضاکارانہ بنیادوں پر ہو۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، آبنائے ہرمز جلد کھل جائےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

ادھر ایران نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ ایرانی سرزمین پر حملہ کیا تو تہران خطے میں توانائی کے اہم تنصیبات اور دیگر حساس اہداف کو نشانہ بنائے گا۔ ایک خلیجی ذریعے کے مطابق ایران کا پیغام واضح تھا کہ امریکی کارروائی کی صورت میں اس کے قریبی اتحادی بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لاس ویگاس میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ مزید جانی نقصان نہیں چاہتے، تاہم ضرورت پڑنے پر سخت اقدامات سے گریز بھی نہیں کیا جائے گا۔

رائٹرز کے مطابق اگرچہ مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے، تاہم متعدد اہم معاملات اب بھی طے طلب ہیں، اس لیے کسی حتمی معاہدے کے فوری اعلان کی توقع قبل از وقت سمجھی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں شامل دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

پاکستان اور امریکا کا دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

خواتین نے مینگرووز کے جنگلات بحال کرکے دارالحکومت کو سمندر کے خطرات سے بچانا شروع کردیا

افغانستان دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا، عالمی برادری مؤثر اقدامات کرے، پاکستان

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ