ایران اور عمان کے درمیان زیرِ غور ایک مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کی آمدورفت پر کنٹرول دیا جا سکتا ہے، جسے خطے میں طاقت کے توازن میں تہران کے حق میں ایک بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دعویٰ رائٹرز نے ایرانی اور علاقائی ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران اور عمان گزشتہ 5 ماہ سے جاری ایران امریکا جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔ مجوزہ انتظام کے تحت تجارتی جہاز خلیج میں داخل ہوتے اور باہر نکلتے وقت ایرانی علاقائی پانیوں سے گزریں گے، جبکہ ان کی نگرانی میں بھی ایران کو مرکزی کردار حاصل ہوگا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق معاہدہ قریب ہے، تاہم امریکی حکام ماضی میں بارہا یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ وہ دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ پر ایران کا کنٹرول قبول نہیں کریں گے۔ اس حوالے سے امریکا کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
Proposed Hormuz deal would give Iran control of inbound traffic, sources sayhttps://t.co/QO6PJ2DEiY
— Economic Times (@EconomicTimes) August 5, 2026
ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا سے گفتگو میں کہا کہ عمان کے ساتھ مذاکرات میں اہم بنیادی پیشرفت ہوئی ہے اور مجوزہ انتظام اس انداز سے تیار کیا جا رہا ہے کہ تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے آتے اور جاتے وقت ایرانی علاقائی پانیوں سے گزریں۔ ان کے بقول مذاکرات حتمی مرحلے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق مجوزہ معاہدے میں سب سے بڑا اختلاف اس بات پر ہے کہ ایران کو کس حد تک اختیار حاصل ہوگا۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے جہازوں کے کارگو کی مالیت کا 5 سے 7 فیصد بطور فیس وصول کرنا چاہتا ہے، جبکہ عمان تقریباً 3 فیصد فیس کی تجویز دے رہا ہے۔ دوسری جانب امریکا کسی بھی قسم کی لازمی فیس کے حق میں نہیں ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک چاہتے ہیں کہ جہازوں کے معائنے کی نگرانی علاقائی ریاستیں مشترکہ طور پر کریں اور اگر کوئی فیس عائد کی جائے تو وہ رضاکارانہ بنیادوں پر ہو۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، آبنائے ہرمز جلد کھل جائےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
ادھر ایران نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ ایرانی سرزمین پر حملہ کیا تو تہران خطے میں توانائی کے اہم تنصیبات اور دیگر حساس اہداف کو نشانہ بنائے گا۔ ایک خلیجی ذریعے کے مطابق ایران کا پیغام واضح تھا کہ امریکی کارروائی کی صورت میں اس کے قریبی اتحادی بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لاس ویگاس میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ مزید جانی نقصان نہیں چاہتے، تاہم ضرورت پڑنے پر سخت اقدامات سے گریز بھی نہیں کیا جائے گا۔
رائٹرز کے مطابق اگرچہ مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے، تاہم متعدد اہم معاملات اب بھی طے طلب ہیں، اس لیے کسی حتمی معاہدے کے فوری اعلان کی توقع قبل از وقت سمجھی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں شامل دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔














