معروف اداکار شجاع اسد نے ڈراما ‘ڈاکٹر بہو’ کے اختتام پر مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اس ڈرامے نے خاندانوں کو غم، تعلقات اور ذمہ داری جیسے مشکل موضوعات پر بات کرنے کی ترغیب دی ہوگی۔
شجاع اسد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک جذباتی پیغام میں ان تمام ناظرین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ڈراما دیکھا، حمایت کی، اس پر گفتگو کی، اتفاق یا اختلاف کیا اور اس سفر کا حصہ بنے۔
یہ بھی پڑھیں: ’تن من نیل ونیل‘ کی شوٹنگ کے دوران ڈر گیا تھا، شجاع اسد
اداکار کا کہنا تھا کہ ان کے پیشے کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ کوئی کہانی ختم ہونے کے بعد بھی لوگوں کے درمیان بات چیت کا آغاز کر دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ‘ڈاکٹر بہو’ نے ناظرین کے گھروں میں غم، دباؤ، غیر صحت مند تعلقات، معافی اور جواب دہی جیسے مشکل موضوعات پر گفتگو کو جنم دیا ہے تو ان کی ٹیم ایک بامقصد کام کرنے میں کامیاب رہی۔
اپنے کردار سلمان کے بارے میں بات کرتے ہوئے شجاع اسد نے کہا کہ یہ کردار مکمل انسان کے طور پر نہیں لکھا گیا تھا۔ سلمان سے غلطیاں ہوئیں، اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بعض مواقع پر وہ ایسا شخص بن گیا جو وہ خود نہیں بننا چاہتا تھا۔
View this post on Instagram
انہوں نے کہا کہ کردار کی خاص بات یہ تھی کہ اس نے اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا، معذرت کی اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش کی، یہی چیز اسے حقیقت کے قریب بناتی ہے۔
شجاع اسد نے ڈرامے کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ساتھی اداکاروں، ہدایت کار، لکھاریوں، پروڈیوسرز، عملے اور پس پردہ کام کرنے والے تمام افراد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ان پر اعتماد کیا۔
انہوں نے اپنے پیغام کے ساتھ اداکارہ کبریٰ خان کے ہمراہ تصویر بھی شیئر کی، جنہوں نے اس سے قبل ڈرامے کے اختتام پر اپنی ٹیم کے لیے شکریہ کا پیغام جاری کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈراما سیریل’ڈاکٹر بہو‘ کیوں مشہور ہو رہا ہے؟، ہدایتکار مہرین جبار نے وجہ بتادی
کبریٰ خان نے کہا تھا کہ اس ڈرامے پر کام کرنا ان کے لیے شاندار تجربہ رہا۔ انہوں نے بتایا کہ نو ماہ کا سفر سیٹ پر موجود خوشگوار ماحول اور ساتھیوں کے ساتھ گزرتے ہوئے اس قدر تیزی سے مکمل ہوا کہ احساس ہی نہیں ہوا۔
اداکارہ نے اپنی ٹیم کو خاندان سے بڑھ کر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایسے دوستوں کی طرح تھے جو مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔














