امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن مذاکرات آسان نہیں ہوں گے اور ان میں وقت لگے گا، تاہم امریکا کو یقین ہے کہ بالآخر ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو اور جے ڈی وینس آمنے سامنے، واشنگٹن خفیہ ملاقات میں کیا ہوا؟ تفصیلات سامنے آگئیں
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے معاملے میں فوجی، اقتصادی اور سفارتی ذرائع سمیت تمام ممکنہ آپشنز استعمال کرے گی تاکہ مطلوبہ نتیجہ حاصل کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ عمل پیچیدہ ہوگا اور اس میں وقت لگے گا لیکن ہم اپنے تمام وسائل بروئے کار لا کر اس معاملے کو درست سمت میں لے جائیں گے۔
’ایران کی داخلی صورتحال مذاکرات کو پیچیدہ بناتی ہے‘
جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے اندر مختلف دھڑے موجود ہیں جس کی وجہ سے مذاکرات مزید مشکل ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت میں کچھ عناصر جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں جبکہ کچھ شدت پسند عناصر ایسے بھی ہیں جو کشیدگی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیے: جے ڈی وینس کا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے خلاف اسرائیلی اراکین کی سازش کا انکشاف
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کا مقصد ان حالات میں بہترین سفارتی راستہ اختیار کرتے ہوئے امریکی عوام اور صدر کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
’ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا‘
امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ واشنگٹن کی بنیادی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور امریکا اس عمل کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہوگا۔
جے ڈی وینس نے یہ بھی پیشگوئی کی کہ سفارتی پیشرفت کے ساتھ عالمی تیل کی قیمتوں میں استحکام آئے گا اور خام تیل کی قیمتیں کم رہیں گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مذاکرات ابھی جاری ہیں اس لیے ان کے نتائج کے بارے میں قبل از وقت رائے قائم نہیں کرنی چاہیے۔
آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان معاہدے کے قریب
دوسری جانب ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے نئے راستے اور اس اہم آبی گزرگاہ کے مشترکہ انتظام سے متعلق معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔
مزید پڑھیں: ’ہم آپ کے شکر گزار ہیں ‘، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا پاکستان کے سفارتی کردار کا اعتراف
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ دونوں ممالک مجوزہ بحری راستے کے جغرافیائی خدوخال پر اتفاقِ رائے حاصل کر چکے ہیں اور مشترکہ اعلامیے کا مسودہ آخری مراحل میں ہے۔
انہوں نے تاہم واضح کیا کہ ایران اور عمان کے درمیان ممکنہ معاہدہ اپنی جگہ لیکن صرف اس سے آبنائے ہرمز میں مکمل سیکیورٹی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
دریں اثنا رائٹرز کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت خلیج میں داخل ہونے والے جہاز ایرانی نگرانی والے راستے سے داخل ہوں گے جبکہ واپسی پر عمان کے زیر انتظام بحری راستہ استعمال کریں گے جس کے لیے سیکیورٹی اور بحری ماحول کے تحفظ کی مد میں سروس فیس بھی وصول کی جا سکتی ہے۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے، پاکستان
ادھر پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان ممکنہ معاہدہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کی بحالی میں مددگار ثابت ہوگا۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کو امید ہے کہ آبنائے ہرمز پر پیش رفت کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیل کو ایران کے ساتھ جاری امن عمل کا احترام کرنا ہوگا، جے ڈی وینس
انہوں نے کہا کہ پاکستان خلیجی خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے دوست ممالک کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے میں ہے اور عمان کی جانب سے امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتا ہے۔
🔴LIVE: Spokesperson’s Weekly Press Briefing 06-08-2026 at Ministry of Foreign Affairs, Islamabad https://t.co/aCYT2AeJtf
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 6, 2026
ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں جامع، منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے تمام مخلصانہ سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
ٹرمپ نے بھی جلد معاہدے کا عندیہ دیا
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدے کا اعلان کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ اس حوالے سے کافی پیشرفت ہو چکی ہے اور ممکن ہے معاہدے کا اعلان آج یا کل کر دیا جائے۔
مزید پڑھیں: جے ڈی وینس کی پاکستان آمد اور پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کا حصار، ویڈیو وائرل
رپورٹس کے مطابق مجوزہ عبوری معاہدے کے تحت ابتدائی طور پر 60 روز کے لیے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا نیا انتظام نافذ کیا جائے گا جس میں بعد ازاں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔












