بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے حال ہی میں انسٹاگرام پر غیررسمی انداز کی سیلفی ویڈیوز جاری کرنا شروع کر دی ہیں، جن کا مقصد نوجوان ووٹرز کو اپنی جانب متوجہ کرنا ہے۔
یہ اقدام جنریشن زی کے حالیہ احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں روزگار اور تعلیمی مواقع کی کمی پر شدید عوامی غصہ سامنے آیا تھا۔
واضح رہے کہ بھارت میں گزشتہ ماہ ایک امتحانی پرچہ لیک ہونے کے بعد ہزاروں طلبہ اور نوکری کے متلاشی نوجوان سڑکوں پر نکل آئے تھے۔
بھارت میں ایسے مقابلہ جاتی امتحانات پیشہ ورانہ کیریئر اور مالی تحفظ کا زینہ سمجھے جاتے ہیں، اس لیے پرچہ لیک ہونے کے واقعے نے عوامی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا۔
یہ بھی پڑھیں:اگر طلبا کو دھمکانا بند نہیں کیا تو پہلے سے بڑا احتجاج کریں گے، کاکروچ جنتا پارٹی کا اعلان
اس احتجاج کے نتیجے میں وفاقی وزیرِ تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا، جبکہ حکمران جماعت بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) کو اپنی سیاسی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرنی پڑی۔
سیلفی ویڈیوز سے ‘ڈیجیٹل چارم آفنسیو’ تک
بھارتی میڈیا کے مطابق مودی کی حالیہ ویڈیو کلپس میں انہیں بائیکر جیکٹ اور دھوپ کے چشمے پہنے ریپ میوزک کی دھن پر دکھایا گیا، جبکہ ایک اور ویڈیو میں مقبول امریکی سٹ کام ‘فرینڈز’ کا تھیم سونگ استعمال کیا گیا تاکہ ان کی ‘قابلِ بھروسا’ شخصیت کا تاثر اجاگر ہو۔
India’s Modi turns to Instagram to woo young voters after Gen Z protest https://t.co/tbVS0AsnWT https://t.co/tbVS0AsnWT
— Reuters (@Reuters) August 6, 2026
31 جولائی کو جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں مودی کو غیررسمی انداز میں ’ہیے فرینڈز‘ کہتے ہوئے دکھایا گیا، جسے ان کی اس نئی ڈیجیٹل مہم کی تازہ ترین کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
دہلی سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار عاصم علی کے مطابق ایسے پلیٹ فارمز اصل میں وہ ذریعہ ہیں جہاں سے ایک منظم اور اوپر سے نیچے کی سطح پر پہنچایا جانے والا سیاسی پیغام لاکھوں پیروکاروں تک پہنچایا جاتا ہے۔
وفاقی وزرا اور سرکاری اداروں کی بھی انسٹاگرام دوڑ
مودی کی ویڈیوز کے بعد گزشتہ 10 روز کے دوران کابینہ کے وزرا اور سرکاری محکموں نے بھی مختصر اور کم ترمیم شدہ ویڈیو کلپس جاری کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں:مودی کا مؤقف مسترد، کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج میں تیزی لانے کا اعلان، حکومت نے پھر مہلت مانگ لی
جمعرات کو وزارتِ خارجہ بھی اس فہرست میں شامل ہو گئی، جس نے اعلان کیا کہ وہ اب سنیپ چیٹ پر بھی سرگرم ہو گی۔
واضح رہے کہ 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے مودی کو بھارتی سیاسی مواصلات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا سہرا دیا جاتا ہے، جنہوں نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ووٹرز سے براہِ راست رابطہ استوار کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بی جے پی نے ٹیلی ویژن نیوز چینلز کے ساتھ ساتھ واٹس ایپ اور ایکس جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی ایک انتہائی مؤثر مواصلاتی نیٹ ورک تیار کر رکھا ہے۔
احتجاجی نوجوانوں نے مواصلاتی میدان میں کیسے سبقت لی؟
تجزیہ کار عاصم علی کے مطابق انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز سختی سے مرتب کیے گئے پیغامات کے بجائے بے ساختگی، مزاح اور اصلیت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں احتجاجی نوجوانوں نے بازی مار لی۔
انہوں نے انسٹاگرام ریلز اور مختصر ویڈیوز کے ذریعے اپنے پیغام کو مزید مؤثر بنایا، جس نے مودی کی سیاسی ناقابلِ تسخیریت کے تاثر اور حکومت کے بیانیے پر گرفت کو چیلنج کیا۔
India’s Modi turns to Instagram to woo young voters after Gen Z protest https://t.co/byzQaziKQ7 https://t.co/byzQaziKQ7
— Reuters World (@ReutersWorld) August 6, 2026
مشی گن یونیورسٹی کے انفارمیشن اسکول سے وابستہ پروفیسر جویوجیت پال کے مطابق ایسا مواد جو حد سے زیادہ ترتیب شدہ محسوس ہو، جہاں الفاظ ناپ تول کر بولے گئے ہوں اور پس منظر مصنوعی لگے، وہ نوجوان ناظرین کے لیے کم دلچسپ ثابت ہوتا ہے۔
2029 کے عام انتخابات پر نظریں
ماہرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی اس نئی مہم کے پیچھے نوجوان ووٹرز کی بڑھتی ہوئی سیاسی اہمیت کارفرما ہے۔
مزید پڑھیں:بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج 2 ہفتوں سے جاری، وزیر تعلیم کی برطرفی کا مطالبہ
بھارت کی 1.4 ارب کی آبادی میں نصف سے زیادہ افراد کی عمر 35 سال سے کم ہے اور توقع ہے کہ 2029 کے عام انتخابات تک جنریشن زی ووٹرز کا سب سے بڑا حلقہ بن چکی ہوگی، جو مودی کو چوتھی مدت کے لیے اقتدار میں لانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔
بی جے پی کے سوشل میڈیا کے سربراہ امت مالویہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جبکہ پارٹی کے 4 قومی ترجمانوں کو بھیجے گئے سوالات کا بھی کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
سوشل میڈیا سے آگے، زمینی رابطہ مہم بھی جاری
بی جے پی نے سوشل میڈیا کے علاوہ زمینی سطح پر بھی رابطہ مہم تیز کر دی ہے۔
اسی سلسلے میں جمعرات کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت ممبئی میں تقریباً 2,000 طلبہ سے خطاب کریں گے، جسے پارٹی کی نظریاتی تنظیم کی جانب سے نوجوانوں تک پہنچنے کی اب تک کی سب سے بڑی کوششوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
احتجاج کے بعد کابینہ اجلاس میں مودی نے وزرا کو ہدایت کی کہ وہ نوجوانوں میں مقبول پلیٹ فارمز پر زیادہ سرگرم ہوں اور اپنی ویڈیوز کو کم پیشہ ورانہ اور زیادہ فطری انداز میں پیش کریں۔
ایک بی جے پی وزیر کی مواصلاتی ٹیم کے رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پہلے زیادہ تر مواد ایکس اور فیس بک کے لیے مخصوص جامد پوسٹس پر مشتمل ہوتا تھا، مگر اب مطالبہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ ریلز بنائی جائیں۔
‘میں جنریشن زی ہوں’ کے پوسٹرز، حکمتِ عملی کامیاب ہوگی؟
ممبئی کی سڑکوں پر ’آئی ایم جین زی ‘ کے عنوان سے پوسٹرز بھی نمودار ہوئے ہیں، جن پر جنریشن زی سے منسوب مختلف عہد درج ہیں، جن میں پولیس، فوج اور مودی کا احترام کرنے کے ساتھ ساتھ طلبہ کی حمایت کے وعدے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت سے کامیاب مذاکرات، ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا
تاہم یہ حکمتِ عملی کس حد تک کامیاب ہوگی، اس بارے میں ابھی حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
مصنف اور پوڈکاسٹر انوراگ مائنس ورما کے مطابق انٹرنیٹ کی اپنی ایک زبان اور ثقافت ہے، اور سنجیدہ سیاسی پیغام کو ری لز کی شکل میں پیش کرنے کے باوجود اسے تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ان کے بقول انسٹاگرام پر توجہ ضرور بڑھے گی، مگر یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ جنریشن زی اس حکمتِ عملی کو کس حد تک قبول کرتی ہے۔













