پشاور ہائیکورٹ نے 2 سابق افغان جرنیلوں کی پاکستان میں عارضی قیام کی درخواستیں مسترد کر دیں

جمعرات 6 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور ہائیکورٹ نے 2 سابق افغان فوجی افسران کی جانب سے پاکستان میں عارضی قیام، ویزے میں توسیع اور دیگر ریلیف کے لیے دائر درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ ویزوں کی تجدید یا توسیع کا اختیار وزارتِ داخلہ کے متعلقہ حکام کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے، اور کسی غیر قانونی اقدام کے بغیر عدالت اس معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

واضح رہے کہ طالبان حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کی سابق حکومت سے وابستہ متعدد فوجی افسران، صحافی اور دیگر شہری اپنی جانوں کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر افغانستان چھوڑ کر پاکستان منتقل ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان حکومت وطن واپس آنے والے افغان مہاجرین کی آبادکاری میں ناکام، انسانی بحران کا خدشہ

ایسے 8 افراد نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ افغانستان واپسی ان کے لیے محفوظ نہیں، اس لیے انہیں پاکستان میں قیام کی اجازت دی جائے تاکہ وہ یہاں سے کسی تیسرے ملک منتقل ہونے کے لیے کارروائی مکمل کر سکیں۔

عدالت نے ان درخواستوں پر تفصیلی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، جس میں سے 2 درخواستوں پر جمعرات کو تحریری فیصلہ جاری کیا گیا۔

درخواست گزار کون ہیں؟

پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد کی جانب سے جاری کردہ تحریری فیصلے کے مطابق درخواست گزاروں میں بریالی شریفی سابق افغان نیشنل آرمی، جسے مقامی زبان میں ‘ملی اردو’ کہا جاتا ہے، میں جنرل کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔

جبکہ دوسرے درخواست گزار عبدالمجیب افغانستان کے سابق صدر کی پروٹیکٹو سروس میں اسپیشل ایجنٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔

درخواست گزاروں کا مؤقف

فیصلے میں بتایا گیا کہ دونوں درخواست گزاروں نے عدالت کے سامنے مؤقف اپنایا تھا کہ افغانستان واپسی کی صورت میں انہیں جان کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

انہوں نے اپنے افغان پاسپورٹس اور دیگر دستاویزات کی بنیاد پر پاکستان میں ہنگامی طبی علاج کی سہولت فراہم کرنے کی بھی استدعا کی تھی۔

مزید پڑھیں:’پاکستان جیسی زندگی وہاں نہیں ملے گی، ہم شکر گزار ہیں‘، واپس جاتے افغان مہاجرین کے تاثرات

اس کے علاوہ انہوں نے عدالت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ حکام کو ان کے خلاف ہراساں کرنے، گرفتاری اور ملک بدری جیسی کارروائیوں سے روکا جائے۔

عدالت کے سوالات، وکلا مطمئن نہ کر سکے

سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا تھا کہ کیا ان سابق افسران کو کسی دوسرے ملک کی جانب سے ویزے یا آبادکاری کی کوئی منظوری یا سفارش موصول ہوئی ہے، تاہم درخواست گزاروں کے وکلا اس نکتے پر عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔

عدالتی فیصلے کی بنیاد

پشاور ہائیکورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ ویزوں کی تجدید یا توسیع کا معاملہ خالصتاً وزارتِ داخلہ کے مجاز انتظامی حکام کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور جب تک کسی غیر قانونی اقدام یا قانونی حق کی خلاف ورزی ثابت نہ ہو، عدالت ایسے انتظامی معاملات میں مداخلت کی مجاز نہیں۔

عدالت نے ان ہی وجوہات کی بنا پر دونوں سابق افغان افسران کی درخواستیں خارج کر دیں۔ واضح رہے کہ باقی ماندہ 6 درخواست گزاروں کے مقدمات پر فیصلہ تاحال محفوظ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

واٹس ایپ کے گروپ چیٹس مزید جدید، صارفین کے لیے 3 نئے فیچرز متعارف

گوگل میپس میں نیا فیچر: اب ایپ آپ کے لیے کھانا بھی آرڈر کرے گی

افغانستان میں طالبان مخالف گروپس کی کارروائیاں تیز، چوکی پر حملہ کرکے اسلحہ پر قبضے کا دعویٰ

لیک رپورٹ نے ٹک ٹاک کی نوجوانوں کے تحفظ کی پالیسی پر نئی بحث چھیڑ دی

کیا اے آئی واقعی قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی، میٹا اور دیگر نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

ویڈیو

شہبازشریف کا مستقبل کیا؟ بڑی خبر، کراچی میں ایم کیو ایم کی جگہ پی ٹی آئی کیوں؟ نئے صوبوں کا قیام، اندر کی خبر

براڈ پیک سانحہ: نرمل پرجا سمیت 5 بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی لاشیں اسکردو منتقل، 2 لاپتا افراد کی تلاش جاری

وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب روانہ، سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے اہم ملاقات کریں گے

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ