افغانستان کے شمالی صوبے بغلان میں طالبان مخالف گروپس نے طالبان حکومت کی ایک چوکی پر حملہ کرکے اسلحہ قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
افغانستان میڈیا کے مطابق مقامی بدھ کی رات ضلع دہ صلاح میں طالبان کی ایک چوکی کو نشانہ بنایا گیا، جہاں حملہ آوروں نے پہلے راکٹ داغے اور بعد ازاں طالبان اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، کارروائیوں کا دائرہ کئی صوبوں تک پھیل گیا
مزاحمتی جنگجوؤں نے چوکی پر قبضہ کر کے وہاں موجود اسلحہ اور دیگر سامان اپنے قبضے میں لے لیا، جس کے بعد وہ علاقے سے واپس چلے گئے۔ تاہم کسی بھی مزاحمتی تنظیم نے تاحال اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
حملہ رات تقریباً 10:20 بجے ضلع دہ صلاح کے مرکز سے تقریباً 2 کلومیٹر دور اندراب وادی میں واقع چوکی پر کیا گیا۔ جھڑپ کے دوران فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
حملے کے بعد طالبان اہلکاروں نے ضلع کے مختلف دیہات میں گھروں کی تلاشی لی۔ مقامی افراد کے مطابق 27 جولائی کو کسا تراش گاؤں میں طالبان چوکی پر راکٹ حملے کے بعد بھی اسی طرح کی کارروائیاں کی گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: بدخشاں طالبان مخالف مزاحمت کا نیا مرکز بننے لگا،امریکی رپورٹ
رپورٹ کے مطابق یہ حملہ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروپوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے دوران سامنے آیا ہے۔ افغانستان فریڈم فرنٹ، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ، افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ اور سپاہ میہن فرنٹ سمیت مختلف گروپوں نے حالیہ دنوں میں کئی صوبوں میں طالبان اہداف پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گل محمد پہلوان کی قیادت میں ایک نئے مسلح گروپ ‘جبهہ رہائی بخش’ کے قیام کا بھی امکان ہے، جس کا باضابطہ اعلان آنے والے دنوں میں متوقع ہے۔
افغانستان کے مقامی ذرائع کے مطابق اس گروپ سے منسلک جنگجوؤں نے رواں ہفتے فاریاب کے ضلع بلچراغ اور غورماچ میں طالبان فورسز کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن
افغان امور کے ماہرین کے مطابق فاریاب، بدخشان اور بغلان سمیت کئی صوبوں میں مزاحمتی کارروائیوں میں اضافہ ہورہا ہے، جو طالبان حکومت کے خلاف سیاسی، معاشی اور سماجی شکایات کی عکاسی کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئے مسلح گروپوں کے سامنے آنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان حکومت کی مخالفت بتدریج مختلف علاقوں میں مقامی سطح پر منظم ہورہی ہے۔














