افغانستان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے تقریباً 5 سال بعد طالبان مخالف مسلح مزاحمت ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بدخشان میں طالبان مخالف کارروائیاں تیز، مختلف اضلاع میں جھڑپیں، سیکیورٹی صورتحال کشیدہ
تازہ تجزیوں کے مطابق طالبان مخالف کارروائیاں اب محض محدود گوریلا حملوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ مختلف مزاحمتی گروہوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون، جغرافیائی پھیلاؤ اور نسبتاً منظم عسکری کارروائیوں نے اس تحریک کو ایک مسلسل بغاوت کی شکل دینا شروع کر دی ہے۔
اگرچہ طالبان حکومت خود کو افغانستان کی بلا شرکت غیرے حکمران قوت قرار دیتی ہے تاہم زمینی صورتحال اس تاثر سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ملک کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں مزاحمتی سرگرمیوں میں اضافہ طالبان کے اس دعوے کو مسلسل چیلنج کر رہا ہے کہ وہ پورے افغانستان پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔
Freedom fighters of (AFF) launched a rocket attack on a Taliban military convoy travelling from Kabul to Badakhshan Province on Saturday, 25 July 2026.
The attack was carried out in the Doshi District after AFF guerrilla fighters tracked the convoy from Kabul to the Northern… pic.twitter.com/GJQYMK4qx7— Afghanistan Freedom Front (@FREEDOMFRONTAFG) July 26, 2026
رپورٹ کے مطابق صوبہ بدخشان طالبان مخالف مزاحمت کا اہم ترین مرکز بنتا جا رہا ہے جہاں طالبان کی چوکیوں پر مسلسل حملے مقامی سطح پر مزاحمتی نیٹ ورکس کا پھیلاؤ اور نئے مزاحمتی گروہوں کی تشکیل دیکھی جا رہی ہے۔ دشوار گزار جغرافیہ، طالبان مخالف عوامی جذبات، تاجکستان سے قربت اور مسلسل عسکری کارروائیاں بدخشان کو مزاحمت کے لیے ایک اہم محاذ بنا رہی ہیں۔
مزید پڑھیے: بدخشاں میں لڑائی شدت اختیار کر گئی، فریڈم فرنٹ کا طالبان کے 2 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ طالبان مخالف کارروائیاں اب صرف پنج شیر اور اندراب تک محدود نہیں رہیں بلکہ کابل، بغلان، تخار، کندوز، پروان، کاپیسا، بدخشان، بلخ، ہرات اور دیگر کئی صوبوں تک پھیل چکی ہیں۔ اس پھیلاؤ نے طالبان کو ایک ہی وقت میں متعدد محاذوں پر اپنی فورسز تعینات کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی 16ویں رپورٹ کے مطابق جنوری سے جولائی 2025 کے دوران نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے 73 جبکہ افغانستان فریڈم فرنٹ نے 43 حملے کیے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار طالبان کی مسلسل انسدادِ بغاوت کارروائیوں کے باوجود مزاحمتی گروہوں کی عملی صلاحیت برقرار رہنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس سے قبل 2024 میں افغانستان فریڈم فرنٹ نے 83 جبکہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے 261 حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔
بدخشان کے ضلع زیبک میں طالبان اور فریڈم فرنٹ کے درمیان جھڑپوں کے حوالے سے فریڈم فرنٹ نے اہم دعوے کیے ہیں۔ تنظیم کے مطابق اس نے طالبان کے دو فوجی ڈرون مار گرائے، طالبان کی پیش قدمی ناکام بنائی، اور کمک لے جانے والے ہیلی کاپٹروں کو شدید فائرنگ کے باعث واپس لوٹنے پر مجبور کر… pic.twitter.com/8VmNDNlmpj
— Yasir Hakeem (@mughal207) July 25, 2026
مزید بتایا گیا کہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے مارچ 2024 سے مارچ 2025 کے دوران 19 صوبوں میں 401 کارروائیاں کیں جبکہ افغانستان فریڈم فرنٹ نے اسی عرصے میں 87 کارروائیوں اور 31 صوبوں تک اپنی تنظیمی موجودگی بڑھانے کا دعویٰ کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعداد و شمار مزاحمتی تنظیموں کے بڑھتے ہوئے اعتماد، بھرتیوں اور طالبان پر مسلسل دباؤ برقرار رکھنے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: بدخشان میں افغانستان فریڈم فرنٹ کی بڑی کارروائی، سینیئر کمانڈرز سمیت 21 طالبان اہلکار ہلاک
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان مخالف مزاحمت مختلف تنظیموں کے درمیان زیادہ مربوط ہوتی جا رہی ہے۔ اپریل 2024 میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے رہنما احمد مسعود اور افغانستان فریڈم فرنٹ کے رہنما یاسین ضیا نے مزاحمتی کوششوں کو مضبوط بنانے اور باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا، جس کے بعد دونوں گروہوں نے طالبان کے انٹیلی جنس مراکز، چیک پوسٹوں اور عسکری تنصیبات کو متعدد مواقع پر نشانہ بنایا۔
فروری اور اپریل 2026 کے دوران افغانستان فریڈم فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے الگ الگ بدخشان کے بہارک اور گرد و نواح میں طالبان کے ٹھکانوں پر حملوں کا دعویٰ کیا جبکہ جولائی 2026 میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے راغ ضلع میں طالبان کے ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے دو طالبان جنگجوؤں کی ہلاکت اور عسکری سازوسامان تباہ کرنے کا اعلان کیا۔ رپورٹ کے مطابق ان مسلسل کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مزاحمت اب وقتی حملوں کے بجائے ایک منظم مہم کی صورت اختیار کر رہی ہے۔
#BREAKING
Afghanistan Freedom Front Advance, Capture of Taliban Outposts in Zibak, BadakhshanThe Afghanistan Freedom Front (AFF) on Sunday (26 July) released videos of its fighters advancing and capturing Taliban outposts in Zibak district, Badakhshan, contradicting…2️⃣ pic.twitter.com/o6Vk6lU37c
— Aamaj News English (@aamajnews_EN) July 26, 2026
تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان مخالف تحریک نئے گروہوں کی تشکیل کے باعث بھی وسعت اختیار کر رہی ہے۔ 2026 میں نیشنل موبلائزیشن فرنٹ منظر عام پر آیا، جس میں سابق افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار، نوجوان کارکن اور مقامی جنگجو شامل بتائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سپاہیانِ میہن نامی ایک اور تنظیم بھی سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 17 جولائی 2026 کو سپاہیانِ میہن نے ضلع یافتل میں طالبان کے خلاف مربوط حملہ کیا اور مختصر وقت کے لیے علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔
تنظیم کے مطابق اس کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں کو غیر مسلح کیا گیا، اسلحہ اور فوجی سامان قبضے میں لیا گیا، سرکاری عمارتوں پر کنٹرول حاصل کیا گیا اور مزاحمت کا پرچم لہرایا گیا۔ تجزیے کے مطابق یہ کارروائی 2021 کے بعد طالبان کو پیش آنے والے اہم عسکری دھچکوں میں شمار کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بدخشاں میں طالبان مخالف جنگجوؤں کا حملہ، طالبان کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت کو اندرونی دھڑے بندی، نسلی اختلافات، معاشی مشکلات، عوامی بے چینی اور سابق سکیورٹی اہلکاروں میں پائی جانے والی ناراضی جیسے مسائل کا سامنا ہے جو مزاحمتی گروہوں کے لیے نئی بھرتیوں اور حمایت حاصل کرنے کا ماحول پیدا کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ہر کامیاب مزاحمتی کارروائی طالبان کے ملک گیر استحکام کے دعوے کو مزید کمزور کرتی ہے اور انہیں حکمرانی کے بجائے داخلی سیکیورٹی پر زیادہ وسائل خرچ کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ طالبان مخالف تحریک اب ایک واحد مزاحمتی گروہ سے بڑھ کر متعدد مسلح تنظیموں پر مشتمل ایک وسیع تحریک بنتی جا رہی ہے۔
According to reports, fighting is ongoing in four districts of Badakhshan Province. The Front for Freedom and Homeland Corps forces have made advances in some areas during their guerrilla operations.
On Saturday, claims were made of losses inflicted on the Taliban in the fighting… pic.twitter.com/SK0vWlZkOS— Mirwais Karzai (میروائس کرزئی) (@Mirwais_karzai) July 27, 2026
مختلف علاقوں میں کارروائیوں کا تسلسل، نئے گروہوں کا قیام اور تنظیموں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طالبان مخالف مزاحمت بقا کی جدوجہد سے نکل کر ایک مستقل مسلح بغاوت کی شکل اختیار کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: طالبان کے خلاف جنگ نئے مرحلے میں داخل، فریڈم فرنٹ کا بڑا دعویٰ
تجزیے کے مطابق اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو شمالی افغانستان میں طالبان کا کنٹرول بتدریج کمزور ہو سکتا ہے جبکہ بدخشان وہ صوبہ بن سکتا ہے جہاں طالبان کی گرفت سب سے پہلے نمایاں طور پر کمزور پڑنے کا امکان ہے۔












