طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

پیر 27 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے تقریباً 5 سال بعد طالبان مخالف مسلح مزاحمت ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بدخشان میں طالبان مخالف کارروائیاں تیز، مختلف اضلاع میں جھڑپیں، سیکیورٹی صورتحال کشیدہ

تازہ تجزیوں کے مطابق طالبان مخالف کارروائیاں اب محض محدود گوریلا حملوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ مختلف مزاحمتی گروہوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون، جغرافیائی پھیلاؤ اور نسبتاً منظم عسکری کارروائیوں نے اس تحریک کو ایک مسلسل بغاوت کی شکل دینا شروع کر دی ہے۔

اگرچہ طالبان حکومت خود کو افغانستان کی بلا شرکت غیرے حکمران قوت قرار دیتی ہے تاہم زمینی صورتحال اس تاثر سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ملک کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں مزاحمتی سرگرمیوں میں اضافہ طالبان کے اس دعوے کو مسلسل چیلنج کر رہا ہے کہ وہ پورے افغانستان پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ بدخشان طالبان مخالف مزاحمت کا اہم ترین مرکز بنتا جا رہا ہے جہاں طالبان کی چوکیوں پر مسلسل حملے مقامی سطح پر مزاحمتی نیٹ ورکس کا پھیلاؤ اور نئے مزاحمتی گروہوں کی تشکیل دیکھی جا رہی ہے۔ دشوار گزار جغرافیہ، طالبان مخالف عوامی جذبات، تاجکستان سے قربت اور مسلسل عسکری کارروائیاں بدخشان کو مزاحمت کے لیے ایک اہم محاذ بنا رہی ہیں۔

مزید پڑھیے: بدخشاں میں لڑائی شدت اختیار کر گئی، فریڈم فرنٹ کا طالبان کے 2 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ طالبان مخالف کارروائیاں اب صرف پنج شیر اور اندراب تک محدود نہیں رہیں بلکہ کابل، بغلان، تخار، کندوز، پروان، کاپیسا، بدخشان، بلخ، ہرات اور دیگر کئی صوبوں تک پھیل چکی ہیں۔ اس پھیلاؤ نے طالبان کو ایک ہی وقت میں متعدد محاذوں پر اپنی فورسز تعینات کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی 16ویں رپورٹ کے مطابق جنوری سے جولائی 2025 کے دوران نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے 73 جبکہ افغانستان فریڈم فرنٹ نے 43 حملے کیے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار طالبان کی مسلسل انسدادِ بغاوت کارروائیوں کے باوجود مزاحمتی گروہوں کی عملی صلاحیت برقرار رہنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس سے قبل 2024 میں افغانستان فریڈم فرنٹ نے 83 جبکہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے 261 حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔

مزید بتایا گیا کہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے مارچ 2024 سے مارچ 2025 کے دوران 19 صوبوں میں 401 کارروائیاں کیں جبکہ افغانستان فریڈم فرنٹ نے اسی عرصے میں 87 کارروائیوں اور 31 صوبوں تک اپنی تنظیمی موجودگی بڑھانے کا دعویٰ کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعداد و شمار مزاحمتی تنظیموں کے بڑھتے ہوئے اعتماد، بھرتیوں اور طالبان پر مسلسل دباؤ برقرار رکھنے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بدخشان میں افغانستان فریڈم فرنٹ کی بڑی کارروائی، سینیئر کمانڈرز سمیت 21 طالبان اہلکار ہلاک

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان مخالف مزاحمت مختلف تنظیموں کے درمیان زیادہ مربوط ہوتی جا رہی ہے۔ اپریل 2024 میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے رہنما احمد مسعود اور افغانستان فریڈم فرنٹ کے رہنما یاسین ضیا نے مزاحمتی کوششوں کو مضبوط بنانے اور باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا، جس کے بعد دونوں گروہوں نے طالبان کے انٹیلی جنس مراکز، چیک پوسٹوں اور عسکری تنصیبات کو متعدد مواقع پر نشانہ بنایا۔

فروری اور اپریل 2026 کے دوران افغانستان فریڈم فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے الگ الگ بدخشان کے بہارک اور گرد و نواح میں طالبان کے ٹھکانوں پر حملوں کا دعویٰ کیا جبکہ جولائی 2026 میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے راغ ضلع میں طالبان کے ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے دو طالبان جنگجوؤں کی ہلاکت اور عسکری سازوسامان تباہ کرنے کا اعلان کیا۔ رپورٹ کے مطابق ان مسلسل کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مزاحمت اب وقتی حملوں کے بجائے ایک منظم مہم کی صورت اختیار کر رہی ہے۔

تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان مخالف تحریک نئے گروہوں کی تشکیل کے باعث بھی وسعت اختیار کر رہی ہے۔ 2026 میں نیشنل موبلائزیشن فرنٹ منظر عام پر آیا، جس میں سابق افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار، نوجوان کارکن اور مقامی جنگجو شامل بتائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سپاہیانِ میہن نامی ایک اور تنظیم بھی سامنے آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 17 جولائی 2026 کو سپاہیانِ میہن نے ضلع یافتل میں طالبان کے خلاف مربوط حملہ کیا اور مختصر وقت کے لیے علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔

تنظیم کے مطابق اس کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں کو غیر مسلح کیا گیا، اسلحہ اور فوجی سامان قبضے میں لیا گیا، سرکاری عمارتوں پر کنٹرول حاصل کیا گیا اور مزاحمت کا پرچم لہرایا گیا۔ تجزیے کے مطابق یہ کارروائی 2021 کے بعد طالبان کو پیش آنے والے اہم عسکری دھچکوں میں شمار کی جا رہی ہے۔

یہ بھی  پڑھیے: بدخشاں میں طالبان مخالف جنگجوؤں کا حملہ، طالبان کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت کو اندرونی دھڑے بندی، نسلی اختلافات، معاشی مشکلات، عوامی بے چینی اور سابق سکیورٹی اہلکاروں میں پائی جانے والی ناراضی جیسے مسائل کا سامنا ہے جو مزاحمتی گروہوں کے لیے نئی بھرتیوں اور حمایت حاصل کرنے کا ماحول پیدا کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ہر کامیاب مزاحمتی کارروائی طالبان کے ملک گیر استحکام کے دعوے کو مزید کمزور کرتی ہے اور انہیں حکمرانی کے بجائے داخلی سیکیورٹی پر زیادہ وسائل خرچ کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ طالبان مخالف تحریک اب ایک واحد مزاحمتی گروہ سے بڑھ کر متعدد مسلح تنظیموں پر مشتمل ایک وسیع تحریک بنتی جا رہی ہے۔

مختلف علاقوں میں کارروائیوں کا تسلسل، نئے گروہوں کا قیام اور تنظیموں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طالبان مخالف مزاحمت بقا کی جدوجہد سے نکل کر ایک مستقل مسلح بغاوت کی شکل اختیار کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: طالبان کے خلاف جنگ نئے مرحلے میں داخل، فریڈم فرنٹ کا بڑا دعویٰ

تجزیے کے مطابق اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو شمالی افغانستان میں طالبان کا کنٹرول بتدریج کمزور ہو سکتا ہے جبکہ بدخشان وہ صوبہ بن سکتا ہے جہاں طالبان کی گرفت سب سے پہلے نمایاں طور پر کمزور پڑنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جرمن نشریاتی ادارے کی پاکستان مخالف دستاویزی فلم پرشدید ردعمل، مشاہد حسین، طلعت حسین اور خواجہ آصف کی کڑی تنقید

شدید گرمی ذہن کو بھی متاثر کرتی ہے، ماہرین نے ’ہیٹ ویو اینگزائٹی‘ سے نمٹنے کے طریقے بتا دیے

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

اوپن اے آئی کے تجرباتی ماڈلز خو ہی ہیکر بن گئے، حقیقت کیا ہے؟

جنرل عامر رضا نے نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی کمان سنبھال لی، گارڈ آف آنر پیش

ویڈیو

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

جنوبی افریقہ میں فائرنگ کا واقعہ، 2 سگے بھائیوں سمیت 4 پاکستانی جاں بحق، پولیس نے تحقیقات کا آغاز کردیا

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں وقفہ، عالمی منڈی میں تیل 6 فیصد سے زائد سستا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان