امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ ’بہت جلد‘ ختم ہونے کی توقع ہے، جبکہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے معاہدہ آخری مراحل میں پہنچ گیا ہے۔ دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ تجارتی جہاز رانی بلا رکاوٹ بحال ہوتے ہی امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کردے گا۔
الجزیرہ اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران جنگ کے حوالے سے امید ظاہر کی ہے کہ یہ تنازع بہت جلد اختتام پذیر ہوجائے گا۔ انہوں نے امریکی فوج کے پاس موجود اسلحے کے ذخائر سے متعلق خدشات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس بڑی مقدار میں گولہ بارود اور میزائل موجود ہیں۔
The US will lift its blockade of Iranian ports once commercial shipping resumes through the Strait of Hormuz “without impediments”, a US official told Reuters, adding Washington expects Iran and Oman to reach a deal soon.
🔴 LIVE updates: https://t.co/KacredufGv pic.twitter.com/DNN5f5xkUl
— Al Jazeera English (@AJEnglish) August 8, 2026
ایران کی جانب سے بھی کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے عمان کے ساتھ مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔ دونوں ممالک نے آبنائے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے مجوزہ بحری راستوں کے نقاط پر بھی اتفاق کرلیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکا کو توقع ہے کہ ایران اور عمان جلد آبنائے ہرمز کے حوالے سے معاہدہ کرلیں گے۔ عہدیدار کے بقول دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر پیش رفت ہورہی ہے اور معاہدہ جلد سامنے آنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کو ایران جنگ جلد ختم ہونے کی امید، آبنائے ہرمز معاہدہ بھی قریب پہنچ گیا
امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ جیسے ہی ایسا معاہدہ طے پاتا ہے جس کے تحت تجارتی جہاز رانی بغیر کسی رکاوٹ کے بحال ہوجاتی ہے، امریکا ایرانی بندرگاہوں کی عائد کردہ ناکہ بندی ختم کردے گا۔ تاہم امریکا کی جانب سے اس کے بعد کیے جانے والے کسی بھی مزید اقدام کا انحصار ایران کی جانب سے اپنے وعدوں پر عمل درآمد پر ہوگا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کے ذریعے عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار منتقل ہوتی ہے۔ جنگ کے دوران آبنائے میں جہاز رانی متاثر ہونے سے عالمی توانائی منڈیوں اور خطے کی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔














