فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کے لیے تیار ہے اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے، تاہم اسرائیل کا اصرار ہے کہ وہ معاہدے کے تازہ ترین حصے پر رضامند نہیں ہوا۔
حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کو آگاہ کیا ہے کہ وہ منصوبے کے تازہ ترین مرحلے پر قائم ہے، جس کے تحت حماس جنگ سے تباہ حال غزہ میں قائم ہونے والی فلسطینی انتظامی کمیٹی کے حوالے اپنے ہتھیار کرے گی۔
مزید پڑھیں: غیر مسلح ہونے سے متعلق معاہدے کے لیے اسرائیل پہلے اپنے وعدے نبھائے، حماس کا ڈونلڈ ٹرمپ کو جواب
حماس کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں نے ثالثوں کو اپنی اس آمادگی سے آگاہ کردیا ہے کہ وہ معاہدے پر عملدرآمد شروع کرنے اور دوسرے مرحلے کی جانب بڑھنے کے لیے تیار ہیں، تاہم اس کے لیے اسرائیل کی منظوری اور اسرائیل کی جانب سے معاہدے پر عملدرآمد شروع کرنا ضروری ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر حماس کے عہدیدار نے کہاکہ حماس امریکی انتظامیہ پر زور دے رہی ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ اسے معاہدے کی پاسداری اور دوسرے مرحلے کی جانب پیشرفت پر مجبور کیا جاسکے۔
اسرائیل کا امن منصوبے کے مسودے سے اتفاق نہ کرنے کا مؤقف
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو، جنہیں اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں سخت مقابلے کا سامنا ہے اور جو غزہ معاہدے کے حوالے سے اپنی دائیں بازو کی حمایت رکھنے والے حلقوں کی شدید مخالفت کا سامنا کر رہے ہیں، نے منگل کو کہا تھا کہ اسرائیل نے ’بورڈ آف پیس‘ کی جانب سے پیش کیے گئے مسودے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اس پیشرفت کو اہم کامیابی قرار دیا تھا کہ حماس نے منصوبے کے تحت غیر مسلح ہونے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
’بورڈ آف پیس‘ کا کہنا تھا کہ اس کے بدلے میں اسرائیل غزہ کے بیشتر علاقوں سے مرحلہ وار انخلا کرے گا۔
اسرائیلی مؤقف میں تبدیلی
نیتن یاہو نے پیر کو ’بورڈ آف پیس‘ کے غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادینوف سے ملاقات کی، جنہوں نے بعد میں اپنے مؤقف میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کے بعد ہی غزہ سے انخلا کرے گا۔
اسرائیلی فوج نے بھی فلسطینی گروپ کے خلاف حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم غزہ میں اسرائیلی حملے جاری رہنے کے باوجود حالیہ دنوں میں ان کی شدت میں کمی دکھائی دے رہی ہے۔
ہفتے کے روز خان یونس کے ناصر اسپتال نے اطلاع دی کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 3 افراد زخمی ہوئے۔
مزید پڑھیں: غزہ میں حماس کی حکومت کا خاتمہ: تنظیم نے اقتدار چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا؟
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر سے اب تک اسرائیل نے 1257 فلسطینیوں کو شہید کیا ہے، جب دونوں فریقوں نے ٹرمپ کی حمایت یافتہ جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اسی عرصے کے دوران اپنے 5 اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔














