بھارت: فائیو اسٹار ہوٹلوں کے کھانوں میں بدبودار گوشت، سبزیاں اور زائدالمیعاد دودھ کا استعمال

اتوار 9 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

۔

۔

بھارتی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں فوڈ سیفٹی حکام کے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے دوران شہر کے بعض معروف اور مہنگے ترین ہوٹلوں میں خوراک کے معیار اور حفظانِ صحت سے متعلق سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔

حکام کے مطابق معائنے کے دوران زائدالمیعاد دودھ، خراب گوشت اور سبزیوں پر پھپھوندی پائی گئی۔ یہ صورتحال عام یا غیر معیاری کھانے پینے کی دکانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ شہر کے معروف لگژری ہوٹلوں اور ریزورٹس میں بھی ایسی خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جن میں فور سیزنز اور شنگری لا سمیت متعدد بڑے ہوٹل شامل ہیں۔

کرناٹک کے محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے خلاف ورزیوں کے بعد متعلقہ اداروں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

معائنے کی اس مہم میں تاج یشونت پور بھی شامل تھا۔ ہوٹل انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے فوڈ سیفٹی اور حفظانِ صحت کے معیار پر 100 میں سے 95 نمبر حاصل کیے ہیں۔

انڈین ہوٹلز کمپنی لمیٹڈ (IHCL) نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ بنگلورو میں حالیہ معائنوں کے دوران تاج اور ویوانتا سمیت کمپنی کے کسی بھی ہوٹل میں سڑی ہوئی سبزیاں، پھل، گوشت یا مچھلی نہیں ملی اور نہ ہی لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے کھانے کے نمونے لیے گئے۔

کمپنی نے میڈیا کے بعض حصوں میں خراب خوراک سے متعلق شائع ہونے والی اطلاعات کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ہوٹلوں میں معیار، حفاظت اور صفائی کے اعلیٰ ترین اصول برقرار رکھے جاتے ہیں۔

فوڈ سیفٹی حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ ریاست کے بڑے اور معروف ہوٹل بھی فوڈ سیفٹی قوانین اور حفظانِ صحت کے مقررہ معیار پر مکمل طور پر عمل کریں۔

کرناٹک کے وزیر صحت یو ٹی قادر نے کہا کہ چھاپوں اور معائنوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ بڑے اور اعلیٰ درجے کے ہوٹل بھی خوراک کے تحفظ سے متعلق قوانین کی پابندی کریں۔

محکمہ فوڈ سیفٹی نے بنگلورو اربن ضلع میں 30 ٹیمیں تعینات کیں، جنہوں نے شہر کے 26 تین اور پانچ ستارہ ہوٹلوں کا معائنہ کیا۔ کارروائی کے دوران برہت بنگلورو مہانگر پالیکے (BBMP) کے تمام زونز کا احاطہ کیا گیا اور فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 اور اس کے تحت وضع کردہ قواعد پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔

کارروائی کے دوران مختلف ہوٹلوں سے 35 غذائی نمونے حاصل کیے گئے، جن میں چکن، مٹن، مچھلی، خوردنی تیل، دودھ، مصالحہ جات، چائے کی پتی، پنیر، ٹماٹو ساس، لیموں کا رس اور دیگر اشیائے خورونوش شامل ہیں۔ حکام کے مطابق تمام نمونے تفصیلی تجزیے کے لیے لیبارٹریوں کو بھجوا دیے گئے ہیں اور ان کے نتائج کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔

معائنے کے دوران متعدد ہوٹلوں میں کچن اور اسٹوریج ایریاز میں صفائی کے ناقص انتظامات، زائدالمیعاد غذائی مصنوعات، سبزیوں پر پھپھوندی، خوراک کو غیر مناسب طریقے سے سنبھالنے، غلط یا گمراہ کن برانڈنگ، فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (FSSAI) کے لیبلنگ قواعد کی خلاف ورزی اور سبزی خور و غیر سبزی خور اشیا کے لیے الگ اسٹوریج نہ ہونے جیسے مسائل کی نشاندہی کی گئی۔

معائنے کے بعد فوڈ سیفٹی حکام نے متعلقہ فوڈ بزنس آپریٹرز کو نوٹس جاری کردیے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جہاں خلاف ورزیاں ثابت ہوئیں وہاں قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔

محکمے نے ایسی خوراک کی بڑی مقدار بھی ضبط کرکے تلف کردی جسے زائدالمیعاد یا انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ قرار دیا گیا۔

جن ہوٹلوں میں کارروائی کی گئی ان میں دی للت اشوک (اینیكس ساؤتھ)، شنگری لا بنگلورو، فور سیزنز ہوٹل بنگلورو، ویوانتا بنگلورو وائٹ فیلڈ، تاج یشونت پور اور ریڈیسن بلو (دی ایٹریا) شامل ہیں۔

محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے تمام فوڈ بزنس آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ خوراک کی حفاظت سے متعلق قوانین کی سختی سے پابندی کریں اور قانون کے تحت مقررہ معیار برقرار رکھیں۔ محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزیوں کی تصدیق ہونے کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp