مصر کی فوجداری عدالت نے مشہور ٹی وی اینکر سارہ خلیفہ اور ان کے 11 ساتھیوں کو منشیات اسمگلنگ کا منظم نیٹ ورک چلانے کے جرم میں پھانسی کی سزا سنا دی ہے۔
مصر میں منشیات کے اس میگا اسکینڈل میں نامزد 28 ملزمان میں سے 9 کو عمر قید جبکہ 7 کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا گیا ہے۔ حکام نے مجرموں کے قبضے سے 750 کلو گرام سے زیادہ منشیات اور غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد کیا ہے۔
مصری اخبار ’الاہرام‘ کے مطابق مجرمان نے ایک منظم گینگ بنا رکھا تھا جو بیرون ملک سے خام مال درآمد کر کے رہائشی علاقوں میں مصنوعی منشیات تیار کرتا تھا۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ گروہ کے ارکان نے خام مال کی خریداری، منشیات کی تیاری اور ترسیل کے کام آپس میں بانٹ رکھے تھے۔
View this post on Instagram
چھاپوں کے دوران بھاری مقدار میں منشیات کے علاوہ بغیر لائسنس کے گولہ بارود اور آتشی اسلحہ بھی قبضے میں لیا گیا۔
سارہ خلیفہ کے عدالت میں جذباتی مناظر
39 سالہ سارہ خلیفہ نجی ٹی وی چینل ’المحور‘ پر جرائم سے متعلق مشہور پروگرام ’مشن امپاسبل‘ کی میزبانی کے باعث جانی جاتی تھیں۔
اس کے علاوہ وہ ایک کاسمیٹک سرجری کلینک اور ایونٹ مینجمنٹ کمپنی کی مالکن بھی تھیں، جبکہ انسٹاگرام پر ان کے 2 ملین سے زیادہ فالوورز ہیں۔ تاہم فیصلہ سناتے وقت عدالت میں ان کا گلیمرس انداز آنسوؤں میں بدل گیا۔
مصری میڈیا کے مطابق سارہ نے الزامات سے انکار کرتے ہوئے رو کر رحم کی اپیل کی اور کہا کہ ’سر، براہ کرم میری بات سنیں!۔ میرے والدین نے میری اچھی پرورش کی ہے، وہ نمازی لوگ ہیں، مجھے منشیات کے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے زندگی میں کبھی سگریٹ تک نہیں پی‘۔
قانونی کارروائی، اپیل اور دیگر سزائیں
سارہ خلیفہ کو اپریل 2025 میں اس وسیع تفتیش کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ مصری قانون کے تحت سزائے موت کے مقدمات میں حتمی فیصلے سے قبل مفتی اعظم سے مذہبی رائے لینا لازمی ہے، جس کے بعد عدالت نے یہ فیصلہ جاری کیا۔
حالیہ عدالتی اصلاحات کے تحت ملزمان اس فیصلے کے خلاف اپیل کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں:انسانیت کے خلاف جرائم پر شامی عدالت کا بڑا فیصلہ: سابق صدر بشار الاسد کے کزن وسیم الاسد کو سزائے موت
واضح رہے کہ ہفتے کے روز اسی عدالت نے ایک الگ مقدمے میں سارہ خلیفہ کو اپنے ڈرائیور پر تشدد کرنے اور اس کی ویڈیو بنانے کے جرم میں 3 سال قید کی سزا بھی سنائی ہے۔
مصر میں انسدادِ منشیات کے سخت قوانین
مصر میں منشیات کی اسمگلنگ، دہشتگردی اور سوچ سمجھ کر کیے گئے قتل جیسے سنگین جرائم کو ریاست اور معاشرے کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ان جرائم میں ملوث افراد کے لیے مصری قانون میں سزائے موت مقرر ہے۔ یہ حالیہ فیصلہ دراصل مصر کی جانب سے منظم جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا واضح عکاس ہے۔














