بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا عالمی آبی نظم کے لیے خطرناک مثال

پیر 10 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے اور اس کے تحت آبی تعاون و دریائی بہاؤ سے متعلق معلومات کے تبادلے میں خلل ڈالنے کے اثرات پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا بھر میں سرحد پار آبی نظام کے نظم و نسق کے لیے خطرناک مثال بن سکتے ہیں۔

تجزیے کے مطابق دریائی معلومات کی فراہمی اور باہمی تعاون میں رکاوٹ پاکستان کی زرعی منصوبہ بندی، سیلاب سے نمٹنے کی تیاری اور موسمیاتی لچک کو متاثر کرسکتی ہے، جبکہ پانی کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کا رجحان عالمی امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ، اس کے بعد معاہدے کے تحت تعاون اور دریاؤں سے متعلق آبی معلومات کے تبادلے میں خلل، ایسے اثرات کا حامل ہے جو پاکستان سے کہیں آگے تک جاتے ہیں۔ اسی لیے تعاون، معلومات کا تبادلہ اور عملی انتظامات غذائی تحفظ، موسمیاتی لچک، آفات کے خطرات میں کمی اور عالمی امن کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے اور اہم ہائیڈرولوجیکل معلومات روکنے کا اقدام محض دوطرفہ تنازع نہیں بلکہ معاہدوں پر مبنی آبی نظم و نسق کے لیے ایک خطرناک چیلنج ہے۔ مشترکہ دریا کو سیاسی تنازع کا حصہ بنا کر بھارت پاکستان کی زرعی منصوبہ بندی، سیلاب سے نمٹنے کی تیاری اور موسمیاتی لچک کو متاثر کر رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں دنیا بھر کے سرحد پار دریائی نظام اور علاقائی امن کے لیے ایک غیر مستحکم مثال قائم ہو رہی ہے۔

بھارت نے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرکے معاہدوں پر مبنی عالمی نظم و نسق کی ساکھ کو چیلنج کیا ہے۔ اس اقدام نے اس بنیادی اصول کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں جسے بین الاقوامی قانون میں pacta sunt servanda کہا جاتا ہے، یعنی معاہدوں کی پاسداری نیک نیتی سے کرنا ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔ کوئی ریاست بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کا تقاضا کرتے ہوئے بیک وقت ایک انتہائی اہم آبی معاہدے کو ناقابلِ اعتبار یا غیر ضروری نہیں سمجھ سکتی۔

یہ بھی پڑھیے سندھ طاس معاہدہ: بھارت کیا کر سکتا ہے اور  کیا نہیں؟

دریاؤں سے متعلق ہائیڈرولوجیکل معلومات روکنے سے غیر یقینی صورتحال ایک سکیورٹی خطرے میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ پاکستان کے لیے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ سے متعلق اعداد و شمار محض انتظامی ضرورت نہیں بلکہ فصلوں کی منصوبہ بندی، آبپاشی کے نظام الاوقات، آبی ذخائر کے آپریشن، سیلاب کی پیش گوئی اور آفات سے نمٹنے کی تیاری کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ جب بالائی علاقوں میں واقع کوئی ریاست دریاؤں کے بہاؤ، پانی کے اخراج یا ہائیڈرولوجیکل حالات میں تبدیلی سے متعلق معلومات محدود کردیتی ہے تو زیریں ملک کو دریا کے مجموعی نظام کی نامکمل تصویر کے ساتھ زرعی اور ہنگامی نوعیت کے فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے باعث دریاؤں کے نظام میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی کے دور میں بھارت کا طرزِ عمل خاص طور پر غیر ذمہ دارانہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی دنیا بھر کے دریائی نظام میں سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر رہی ہے۔ ایسے میں بھارت کے اقدامات موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے ایک چیلنج کو سیاسی طور پر پیدا کردہ کمزوری میں تبدیل کرنے کا خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔

بالائی ملک میں پانی کی غیر یقینی صورتحال فصلوں کی منصوبہ بندی کو متاثر، آبپاشی کے نقصانات میں اضافہ اور معاشی بے یقینی کو بڑھا سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں کسانوں کو ایسے موسمیاتی خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن سے بچا جا سکتا تھا۔ پانی کا معاملہ غذائی تحفظ، روزگار اور قومی معاشی استحکام سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ مشترکہ دریا کو زیریں علاقوں میں بسنے والی آبادی کے خلاف دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا سرحد پار قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ نظم و نسق کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔

بھارت کے اس طرزِ عمل سے پیدا ہونے والی مثال کے اثرات جنوبی ایشیا سے کہیں آگے تک جا سکتے ہیں۔ دنیا میں سیکڑوں ایسے مشترکہ دریا، جھیلیں اور زیرِ زمین آبی ذخائر موجود ہیں جو ایک سے زیادہ ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اگر یکطرفہ سیاسی دباؤ کے ذریعے معاہدوں کو کمزور کیا جا سکتا ہے اور دریاؤں سے متعلق معلومات کو مذاکرات یا سیاسی سودے بازی کے آلے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے تو دنیا بھر میں زیریں علاقوں میں واقع ریاستوں کے لیے عدم تحفظ بڑھ جائے گا۔ بھارت کا طرزِ عمل اس رویے کو معمول بنانے کا خطرہ پیدا کرتا ہے جس کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی آبی قانون وضع کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں امن کا بنیادی ستون، بھارت یکطرفہ طور پر اسے معطل نہیں کر سکتا، احمر بلال صوفی

ذمہ دار علاقائی اور عالمی شراکت دار کے طور پر بھارت کی ساکھ بھی داؤ پر ہے۔ مشترکہ آبی وسائل کو ریاستی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش قواعد پر مبنی عالمی تعاون کے لیے بھارت کے عزم پر اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس کے سفارتی اثرات اس لیے بھی اہم ہیں کہ سندھ طاس معاہدہ اس مقصد کے تحت تشکیل دیا گیا تھا کہ تکنیکی اور ادارہ جاتی ذرائع سے تعاون کو برقرار رکھا جائے، تاکہ سیاسی تنازعات لازماً آبی بحران میں تبدیل نہ ہوں۔

عالمی برادری کو سندھ طاس کا بحران محض ایک اور بھارت۔پاکستان تنازع سمجھنے کے بجائے ایک انتباہ کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ پاکستان کا بنیادی مؤقف اس اصول کے تحفظ سے متعلق ہے کہ مشترکہ دریاؤں کا انتظام قانون، شفافیت، تعاون اور منصفانہ تقسیم کے اصولوں کے تحت ہونا چاہیے۔

بھارت پر زور دیا جانا چاہیے کہ وہ معاہدے کے تحت تعاون بحال کرے، بامعنی ہائیڈرولوجیکل معلومات کا تبادلہ دوبارہ شروع کرے اور تنازعات کو طے شدہ قانونی و ادارہ جاتی طریقہ کار کے ذریعے حل کرے۔ دنیا کے لیے سبق واضح ہے: پانی کو کبھی ہتھیار نہیں بننا چاہیے، کیونکہ جب بالائی ملک کی آبی طاقت کو سیاسی دباؤ میں تبدیل کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات کھیتوں سے لے کر بین الاقوامی قانون، انسانی سلامتی، علاقائی استحکام اور عالمی امن تک پہنچتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اس وقت آزاد کشمیر کی وزارت عظمیٰ ایک منصب نہیں، کڑا امتحان ہے، چوہدری طارق فاروق

بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ میں طلبہ کا سرکاری ملازمتوں کے امتحان میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج، اسمبلی کی جانب مارچ

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

طالبان حکومت کے پانچ سال، صحافت پر کریک ڈاؤن، سنسرشپ، خاموشی اور اطلاعات پر کنٹرول

افغانستان: طالبان حکومت کی صحافت کے خلاف 5 سالہ جنگ، سنسرشپ اور اطلاعات پر کنٹرول عروج پر

ویڈیو

مسلم لیگ ن کو الٹی گنتی کی دھمکی دینے والی پیپلز پارٹی اب کیا سیاسی حکمت عملی اختیار کرے گی؟

آزاد کشمیر میں انتخابات کا تیسرا مرحلہ: پونچھ ڈویژن کے 4 حلقوں میں پولنگ جاری، سیکیورٹی کے سخت انتظامات

جشن آزادی پر قومی جذبے کا منفرد اظہار، معروف ایتھلیٹ جمال سید کی ’کے ٹو‘ سے اسکردو تک دوڑ

کالم / تجزیہ

حویلی آزاد کشمیر میں لگنے والے نعرے

سب گل سڑ چکا ہے

فیض، سیالکوٹ اور کرکٹ