صدر مملکت آصف علی زرداری نے اب تک ججوں کی تعیناتی کے بل پر دستخط کیوں نہیں کیے؟

پیر 10 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے ہائیکورٹ ججز کی تقرری کی سمری منظور نہ کیے جانے کے خلاف دائر درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاق اور وزارت قانون سے کل تک تحریری رپورٹ طلب کرلی، جبکہ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو بھی عدالتی معاونت کے لیے نوٹس جاری کردیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکمنامے میں جو اہم بات کی گئی وہ یہ تھی کہ وفاق اور وزارت قانون وضاحت کرے کہ غیر معینہ مدت تک سمری منظور نہ کرنے کے نتائج کیا نکلیں گے۔

مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کے 11 ججز کی مستقل بنیادوں پر تقرری کی منظوری، نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس سلسلے میں مکمل ٹائم لائن مانگی ہے کہ جوڈیشل کمیشن نے کب منظوری دی، صدر مملکت کو کب سمری ارسال کی گئی اور سمری پر اس کے بعد اگر کوئی کارروائی کی گئی تو اس کی بھی وضاحت کی جائے۔ کل اس مقدمے کی دوبارہ سماعت ہو گی۔

سمری منظوری میں تاخیر سے 2 ججز ریٹائر؟

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے 20 اور 21 جولائی کو ہونے والے اپنے اجلاسوں کے دوران ہائیکورٹس میں 19 ایڈیشنل ججز کی تقرری کی سفارش کی تھی جن میں سے پشاور ہائیکورٹ کے 4 اور لاہور ہائیکورٹ کے ایک ایڈیشنل جج کو مستقل کرنے کی سفارش کی گئی جبکہ سندھ ہائیکورٹ کے ایک ایڈیشنل جج کی مدت ملازمت میں مزید 6 ماہ کی توسیع کی سفارش کی گئی تھی۔

تاہم، ان تقرریوں کا تاحال وزارت قانون و انصاف کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا، کیونکہ صدر مملکت نے ابھی تک سمری کی باضابطہ منظوری نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق اس تاخیر کے باعث پہلے ہی عملی مشکلات پیدا ہو چکی ہیں۔

پشاور ہائیکورٹ کے 4 ایڈیشنل ججز، جن کی مستقلی کی منظوری جوڈیشل کمیشن نے دی تھی، باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کے باعث اپنی مدت ملازمت 4 اگست کو مکمل ہونے کے بعد عہدے پر برقرار نہیں رہ سکے۔

اسی طرح سندھ ہائیکورٹ کے ایک ایڈیشنل جج، جن کی مدت ملازمت میں جے سی پی نے مزید 6 ماہ کی توسیع کی سفارش کی تھی، ان کی سابقہ مدت 29 جولائی کو ختم ہونے کے بعد وہ بھی عہدے سے سبکدوش ہوگئے۔

ججز تقرری کی سمری غیرمعینہ مدت تک زیرالتوا رہنے کے نتائج کیا ہوں گے؟

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت عدالتی تقرریوں کے معاملے پر گزشتہ دو ہفتوں سے جاری تعطل کو جلد حل کرنے کے لیے تیار ہے۔ آئین میں مقررہ 15 روز کی مدت گزر چکی ہے، جس کے بعد اس معاملے کو آئینی طریقہ کار کے تحت حل کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

حکومت کی قانونی ٹیم نے زیرالتوا معاملے کا آئینی شقوں کی روشنی میں جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومتی اتحادی جماعت کے سینیئر ارکان اور قانونی ماہرین سے ہونے والی گفتگو سے یہ تاثر سامنے آیا ہے کہ صدر مملکت کی جانب سے سمری کی منظوری کا مزید انتظار کیے بغیر بھی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

سیاسی اور آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اس معاملے کو مزید التوا میں نہیں ڈالے گی۔ 15 روز سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے، اس لیے اب قانون اپنا راستہ اختیار کرےگا۔

لیکن وہیں صدر مملکت کو نظرانداز کرنے کے ممکنہ اقدام پر حکمران اتحاد کے اندر اختلافات ہیں کہ پیپلز پارٹی اس معاملے پر حکومت کے ساتھ مزید محاذ آرائی کا خطرہ مول نہیں لے گی۔

کیا ن لیگ کو حکومت برقرار رکھنے کے لیے اب بھی پیپلز پارٹی کی حمایت درکار ہے؟

آئینی ماہرین کے مطابق اگر پیپلز پارٹی وفاقی حکومت سے الگ بھی ہو جائے تو حکمران جماعت کے پاس قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت برقرار رہے گی۔

آئینی ماہرین کے مطابق حکمران اتحاد کو 336 رکنی قومی اسمبلی میں 233 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جبکہ اپوزیشن کے پاس 103 نشستیں ہیں۔

اگر پیپلز پارٹی وفاقی حکومت سے الگ ہو جاتی ہے تو حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں رہے گی، تاہم مسلم لیگ (ن) کی حکومت پھر بھی قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت برقرار رکھ سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کے جج چوہدری عبدالعزیز مستعفی، وجہ کیا بنی؟

پیپلز پارٹی کے ارکان کے بغیر مسلم لیگ (ن) کے پاس 174 ارکان کی حمایت ہوگی، جبکہ وزیراعظم یا قائد ایوان کے لیے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے آئینی طور پر 169 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اوپن اے آئی نے نئے ماڈل پر سیکیورٹی پابندیاں سخت کردیں، خودکار سائبر حملوں کا خدشہ

روس، پاکستان اور بیلاروس کے درمیان مال بردار ریل سروس شروع کرنے پر کام جاری

روبوٹ کتے چاند پر پہرہ دیں گے، چین نے مستقبل کے قمری اڈوں کا منصوبہ پیش کردیا

وزیر خزانہ سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، دوطرفہ اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال

جنوبی کوریا: آنکھیں کھلتے ہی بچوں کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس کھلنے لگے، یہ رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟

ویڈیو

مسلم لیگ ن کو الٹی گنتی کی دھمکی دینے والی پیپلز پارٹی اب کیا سیاسی حکمت عملی اختیار کرے گی؟

آزاد کشمیر میں انتخابات کا تیسرا مرحلہ، پونچھ ڈویژن کے 4 حلقوں میں پولنگ جاری، سیکیورٹی کے سخت انتظامات

جشن آزادی پر قومی جذبے کا منفرد اظہار، معروف ایتھلیٹ جمال سید کی ’کے ٹو‘ سے اسکردو تک دوڑ

کالم / تجزیہ

حویلی آزاد کشمیر میں لگنے والے نعرے

سب گل سڑ چکا ہے

فیض، سیالکوٹ اور کرکٹ