لاہور ہائیکورٹ کے 10 ایڈیشنل ججز نے حلف اٹھا لیا

منگل 11 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور ہائیکورٹ کے 10 ایڈیشنل ججز نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا  ہے۔

منگل کے روز چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے نئے تعینات ہونے والے ججز سے حلف لیا۔

حلف اٹھانے والے ججز میں غلام سرور نہنگ، محمد اجمل خان زاہد، عامر اعظم ملک، شیریں عمران، اسد علی باجوہ، محمد امجد پرویز، خالد ابن عزیز، منور اقبال ڈوگر، سید فرحاد علی شاہ اور محمد عثمان غنی راشد چیمہ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل کمیشن نے لاہور اور بلوچستان ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کی منظوری دیدی

اس کے علاوہ جسٹس طارق محمود باجوہ نے آزمائشی مدت مکمل ہونے کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے مستقل جج کی حیثیت سے بھی حلف اٹھایا۔

نئے ایڈیشنل ججز کی تعیناتی ایک سال کے لیے کی گئی ہے، جس کا آغاز حلف اٹھانے کے دن سے ہوگا۔

نئے ججز کی تعیناتی کے بعد بھی لاہور ہائیکورٹ میں آئینی طور پر منظور شدہ 60 ججز کی تعداد کے مقابلے میں 10 نشستیں خالی رہ گئی ہیں۔ جسٹس شاہد کریم کی آئندہ ہفتے ریٹائرمنٹ کے بعد خالی نشستوں کی تعداد 11 ہوجائے گی۔

اس سے قبل صدر آصف علی زرداری نے پانچ ہائیکورٹس میں 19 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی اور مزید 5 ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے 4 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی

ان تعیناتیوں کی سفارشات اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کے ذمہ دار جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے 20 اور 21 جولائی کو کی تھیں، تاہم صدارتی منظوری نہ ملنے کے باعث معاملہ کئی ہفتوں سے زیر التوا تھا۔

ججز کی حلف برداری کی تقریب پہلے 27 جولائی کو ہونا تھی، تاہم صدر کی جانب سے سمری کی منظوری نہ دینے یا اسے نظرثانی کے لیے واپس نہ بھیجنے کے باعث تقریب غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی تھی۔

صدر کے قانونی ماہرین نے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی پر بعض اعتراضات بھی اٹھائے تھے، جن میں پیپلز پارٹی کی جانب سے تجویز کردہ بیشتر امیدواروں کو مسترد کیے جانے اور بعض نامزد امیدواروں کے مبینہ مجرمانہ ریکارڈ کا معاملہ شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل کمیشن نے سندھ، اسلام آباد ہائیکورٹس کے لیے 6 ایڈیشنل ججز کی تقرری کی سفارش کردی

معاملہ طویل ہونے پر وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 48(1) کے تحت صدر کی منظوری کے بغیر تقرریوں کا راستہ اختیار کرنے پر بھی غور کیا تھا، تاہم بعد میں حکومت اور ایوان صدر کی قانونی ٹیموں کے درمیان معاملہ حل کرنے کے لیے بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شاہی خاندان سے دوری کے 6 سال بعد ہیری اور میگھن کا برطانیہ واپسی کا فیصلہ

ہیڈن پنیٹیئر کی موت کا معمہ، آخری لمحات کی تفصیلات سامنے آگئیں، بوائے فرینڈ نے بھی خاموشی توڑ دی

شام کے وزیر خارجہ کی آرمی چیف سے ملاقات، دفاعی و سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق

بھارت نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کی سیکیورٹی واپس لے لی

بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک ہے، ہمیشہ ایک رہے گا، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم

ویڈیو

بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک ہے، ہمیشہ ایک رہے گا، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم

الیکٹرک بائیک یا اسکوٹر خریدیں، ایک لاکھ روپے حاصل کریں

ڈیل یا ڈھیل، حکومت نے درخواست واپس لے لی، کپتان اسپتال منتقل، اگلی منزل بنی گالہ، بلاول کی پھرتیاں

کالم / تجزیہ

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی

فیصلے کی تاریخ اور تاریخ کا فیصلہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک