خبر یہ ہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے معزز ججز 13 برس بعد بالآخر اس نتیجے پر پہنچ ہی گئے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی محترمہ شازیہ مری کے خلاف مبینہ جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی سے متعلق درخواست ناقابلِ سماعت ہے۔ یہ کون سی درخواست تھی اور کب، کس بنیاد پر دائر کی گئی تھی؟ آئیے! پہلے یہ جان لیتے ہیں، پھر اگلی بات کرتے ہیں۔
یہ آئینی درخواست عطا محمد چانڈیو نے دائر کی تھی، جو محترمہ شازیہ مری کے حلقہ انتخاب کا (سانگھڑ/NA-235) کا ایک ووٹر تھا۔ کیس 2013 کے عام انتخابات کے بعد (تقریباً 13 سال قبل) سندھ ہائیکورٹ میں دائر کیا گیا تھا۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ محترمہ شازیہ مری نے 2002، 2008 اور 2013 کے انتخابات میں اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ جعلی یعنی ایک دوسری طالبہ کی بی اے (BA) کی ڈگری استعمال کی۔ یہ ڈگری رونق اسلام گرلز کالج لیاری (جامعہ کراچی سے ملحقہ) کی ایک طالبہ شازیہ بنت عطا محمد کی تھی جو 2002 میں جاری ہوئی تھی، جبکہ شازیہ مری نے اس کالج میں کبھی تعلیم حاصل ہی نہیں کی تھی۔
اس بنیاد پر درخواست گزار نے آئین کے آرٹیکل 62(1)(f) کے تحت شازیہ مری کو ‘صادق اور امین’ نہ رہنے پر پارلیمنٹ کی رکنيت سے نااہل قرار دینے کی استدعا کی تھی۔
یہ کیس گزشتہ 13 سال سے زیر التوا رہا اور اس دوران مختلف ادوار میں مختلف بینچوں نے اس کی سماعت کرنے کی کوشش کی۔ 2016 میں چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں قائم بینچ نے اس کیس پر دلائل سن کر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ اگلے برس یعنی 2017 میں جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں قائم بینچ نے کیس کی سماعت کی اور اس کی فوری حل کی استدعا پر تاریخیں دیں۔ پھر 3 برس بعد یعنی 2020 میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس یوسف علی سعید پر مشتمل 2 رکنی بینچ کے سامنے یہ مقدمہ رکھا گیا، انھوں نے فریقین کو نوٹسز جاری کیے۔
جب درخواست گزار نے دیکھا کہ سندھ ہائیکورٹ کے معزز ججز تاریخ پر تاریخ دے رہے ہیں، اور کیس ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ رہا تو وہ سپریم کورٹ پہنچ گیا۔ وہاں سے بھی درخواست گزار کو منہ کی کھانا پڑی۔ سپریم کورٹ (سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس محمد علی مظہر) نے بھی اس سے ملحقہ درخواست کو سندھ ہائیکورٹ واپس بھیج دیا۔
اس بات کو ، جب کافی سال گزر گئے تو سندھ ہائیکورٹ کی طرف سے گزشتہ روز ( 11اگست 2026 ) فیصلہ جاری کیا گیا کہ یہ درخواست سنے جانے کے قابل ہی نہیں ہے۔
یوں 13 برس بعد سندھ ہائیکورٹ کے معزز ججز کو پتہ چلا کہ آئین کے تحت کسی رکن پارلیمنٹ کو نااہل قرار دینے کا اختیار ہائیکورٹ کے پاس نہیں۔
13 برس بعد کس جج نے یہ فیصلہ سنایا یا کون سے ججز بینچ میں موجود تھے، ذرائع ابلاغ میں شائع شدہ کسی خبر سے معلوم نہیں ہوسکا۔ معلوم نہیں کہ ان کے نام خبر میں شائع نہ کرنے کے پیچھے کیا حکمت کارفرما تھی! میرا دل چاہ رہا تھا کہ 13 برس بعد سندھ ہائیکورٹ کے جن معزز ججز کو درخواست کے ناقابلِ سماعت ہونے کا پتہ چلا، میں ان کے رخِ روشن کا نظارہ کرلوں۔ ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں سندھ ہائیکورٹ کی ویب سائٹ پر یہ فیصلہ اپ لوڈ ہوجائے۔ تب تک انتظار کے سوا کچھ کیا نہیں جاسکتا۔
آئیے! انتظار کے ان لمحوں میں ایک دلچسپ کام کرتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ پاکستانی تاریخ میں طویل ترین عرصہ تک چلتے رہنے والے مقدمات کون کون سے ہیں؟ اور ان کا انجام کیا ہوا؟
یوں تو پاکستان کے عدالتی نظام میں دسیوں ہزار کیسز دہائیوں سے التوا کا شکار رہتے ہیں، لیکن بعض تاریخی مقدمات ایسے ہیں جو نصف صدی سے بھی زائد عرصے تک چلتے رہے اور ان کے فیصلے نسلوں کے بعد آئے۔
پاکستان کی تاریخ کے طویل ترین سول مقدمات میں سے ایک مقدمہ سرگودھا کے قریب علاقے شاہ پور سے تعلق رکھتا تھا۔ یہ زمین کا تنازعہ تھا جو قیام پاکستان سے بھی بہت پہلے 1918 میں شروع ہوا تھا۔ مقدمہ 100برس سے زائد عرصہ تک چلتا رہا۔ 4 نسلیں اس مقدمہ کی سماعت کے لیے آتی رہیں، تاریخ پر تاریخ بھگتتی رہیں۔ بالآخر ججوں نے اصل مدعیوں کے پڑپڑتوں کے حق میں فیصلہ سنایا۔
راولپنڈی کی ایک متروکہ جائیداد پر دعوے کا ایک مقدمہ 68 برس تک چلتا رہا۔ یہ 1948 میں شروع ہوا تھا۔2016 میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے بالآخر اس کا فیصلہ سنایا۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ فیصلہ سناتے ہوئے معزز ججز کافی برہم دکھائی دیے کہ اصل فریقوں کی وفات کے کئی عشروں بعد ان کے ورثاء کو انصاف ملا۔
1996 میں پاکستانی فضائیہ کے سابق سربراہ ایئر مارشل اصغر خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ 1990 کے عام انتخابات میں سیاست دانوں میں خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے پیسے تقسیم کیے گئے۔ 28 برس بعد، 2012 میں معزز ججز اس نتیجے پر پہنچے کہ انتخابات میں دھاندلی کے لیے رقم کی تقسیم غیر آئینی ہوتی ہے۔ خوش قسمت تھے درخواست گزار اصغر خان کہ وہ اس کیس کا مختصر فیصلہ سن کر اس دنیا سے رخصت ہوئے، ورنہ ان کے پوتوں کو سننا پڑتا۔
اسی طرح سپریم کورٹ کے معزز ججز کو 44 برس بعد پتہ چلا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک مقدمہ میں منصفانہ ٹرائل کا حق نہیں ملا تھا۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کو، اس فیصلے سے 44 برس قبل پھانسی دیدی گئی تھی۔
ایک کیس مظفر آباد کے شہری محمد اقبال کا بھی تھا۔1990 میں قتل کے الزام میں گرفتار ہوا، اور پھر مقدمہ چلتا رہا، چلتا رہا۔ 20 برس کا عرصہ بیت گیا۔ پھر معزز ججز اس نتیجے پر پہنچے کہ ملزم بے گناہ ہے۔ چنانچہ اس کی باعزت رہائی کا حکم صادر ہوا۔ معزز ججز کو بتایا گیا کہ محمد اقبال جیل کے اندر ہی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر چند برس قبل انتقال کرچکا ہے۔
ایک قصہ غلام سرور اور غلام قادر کا بھی ہے۔ یہ 2 سگے بھائی تھے۔ 1997 میں پنجاب کے ضلع بہاول پور کے ایک شخص عبدالقادر کے قتل کے جرم میں گرفتار ہوئے۔ سیشن کورٹ نے انہیں سزائے موت سنادی۔ ہائیکورٹ نے بھی سزا برقرار رکھی۔ دونوں بھائیوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی۔ 13 برس تک یہ اپیل زیر التوا رہی۔ اکتوبر 2016 میں، سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ (جس کی سربراہی اس وقت کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کر رہے تھے) کے سامنے ان کی پرانی زیرِ التوا اپیل سماعت کے لیے آئی۔ عدالت نے تمام ثبوتوں اور گواہوں کے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا۔ سپریم کورٹ نے پایا کہ مدعی مقدمہ کے گواہ جھوٹے ہیں اور ان بھائیوں کے خلاف جرم کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔ چنانچہ عدالت نے دونوں بھائیوں کو تمام الزامات سے باعزت بری کردیا۔
معزز ججز کو بتایا گیا: ’حضور! دونوں بھائیوں کو ایک سال پہلے اکتوبر 2015 میں پھانسی کے تختے پر چڑھا دیا گیا تھا۔ ‘
اب جبکہ 13برس بعد سندھ ہائیکورٹ کو پتہ چلا کہ محترمہ شازیہ مری کے خلاف مقدمہ سنے جانے کے قابل ہی نہیں ہے، مجھے عطا محمد چانڈیو کے بارے میں معلوم کرنا ہے کہ وہ زندہ ہے؟ کاش! وہ زندہ ہو اور دیکھے کہ انصاف نے 13 برس بعد اپنا فرض کس انداز میں پورا کردیا ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ ان 13 برسوں کے دوران محترمہ شازیہ مری نے 2013 سے 2018 تک بحیثیت ایم این اے اپنی مدت پوری کی، پھر 2018 کا انتخاب بھی جیتیں، اور 2023 تک اپنی مدت پوری کی۔ پھر 2024 کا انتخاب بھی جیتیں، اور اب 3 برس بعد ایک بار پھر اپنی مدت پوری کرلیں گی۔
ان ساری مدتوں کے دوران عطا محمد چانڈیو بار بار اپنا چہرہ سہلاتا رہا ہوگا اگر وہ زندہ رہا ہو تو!
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












