دنیا کے نقشے پر پچھلے چند ہی برسوں میں سیاست کی ہوا نے نہ صرف تیور بدلے بلکہ کہیں تو مخالف سمت میں ہی چلنے لگی۔ مراکش میں تعلیم اور صحت کے بنیادی مسائل ہوں یا انڈونیشیا میں سیاست دانوں کی بے پناہ مراعات، نیپال میں کرپشن کے الزامات ہوں یا سوشل میڈیا پر پابندی کا معاملہ، انڈیا میں امتحانی بے ضابطگیوں کے انکشافات ہوں یا بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں میں کوٹے کا بے جا استعمال؛ سب کے سب مسائل جہاں سے بھی سر اٹھا رہے تھے، وہاں کی جنریشن زی یا نوجوان نسل کی مشترکہ قومی آواز نے نہ صرف ان کو حل کیا بلکہ وہاں کے حکمرانوں کی چولیں بھی ہلا دیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں تعلیمی معیار گراوٹ کا شکار ہے، صحت کی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں، کرپشن اور بدعنوانی نے تو اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے، سیاست دانوں کی مراعات کی فہرستیں ختم ہونے کو نہیں آتیں، سوشل میڈیا کے استعمال کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے، بے روزگاری بال کھولے سو رہی ہے اور بچوں کی تعلیم سے محرومی و کم سنی میں مزدوری رواج پا چکی ہے، لیکن ہمارے نوجوان کو کیا ہو گیا ہے؟ وہ ان تمام مسائل کے خلاف ایک اجتماعی آواز کیوں نہیں اٹھا رہا؟
کیا وہ سیاسی بصیرت سے محروم ہے؟ کیا وہ شکم سیری کا شکار ہے؟ کیا اسے اپنے مستقبل کی سرے سے پروا ہی نہیں ہے؟ کیا اس کی تعلیم و تربیت اسے قومی درد کا ادراک کرنے کے قابل نہیں بناتی؟ کیا اسے کوئی خوف لاحق ہے؟ کیا اسے گرد و نواح کی تند و تیز سیاسی ہواؤں کے جھونکے محسوس نہیں ہوتے؟ کیا وہ غفلت اور بے راہ روی کا شکار ہے؟
میرے خیال میں ان سب سوالات کا جواب ’’نہیں‘‘ ہے۔ اس کا مسئلہ، لیکن، دوسرا ہے۔
وہ اس بات کا ادراک کر چکا ہے کہ میرے ملک میں طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں، بلکہ وہ حکمران ہیں جو اس طاقت کے چشمے کے بہاؤ پر قدرت رکھتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس کے مسائل کا حل کہاں سے ہوگا۔
پاکستان کا نوجوان اس گہری تشویش میں بھی مبتلا ہے کہ موجودہ سیاسی اشرافیہ، جس نے دولت اور طاقت کے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے موجودہ سیاسی سیٹ اَپ میں اپنی جڑیں مضبوط کی ہیں، اب اپنی اولاد کو مسلسل حقِ حکمرانی سونپنے کے درپے ہے۔ یعنی ظلم کی ایک اور نہ ختم ہونے والی کالی رات۔
لیکن جیسے ہی یہ سفرِ زیست کا تھکا ہارا مسافر، نوجوان، پلٹ کر اپنی تعلیم و تربیت اور فکر و تحریک کی گٹھڑی پر نگاہ ڈالتا ہے تو اسے معلوم پڑتا ہے کہ ایک مذہبی، علاقائی، لسانی اور سیاسی شناخت نامی چور اس کی برسوں کی جمع پونجی والی گٹھڑی کی گرہیں کھول رہا ہے۔
وہ اس گٹھڑی پر گرہیں در گرہیں لگاتا ہے، کبھی قومی درد کی گرہ تو کبھی مشترکہ قومی آواز کی گرہ، کبھی اپنی محرومیوں کے خاتمے کی گرہ تو کبھی بنیادی انسانی حقوق کی گرہ، مگر ہر بار وہی شناخت نامی چور اس کی گٹھڑی کی گرہیں کھول دیتا ہے اور اس کی انفرادی و قومی متاع کو بکھیر دیتا ہے۔
اس مسافر کے مسئلے ہزاروں ہیں، لیکن ایک خاص مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب وہ سفر کا ارادہ کر لیتا ہے، منزل کا بھی اسے پتا ہوتا ہے اور زادِ راہ بھی اکٹھا کر لیا ہوتا ہے، عین اسی وقت اسے اس الجھن میں ڈال دیا جاتا ہے کہ کون سا راستہ اس کے لیے بہتر ہو سکتا ہے۔
رہنماؤں کی شکل میں راہزن اسے راستے کی بھول بھلیوں میں ڈال دیتے ہیں اور پھر وہ سوچنے لگتا ہے کہ اگر اس بار راستہ بدلنے کی بات ہو رہی ہے تو ممکن ہے اسی میں بہتری کی گنجائش ہو۔
لیکن وہ یہاں پر غلطی کر بیٹھتا ہے اور یہ نہیں سوچتا کہ اگر راستے بدلنے میں بہتر مستقبل کی نوید ہوتی تو یہ راستے تو ہم اناسی برسوں میں کئی بار بدل چکے ہیں۔
یہی نوجوان جب خضدار کی لائبریری کے باہر سڑک پر بیٹھ کر مطالعے کی شکل میں لائبریری کے بند ہونے کے خلاف احتجاج کرتا ہے تو طاقت کے مراکز کو اشارہ ملتا ہے کہ یہ خاموشی طوفان میں بدل سکتی ہے۔
ہمارے ہاں سرائیکی میں جب آپ کو کوئی بات پتا ہوتی ہے اور آپ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ سامنے والے شخص کو شاید اس بات کا پتا نہیں، اور وہ آپ کو بالکل وہی بات بتا دے تو آپ اس سے پوچھتے ہیں: ’’آپ کو کیسے پتا چلا؟‘‘ تو وہ سرائیکی میں خوبصورت جواب دیتا ہے:
’’ہو اجو گھلدی ہے، ہر کہیں کوں لگدی ہے۔‘‘
یعنی ہوا جب چلتی ہے تو سب کو لگتی ہے۔
ہمارے حکمرانوں کو یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ دنیائے سیاست کی جو ہوا چل پڑی ہے، کہیں ہماری جنریشن زی یا نوجوان نسل کو نہ لگ جائے۔ یہ صوبوں کی بحث چھیڑ کر کہیں اسی ہوا کا رخ موڑنے کی کوشش تو نہیں ہو رہی؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














