گرمی کی شدت سے سبزیوں کی شکل بگڑنے لگی، پاکستان میں بھی کاشتکاروں کے لیے نیا چیلنج

بدھ 12 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شدید گرمی، خشک موسم اور پانی کی کمی صرف انسانوں ہی نہیں بلکہ فصلوں اور سبزیوں کی پیداوار کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایل نینو اور موسمیاتی تبدیلی پاکستان میں شدید گرمی اور مون سون کے خطرات کو کیسے بڑھا رہے ہیں؟

پاکستان جیسے ملک میں، جہاں موسم گرما کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ اور بعض علاقوں میں پانی کی قلت کا سامنا رہتا ہے ایسے موسمی حالات سبزیوں کی افزائش، پیداوار اور معیار پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس بار برطانیہ سے آنے والی ایک دلچسپ رپورٹ نے اس مسئلے کے ایک اور پہلو کی جانب توجہ دلائی ہے کہ شدید گرمی بعض سبزیوں کو کھانے کے لیے ناقابل قبول نہیں بلکہ صرف دیکھنے میں عجیب بنا رہی ہے۔

برطانیہ میں اس سال غیر معمولی گرم اور خشک موسم کے باعث کاشتکاروں کو ایسی سبزیوں کا سامنا ہے جو معمول کے مطابق سفید، سیدھی یا ہموار شکل میں نہیں اگ رہیں۔ کہیں پھول گوبھی دھوپ سے زرد پڑ رہی ہے، کہیں کھیرے مڑ کر تقریباً گول شکل اختیار کر رہے ہیں، کہیں پاک چوئی کے پتوں میں کیڑے سوراخ کر رہے ہیں اور کہیں آلو عجیب و غریب گانٹھوں کی شکل میں اگ رہے ہیں۔

مزید پڑھیے: اسلام آباد میں شدید گرمی سے متاثرہ پرندوں کی جان بچانے کے لیے امدادی سرگرمیاں تیز

دلچسپ بات یہ ہے کہ ماہرین اور کاشتکاروں کے مطابق ان میں سے بیشتر سبزیاں صرف ظاہری شکل کے اعتبار سے متاثر ہوئی ہیں اور کھانے کے لیے بالکل محفوظ ہیں۔

دھوپ سے ’سن ٹینڈ‘ پھول گوبھی

برطانیہ میں اس سال شدید گرمی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی سبزیوں میں پھول گوبھی بھی شامل ہے۔ عام طور پر اس کے پھول نما حصے پتوں کے اندر چھپے رہتے ہیں اور براہ راست دھوپ سے محفوظ رہتے ہیں لیکن شدید گرمی میں جب زیادہ روشنی ان تک پہنچتی ہے تو ان کا سفید رنگ زرد یا بھورا پڑنے لگتا ہے۔

سبزیوں کی اضافی پیداوار فروخت کرنے والی کمپنی ’آڈ باکس‘ کی شریک بانی ایمیلی وان پوپرنگھے کے مطابق یہ بنیادی طور پر صرف ظاہری خرابی ہے اور ذائقے پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ان کا کہنا ہے کہ کمپنی نے گزشتہ ہفتے تقریباً 6 ہزار ایسی پھول گوبھیاں حاصل کیں جنہیں سپر مارکیٹوں نے ان کے زیادہ گہرے رنگ کی وجہ سے فروخت کے لیے قبول نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیں: یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، صرف جون میں 12 ہزار سے زائد اضافی اموات ریکارڈ

کاشتکاروں کے مطابق پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں جس کے باعث پھول گوبھی اور بروکلی جیسی سبزیوں کی افزائش کی رفتار بھی متاثر ہو رہی ہے اور آنے والے دنوں میں ان کی رسد کم ہوسکتی ہے۔ ایسے میں سپر مارکیٹوں کے پاس روایتی خوبصورتی کے معیار میں نرمی کے علاوہ زیادہ راستے نہیں بچیں گے کیونکہ ان کے لیے خالی شیلف اس سے بھی بڑا مسئلہ بن سکتے ہیں۔

گرمی سے کھیرے مڑ کر ’گول‘ ہونے لگے

شدید گرمی کا ایک اور دلچسپ اثر کھیرے کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے۔ کاشتکاروں کے مطابق بعض کھیرے سیدھے اگنے کے بجائے مڑ کر تقریباً گول یا پیچ دار شکل اختیار کر رہے ہیں۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کھیرے عموماً گرین ہاؤسز میں اگائے جاتے ہیں اور شدید بیرونی درجہ حرارت کے باعث اندر کا ماحول بھی حد سے زیادہ گرم ہوجاتا ہے۔ پودے اس دباؤ کے نتیجے میں معمول کے مطابق افزائش نہیں کر پاتے حتیٰ کہ مناسب آبپاشی کے باوجود ان کی نشوونما رک سکتی ہے۔

پتوں میں سوراخ، مگر سبزی کھانے کے قابل

برطانیہ کے وورسٹر شائر سے تعلق رکھنے والے کاشتکار جان ہارپر نے بتایا کہ اس سال ان کی پاک چوئی کی زیادہ مقدار ضائع ہوئی کیونکہ گرم اور خشک موسم میں چھوٹے کیڑے خصوصاً فلی بیٹل زیادہ سرگرم ہوگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: یورپ میں شدید خشک سالی، توانائی کا نیا بحران پیدا، رومانیہ کا آخری فعال جوہری ری ایکٹر بھی بند ہونے کے قریب

ان کیڑوں نے پتوں میں چھوٹے چھوٹے سوراخ کردیے جس کے باعث سپر مارکیٹوں کے روایتی معیار کے مطابق ایسی سبزیاں فروخت کے قابل نہیں رہتیں۔ تاہم ہارپر کے مطابق متاثرہ پاک چوئی کی بڑی اکثریت اب بھی کھانے کے لیے بالکل مناسب ہے۔

عجیب شکل کے آلو بھی کھانے کے قابل

گرمی کی شدت آلو کی شکل بھی بدل رہی ہے۔ کیمبرج شائر کی کاشتکار لوسی منز کے مطابق شدید گرمی میں آلو کی افزائش رکنے سے بعض اوقات ایک ہی آلو کے ساتھ الگ الگ چھوٹی گانٹھیں بن جاتی ہیں، جس سے وہ عجیب و غریب شکل اختیار کر لیتا ہے۔

ایسے آلو عام طور پر سپر مارکیٹیں اور چپس بنانے والے خریدار قبول نہیں کرتے جس سے خوراک کے ضیاع میں اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم منز کے مطابق یہ آلو کھانے کے لیے بالکل ٹھیک ہیں۔ صرف ان کی شکل کی وجہ سے انہیں رد کیا جاتا ہے اور گانٹھ والے حصے کو کاٹ کر باقی آلو معمول کے مطابق استعمال کیا جاسکتا ہے۔

’خوبصورتی‘ کے بجائے ذائقے کو ترجیح دینے کا وقت

موجودہ صورتحال میں برطانوی سپر اسٹورز سبزیاں امپورٹ کرنے پر مجبور۔

برطانیہ کی بعض بڑی سپر مارکیٹیں پہلے ہی ’کجی سبزیاں‘ یا نامکمل شکل کی سبزیوں کے لیے الگ لائنیں رکھتی ہیں۔ سپر مارکیٹ ’ویٹ روز‘ کے ماہر کالم کیلی کے مطابق مشکل موسمی حالات میں اہم سبزیوں کے سائز اور شکل کے معیار میں نرمی کی جا رہی ہے تاکہ خوراک ضائع ہونے سے بچائی جاسکے اور کاشتکاروں کو بھی آمدنی ملتی رہے۔

تاہم ہر کمی کو صرف عجیب شکل کی سبزیوں سے پورا نہیں کیا جاسکتا۔ برطانیہ کے ریٹیل سیکٹر کے مطابق مقامی پیداوار کم ہونے کی صورت میں سپر مارکیٹیں بیرون ملک سے بھی زیادہ سبزیاں اور پھل درآمد کر رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں گرم اور خشک موسم مستقبل میں زیادہ عام ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں کاشتکاروں کو بہتر آبپاشی، پانی ذخیرہ کرنے کے نظام اور ایسی سبزیوں کی مارکیٹنگ پر توجہ دینا ہوگی جو شکل میں روایتی معیار پر پوری نہ اتریں مگر ذائقے اور غذائیت کے اعتبار سے بالکل درست ہوں۔

مزید پڑھیں: شدید گرمی میں گھر اور خود کو ٹھنڈا رکھنے کے 6 مؤثر طریقے

اور شاید اس پوری صورتحال کا سب سے سادہ سبق یہی ہے کہ سبزی کا ٹیڑھا، گانٹھ دار یا دھوپ سے زرد ہوجانا لازماً اس کے خراب ہونے کی علامت نہیں۔ جیسے پاکستان میں بھی اکثر کسان اور صارفین جانتے ہیں کہ قدرتی طور پر اگنے والی سبزی ہمیشہ ایک جیسی خوبصورت شکل کی نہیں ہوتی اسی طرح شدید موسمی حالات میں ہمیں ظاہری شکل کے بجائے اس کی تازگی، صفائی اور غذائی معیار کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp