کسی بھی خطے کی شناخت صرف اس کی سڑکوں، عمارتوں اور ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بنتی، بلکہ اس کی اصل پہچان اس کی تاریخ، تہذیب اور ثقافتی ورثے سے ہوتی ہے۔
وقت گزر جاتا ہے، نسلیں بدل جاتی ہیں، لیکن تاریخی یادگاریں اپنے اندر ایک پورا عہد سموئے کھڑی رہتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے مقامات کی اہمیت کا احساس اکثر اس وقت ہوتا ہے جب وہ مٹنے کے قریب پہنچ چکے ہوتے ہیں۔
لیہ میں برطانوی دور سے منسوب ایک قدیم یادگار بھی کئی برسوں سے اسی بے توجہی کا شکار تھی۔ موسموں کی سختیوں اور انسانی غفلت نے اس کی حالت خستہ کر دی تھی۔ مقامی افراد کی جانب سے اس کی اینٹیں تک اکھاڑی جا رہی تھیں اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ یہ تاریخی مقام بھی آہستہ آہستہ ماضی کا حصہ بن جائے گا۔
مختلف روایات کے مطابق اس مقام کا تعلق برطانوی دور سے ہے، جبکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں انگریز فوجیوں کا قبرستان بھی موجود تھا۔ ان تاریخی روایات کی مزید تحقیق کی ضرورت اپنی جگہ موجود ہے، تاہم اس مقام کی تاریخی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ اس تاریخی ورثے کو تباہ ہونے سے بچانے کے لیے بروقت اقدام کیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس حوالے سے سامنے آنے والی اپیل کا نوٹس لیا اور متعلقہ حکام کو فوری کارروائی کی ہدایت جاری کی۔ ان کی ہدایت پر اس تاریخی مقام کی بحالی کا کام شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ یادگار، جو وقت کے رحم و کرم پر چھوڑ دی گئی تھی، دوبارہ اپنی پہچان حاصل کرنے لگی۔
وزیراعلیٰ کی ہدایات پر ڈپٹی کمشنر لیہ آصف علی ڈوگر نے جس سنجیدگی، ذمہ داری اور سرعت کے ساتھ اس منصوبے پر عمل درآمد یقینی بنایا، وہ قابلِ تعریف ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں بحالی کا کام مکمل ہوا اور ایک ایسا تاریخی مقام محفوظ ہو گیا جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔
انتظامی امور میں اکثر ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دی جاتی ہے، مگر تاریخی ورثے کی حفاظت پر توجہ دینا بھی ایک ذمہ دار اور دوراندیش قیادت کی علامت ہے۔
لیہ کی یہ یادگار صرف اینٹوں اور پتھروں کا ایک ڈھانچہ نہیں، بلکہ اس خطے کی تاریخ کا ایک اہم حوالہ ہے۔ اس کی بحالی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر بروقت توجہ دی جائے تو مٹتے ہوئے آثار کو بھی نئی زندگی دی جا سکتی ہے۔
امید ہے کہ مستقبل میں بھی ضلع لیہ سمیت پورے سرائیکی وسیب کے تاریخی ورثے کی حفاظت کے لیے اسی جذبے کے ساتھ اقدامات جاری رہیں گے تاکہ یہ تاریخی شناخت آنے والی نسلوں تک محفوظ پہنچ سکے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














