جشن آزادی اسپیشل: موہٹہ پیلس، وہ محل جس نے پاکستان بنتے دیکھا، پہلا دفتر خارجہ اور فاطمہ جناح کی آخری رہائش گاہ

جمعرات 13 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی میں ایک ایسی تاریخی عمارت موجود ہے جس نے برصغیر کی تقسیم، قیام پاکستان اور ملک کے ابتدائی ریاستی سفر کے کئی اہم مراحل اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ یہ عمارت ہے موہٹہ پیلس، جو ایک وقت میں ایک نجی رہائش گاہ تھی، پھر پاکستان کے پہلے دفتر خارجہ کے طور پر استعمال ہوئی اور بعد ازاں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی رہائش گاہ بھی بنی۔ 14 اگست کے موقع پر جب قوم آزادی کی جدوجہد اور قیامِ پاکستان کے واقعات کو یاد کرتی ہے تو موہٹہ پیلس بھی اس تاریخی داستان کا ایک اہم باب بن کر سامنے آتا ہے۔

ایک محل، جس کی بنیاد محبت پر رکھی گئی

موہٹہ پیلس 1927 میں کراچی کے ساحلی علاقے کلفٹن میں مارواڑی صنعتکار شیورتن چندر رتن موہٹہ نے تعمیر کروایا۔ تاریخی روایات کے مطابق شیورتن موہٹہ کی اہلیہ طویل عرصے سے علیل تھیں اور ڈاکٹروں نے انہیں سمندر کی تازہ ہوا میں رہنے کا مشورہ دیا تھا۔

اسی مقصد کے تحت ایک ایسی رہائش گاہ تعمیر کروائی گئی جہاں سمندری ہوائیں آسانی سے داخل ہوسکیں۔ اس دور کا کلفٹن آج کے مصروف اور گنجان کراچی سے بالکل مختلف تھا۔ محل کے اطراف کھلا علاقہ تھا اور سمندر کی ہوائیں براہ راست اس عمارت تک پہنچتی تھیں۔ اسی پس منظر کی وجہ سے موہٹہ پیلس کو محبت اور خاندانی وابستگی سے جڑی ایک تاریخی عمارت بھی قرار دیا جاتا ہے۔

مغل اور راجپوت طرز تعمیر کا حسین امتزاج

موہٹہ پیلس کا نقشہ معروف معمار آغا احمد حسین نے تیار کیا۔ عمارت کی تعمیر میں کراچی کا زرد گِزری پتھر اور جودھ پور کا گلابی پتھر استعمال کیا گیا۔ محل کے طرز تعمیر میں مغل اور راجپوت فن تعمیر کے عناصر نمایاں ہیں۔

محرابیں، کشادہ برآمدے، سنگ تراشی، رنگین شیشے، گنبد اور چھت پر موجود بارہ دری اس عمارت کو منفرد بناتے ہیں۔ قریباً ایک صدی گزرنے کے باوجود موہٹہ پیلس کی تعمیراتی خوبصورتی آج بھی برقرار ہے اور یہ عمارت کراچی کے اہم تاریخی ورثے میں شمار ہوتی ہے۔

100 سال پہلے قدرتی ہوا کا انتظام

موہٹہ پیلس کی تعمیر میں صرف خوبصورتی ہی نہیں بلکہ موسمی حالات کو بھی مدنظر رکھا گیا تھا، موہٹہ پیلس کے ایڈمنسٹریٹر اکبر خوش کے مطابق عمارت کی چھت پر موجود بارہ دری کو اس انداز میں بنایا گیا تھا کہ چاروں سمت سے آنے والی ہوا کا گزر جاری رہے۔

نیلے شیشوں کا استعمال سورج کی تیز روشنی کی شدت کم کرنے میں مدد دیتا تھا، جبکہ عمارت کی بلندی اور گنبد گرم ہوا کے اخراج میں معاون تھے۔ اکبر خوش کے مطابق شیورتن موہٹہ شام کے وقت اپنے اہل خانہ کے ساتھ بارہ دری میں بیٹھ کر چائے پیتے تھے، جہاں سے اس زمانے میں سمندر کا خوبصورت منظر بھی دکھائی دیتا تھا۔

محل کی بلندی نے اسے بارشوں سے محفوظ رکھا

موہٹہ پیلس ایک نسبتاً بلند مقام پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اکبر خوش کے مطابق محل کی تعمیر کے وقت اس بات کا بھی خیال رکھا گیا کہ بارش کا پانی عمارت کو متاثر نہ کرے۔ آج کراچی میں شدید بارشوں کے دوران جہاں کئی نشیبی علاقے زیرِ آب آجاتے ہیں، وہیں بلند مقام پر قائم یہ تاریخی عمارت قریباً ایک صدی بعد بھی اپنی مضبوطی کے ساتھ موجود ہے۔ محل کے عقبی حصے میں اصطبل اور گاڑیوں کے لیے جگہ بھی موجود تھی، جو اس دور کے رہن سہن کی عکاسی کرتی ہے۔

1947 میں موہٹہ پیلس کی تاریخ بدل گئی

قیام پاکستان کے بعد موہٹہ خاندان کراچی سے بھارت منتقل ہوگیا اور اس عمارت کا کردار بھی تبدیل ہوگیا۔ نئی ریاست پاکستان کو ابتدائی برسوں میں سرکاری دفاتر کے لیے عمارتوں کی ضرورت تھی۔ ایسے میں موہٹہ پیلس کو اہم سرکاری امور کے لیے استعمال کیا گیا۔

1947 سے 1960 تک یہ عمارت پاکستان کے دفتر خارجہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔ یوں ایک نجی رہائش گاہ پاکستان کی ابتدائی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گئی اور نئی ریاست کے بین الاقوامی تعلقات سے جڑے اہم معاملات بھی اسی عمارت میں زیر غور آتے رہے۔

مادر ملت فاطمہ جناح اور موہٹہ پیلس

موہٹہ پیلس کی تاریخ کا سب سے اہم باب مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح سے وابستہ ہے۔ فاطمہ جناح نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں اس محل میں قیام کیا۔ 1965 کے صدارتی انتخاب کے دوران بھی یہاں سیاسی سرگرمیاں اور اہم ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ 1967 میں محترمہ فاطمہ جناح کا انتقال بھی اسی محل میں ہوا۔

آج بھی موہٹہ پیلس میں وہ کمرہ موجود ہے جہاں مادرِ ملت قیام پذیر رہیں۔ تاہم ان کا اصل فرنیچر بعد میں قائداعظم ہاؤس منتقل کردیا گیا۔ فاطمہ جناح کے بعد ان کی بہن شیریں جناح بھی کئی برس تک اسی محل میں رہیں۔

15 سال تک بند رہنے والا تاریخی محل

شیریں جناح کے انتقال کے بعد موہٹہ پیلس جائیداد سے متعلق قانونی تنازعات کی زد میں آگیا اور یہ تاریخی عمارت قریباً 15 برس تک بند رہی۔ بعد ازاں سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کے تعاون سے اس عمارت کی بحالی کا عمل شروع کیا۔

عمارت کی مرمت اور بحالی کے بعد ایک خودمختار بورڈ آف ٹرسٹیز تشکیل دیا گیا اور 15 ستمبر 1999 کو موہٹہ پیلس کو باقاعدہ میوزیم کے طور پر عوام کے لیے کھول دیا گیا۔

تاریخ سے ثقافت تک کا سفر

آج موہٹہ پیلس صرف ایک تاریخی عمارت نہیں بلکہ کراچی کے اہم ثقافتی مراکز میں سے ایک ہے۔ یہاں پاکستان کی تاریخ، فنونِ لطیفہ، ثقافت، خطاطی، مجسمہ سازی، روایتی ملبوسات اور دیگر موضوعات پر مختلف نمائشیں منعقد کی جاتی ہیں۔ ملک اور بیرونِ ملک سے آنے والے سیاح بھی اس عمارت کا رخ کرتے ہیں تاکہ اس کے فنِ تعمیر اور پاکستان کی تاریخ سے جڑے واقعات کو قریب سے دیکھ سکیں۔

14 اگست پر موہٹہ پیلس کیوں اہم ہے؟

پاکستان کی آزادی کی تاریخ صرف سیاسی رہنماؤں، جنگوں اور تاریخی دستاویزات تک محدود نہیں۔ کچھ عمارتیں بھی اس تاریخ کی خاموش گواہ ہیں۔ موہٹہ پیلس بھی ایسی ہی ایک عمارت ہے۔ 1927 میں ایک نجی رہائش گاہ کے طور پر تعمیر ہونے والا یہ محل 1947 کے بعد پاکستان کے پہلے دفتر خارجہ کا مرکز بنا، پھر مادرِ ملت فاطمہ جناح کی رہائش گاہ رہا اور آج پاکستان کے ثقافتی ورثے کا حصہ ہے۔ موہٹہ پیلس کی داستان دراصل کراچی اور پاکستان کی قریباً ایک صدی پر محیط تاریخ کا سفر ہے۔

اس 14 اگست پر جب سبز ہلالی پرچم فضاؤں میں لہرائیں تو کراچی کے اس تاریخی محل کو بھی یاد کیجیے، کیونکہ پاکستان کی آزادی کی داستان کا ایک اہم باب آج بھی موہٹہ پیلس کے در و دیوار میں محفوظ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp