اسلام آباد میں ڈی ایچ اے فیز ون کے علاقے میں دریائے سواں پر قائم پل سے گرنے کے بعد لاپتا ہونے والی 28 سالہ خاتون کی لاش ملنے کے معاملے میں پولیس کی تحقیقات مکمل ہوگئی ہیں جس کے بعد واقعے کو حادثہ قرار دے دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون: پنجاب میں بارشوں نے متعدد جانیں لے لیں، ملک بھر میں اب تک 150 سے زائد اموات
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں شہر میں شدید بارش کے دوران ایک خاتون کے دریا میں گرجانے کی اطلاع پر ریسکیو ٹیموں نے سرچ آپریشن کے بعد خاتون کی لاش نکال لی تھی جن کی شناخت 28 سالہ کومل جان کے نام سے ہوئی۔ وہ گلستان کالونی کی رہائشی تھیں۔ سواں پل کے اوپر سے خاتون کی موٹرسائیکل اور ہینڈ بیگ ملا جبکہ ہینڈ بیگ میں موجود شناختی کارڈ سے ان کی شناخت ہوئی تھی۔
پولیس کے مطابق متوفیہ کومل جان الیکشن کمیشن میں تعینات تھیں اور موٹر سائیکل پر ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے کا شوق رکھتی تھیں۔ تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ وہ ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے دریائے سواں میں گریں اور جان کی بازی ہار گئیں۔
پولیس کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد اپنی تحقیقات مکمل کرلی ہیں۔ پولیس نے واقعے کے حادثہ یا خودکشی ہونے کے دونوں امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے شواہد اکٹھے کیے اور عینی شاہدین کے ابتدائی بیانات بھی قلمبند کیے۔
تحقیقات کے دوران پولیس کو متوفیہ کا ایک موبائل فون ان کے ہینڈ بیگ سے ملا جو موٹر سائیکل پر رکھا ہوا تھا جبکہ دوسرے موبائل فون سے وہ ٹک ٹاک ویڈیو بنا رہی تھیں۔
مزید پڑھیے: سیلابی ریلے کی نذر ہونے والے ریٹائرڈ کرنل کی گاڑی 10 روز بعد مل گئی، بیٹی تاحال لاپتا
پولیس کے مطابق دستیاب شواہد اور دیگر معلومات کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کومل جان کا دریا میں گرنا حادثاتی طور پر پیش آیا۔
پولیس نے متوفیہ کی لاش کا پوسٹ مارٹم بھی کرایا جس کے بعد لاش قانونی کارروائی مکمل کرکے ورثا کے حوالے کردی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران عینی شاہدین کے بیانات سمیت تمام دستیاب شواہد کو مدنظر رکھا گیا۔ ورثا کی جانب سے بھی کسی شخص پر شک یا شبہ کا اظہار نہیں کیا گیا اور انہوں نے بھی واقعے کو حادثہ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں سیلاب، چند اہم سوالات
یوں پولیس کی تحقیقات کے مطابق سوشل میڈیا کنٹینٹ کریئیٹر کومل جان ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے دریائے سواں میں گرنے کے باعث جاں بحق ہوئیں جبکہ واقعے میں کسی مجرمانہ عمل کے شواہد سامنے نہیں آئے۔













