صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے سال 2026 کے پاکستان سول ایوارڈز کے لیے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 355 شخصیات کے ناموں کی سفارشات سامنے آگئی ہیں۔
صدر آصف علی زرداری کی جانب سے اعزازات کے لیے تیار کی گئی فہرست میں سائنس، انجینئرنگ، تعلیم، طب، فنون، ادب، کھیل، صحافت، سماجی بہبود، فلاحی خدمات، عوامی خدمت، بہادری، پاکستان کے لیے خدمات انجام دینے والی غیر ملکی شخصیات اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو شامل کیا گیا ہے۔
دستاویز کے مطابق بعض اعزازات بعد از مرگ بھی دیے جانے کی سفارش کی گئی ہے۔
355 شخصیات کو مختلف شعبوں میں اعزازات
دستاویز کے مطابق سب سے زیادہ 95 افراد کو گیلنٹری یا پبلک سروسز کے زمرے میں اعزازات کے لیے نامزد کیا گیا ہے، جبکہ 67 افراد کا تعلق پبلک سروس، 53 کا فنون، 29 کا ادب اور 22 کا تعلق پاکستان کے لیے خدمات انجام دینے والی غیر ملکی شخصیات سے ہے۔
شعبہ وار تفصیلات کے مطابق سائنس کے شعبے میں 6 افراد، انجینئرنگ کے شعبے میں 2 افراد، تعلیم، محققین، اساتذہ و پروفیسرز میں 21 افراد، طب کےشعبے میں 10 افراد، فنون کےشعبے میں 53 افراد، ادب کے شعبے میں 29 افراد، کھیل کے شعبے میں 9 افراد، صحافت کے شعبے میں 11 افراد، سماجی بہبود کے شعبے میں 6 افراد شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان رئیل اسٹیٹ کی بڑی کامیابی، ایشیا پیسیفک پراپرٹی ایوارڈز میں 2 عالمی اعزازات اپنے نام کرلیے
اسی طرح فلاحی خدمات میں 4 افراد، عوامی خدمت میں 67 افراد، بہادری، عوامی خدمت میں 95 افراد، پاکستان کے لیے خدمات، غیر ملکی شخصیات میں 22 افراد، پاکستان کے لیے خدمات، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں 20 افراد، ان تمام شعبوں کے افراد کی تعداد مجموعی طور پر 355 بنتی ہے۔
سائنس اور انجینئرنگ
سائنس کے شعبے میں 6 شخصیات کو اعزازات کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔ ان میں ڈاکٹر شاہد محمود کے لیے ہلال امتیاز جبکہ پروفیسر ڈاکٹر سید ظفر الیاس اور پروفیسر ڈاکٹر مدثر اسرار کے لیے ستارہ امتیاز شامل ہے۔ ڈاکٹر سجاد حسین، پروفیسر ڈاکٹر انیلا ضمیر جعفری اور ڈاکٹر عروج سعید کے لیے تمغہ امتیاز تجویز کیا گیا ہے۔
انجینئرنگ کے شعبے میں ڈاکٹر محمد صادق اور پروفیسر ڈاکٹر نعیم الحق طارق کے لیے تمغہ امتیاز کی سفارش کی گئی ہے۔
تعلیم کے شعبے میں 21 شخصیات
تعلیم کے شعبے میں مجموعی طور پر 21 شخصیات شامل ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ معظم اعجاز کے لیے ہلال امتیاز جبکہ پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا شاہ، پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندال، ڈاکٹر راشد امجد اور ڈاکٹر ظفر اقبال قادر کے لیے ستارہ امتیاز تجویز کیا گیا ہے۔
تعلیم کے شعبے میں دیگر شخصیات کے لیے زیادہ تر تمغہ امتیاز کی سفارش کی گئی ہے، جن میں پروفیسر ڈاکٹر غزالہ یاسمین، پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود، پروفیسر ڈاکٹر فیصل باری، پروفیسر ڈاکٹر صبیحہ منصور، پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ، ڈاکٹر غلام علی ملاح، ریاض احمد کملانی، صباح فیصل، محمد رفیق ملک، سید اظہر آفاق رضوی، قاضی خالد علی، فقیر اللہ، عبدالستار، ڈاکٹر روحی خالد، پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد علی ایاز صادق اور یاسمین دادابھائی شامل ہیں۔
طب کے شعبے میں 10 شخصیات
طبی شعبے میں 10 افراد کے نام شامل ہیں۔ ٹرانسپلانٹ سرجن پروفیسر فیصل سعود ڈار کے لیے ہلال امتیاز کی سفارش کی گئی ہے۔
معروف بون میرو ٹرانسپلانٹ ماہر مرحوم پروفیسر ڈاکٹر طاہر شمسی اور مرحوم ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کے لیے بعد از مرگ ستارہ امتیاز تجویز کیا گیا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر سید جمال رضا، ڈاکٹر شاہ خالد اور پروفیسر ڈاکٹر محمد خرم کے لیے بھی ستارہ امتیاز جبکہ ڈاکٹر نعیم تاج، ڈاکٹر عبدل واسع، ڈاکٹر محمد شریف ہاشمانی اور ڈاکٹر معاذ الحسن کے لیے تمغہ امتیاز شامل ہے۔
فنون کے شعبے میں سب سے زیادہ 53 شخصیات
فنون کے شعبے میں 53 افراد کو اعزازات کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔ معروف پروڈیوسر سلطانہ صدیقی کے لیے ہلال امتیاز جبکہ نِشو بیگم، افتخار احمد ٹھاکر، سید فصیح الدین سہروردی، شاکر حسین، ترنم ناز، سائرہ جان پیٹر، مرحومہ عابدہ احسان، راجہ چنگیز سلطان، محمد نعیم طاہر اور بشیر احمد کے لیے ستارہ امتیاز کی سفارش کی گئی ہے۔
فنون میں اداکاری، موسیقی، مصوری، مجسمہ سازی، قوالی، لوک فنون، کشمیری کڑھائی، بلوچی دستکاری، نعت خوانی اور فیشن ڈیزائننگ سمیت متعدد شعبوں سے تعلق رکھنے والے فنکار شامل ہیں۔
اسی شعبے میں پرفارمنس، آرٹس کیٹیگری کے تحت 30 افراد جبکہ تمغہ امتیاز کے لیے 12 افراد کی سفارش کی گئی ہے۔
ادب میں 29 شخصیات
ادبی شعبے میں 29 افراد کو مختلف اعزازات کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔ اسد محمد خان کے لیے نشان امتیاز جبکہ اعجاز رحیم اور محمد خورشید الحسن رضوی کے لیے ہلال امتیاز کی سفارش کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:صدر مملکت نے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو قومی اعزازات سے نواز دیا
محمد شکیل عادل زادہ، پروفیسر بریگیڈیئر ریٹائرڈ وحید الزماں طارق، مقصود حسین جعفری، ریاض الحق طاہر ریاض مجید، محمد حفیظ خان، پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر، ہاشم ندیم اور سید غلام عباس کے لیے ستارہ امتیاز شامل ہے۔
ادب کے شعبے میں شاعری، ناول، افسانہ، تاریخ، اقبالیات، تصوف، ترجمہ اور دیگر ادبی خدمات سے وابستہ شخصیات شامل ہیں۔
کھیلوں میں 9 افراد
کھیلوں کے شعبے میں 9 شخصیات شامل ہیں۔ باکسنگ کوچ عطا محمد کاکڑ اور یوگا و مارشل آرٹس کے ماہر ڈاکٹر وسیم اے تائی کے لیے ستارہ امتیاز تجویز کیا گیا ہے۔
ریسلنگ، شوٹنگ، اسکواش، ریمپ جمپ، باکسنگ، کرکٹ اور ایتھلیٹکس سے وابستہ کھلاڑیوں کے لیے بھی مختلف اعزازات کی سفارش کی گئی ہے۔
صحافت میں 11 شخصیات
صحافت کے شعبے میں 11 افراد شامل ہیں۔ محمد صالح ظفر اور حاجی نواز رضا کے لیے ستارہ امتیاز جبکہ سید حماد غزنوی اور محمد عامر خان کے لیے پرفارمنس ایوارڈ کی سفارش کی گئی ہے۔
محمد ریاض خان، شعیب احمد، ایم عمار مسعود، ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار، عادل شہزیب، حماد حسن اور تصور عرفات کے لیے تمغہ امتیاز تجویز کیا گیا ہے۔
سماجی بہبود اور فلاحی خدمات
سماجی بہبود کے شعبے میں 6 افراد جبکہ فلاحی خدمات کے شعبے میں 4 افراد کو اعزازات کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔
سماجی بہبود میں ڈاکٹر مریم ملک اور نایاب علی کے لیے ستارہ امتیاز جبکہ مذہبی اسکالرز قاری روح اللہ مدنی، حافظ اسد عبید، بشپ ہمفری سرفراز پیٹرز اور سید ریاض حسین نجفی کے لیے تمغہ امتیاز شامل ہے۔
فلاحی خدمات میں شانور خان کے لیے ستارہ امتیاز جبکہ عاطف اکرام شیخ، ابیہ اکرم اور ریاض حسین میمن کے لیے تمغہ امتیاز کی سفارش کی گئی ہے۔
پبلک سروس میں 67 افراد
عوامی خدمت کے شعبے میں 67 افراد شامل ہیں۔ اس کیٹیگری میں اعلیٰ ترین نشان امتیاز وفاقی وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر برائے اسٹیبلشمنٹ و اقتصادی امور احد چیمہ کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔
وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی کے لیے بھی نشان امتیاز شامل ہے، جبکہ انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل فواد اسد اللہ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بیرسٹر نبیل اے اعوان کے لیے ہلال امتیاز کی سفارش کی گئی ہے۔
پبلک سروس کے دیگر 56 افراد کے لیے ستارہ امتیاز اور تمغہ امتیاز کی سفارشات شامل ہیں۔
بہادری کے اعزازات، 95 افراد شامل
عوامی خدمات یا پبلک سروس کے زمرے میں سب سے زیادہ 95 افراد شامل ہیں۔ ان میں بڑی تعداد شہید اہلکاروں کی ہے جنہیں بعد از شہادت ستارہ شجاعت دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
فہرست میں پنجاب رینجرز، وفاقی کانسٹیبلری، پولیس، انٹیلی جنس بیورو، پاک فوج، فضائیہ اور دیگر اداروں سے تعلق رکھنے والے اہلکار شامل ہیں۔ اس کیٹیگری میں ستارہ شجاعت، تمغہ شجاعت اور تمغہ امتیاز سمیت مختلف اعزازات تجویز کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:معرکہ حق میں کامیابی: صدر مملکت نے آرمی، ایئر فورس اور نیوی کے 488 افسران و جوانوں کو عسکری اعزازات سے نواز دیا
فہرست میں آزاد کشمیر کے ضلع باغ کے دھیرکوٹ سے تعلق رکھنے والی سیاسی کارکن اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ زوبیہ خورشید راجہ کے لیے بھی تمغہ شجاعت کی سفارش شامل ہے۔
غیر ملکی شخصیات کے لیے 22 اعزازات
پاکستان کے لیے خدمات انجام دینے والی 22 غیر ملکی شخصیات کو بھی اعزازات کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی شیخہ فاطمہ بنت مبارک کے لیے نشان پاکستان، مرحوم ڈاکٹر جال رتن جی پٹیل اور ڈاکٹر جال ڈیبو کے لیے نشان قائداعظم جبکہ سعودی عرب، روس، جاپان، ترکیہ، اسپین، فرانس، چین، ملائیشیا اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے لیے ہلال پاکستان، ہلال امتیاز، ہلال قائداعظم، ستارہ پاکستان، ستارہ قائداعظم اور ستارہ امتیاز کی سفارش کی گئی ہے۔
غیر ملکی شخصیات میں ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان، وزیر دفاع یشار گولر اور وزیر تجارت عمر بولات، روس کے نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک اور سعودی عرب کی متعدد اہم شخصیات شامل ہیں۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے 20 اعزازات
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کیٹیگری میں 20 افراد کو اعزازات کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔ مرحوم محمد اسد کے لیے بعد از مرگ نشان امتیاز، ڈاکٹر غلام مرتضیٰ، مرحوم پروفیسر احمد علی اور سردار محمد الیاس خان کے لیے ہلال امتیاز جبکہ دیگر افراد کے لیے ستارہ امتیاز اور تمغہ امتیاز شامل ہے۔
یہ شخصیات برطانیہ، چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، جاپان، جنوبی کوریا، امریکا، آسٹریا، ڈنمارک اور اٹلی سمیت مختلف ممالک میں پاکستان کے لیے خدمات انجام دے رہی ہیں۔
کون سا اعزاز کتنے افراد کو؟
پی ڈی ایف میں شامل تمام 355 ناموں کے اعزازات کو جمع کرنے سے مجموعی تصویر یہ بنتی ہے:
اعزاز افراد کی تعداد
نشان پاکستان1، نشان امتیاز 7، نشان قائداعظم 2، ہلال پاکستان6، ہلال امتیاز15، ہلال قائداعظم 1، ستارہ پاکستان 4، ستارہ امتیاز70، ستارہ قائداعظم6، ستارہ شجاعت48، تمغہ امتیاز 125، تمغہ شجاعت24، پرفارمنس ایوارڈ (PAPP) 46 شامل ہیں۔











