ذہنی صحت سے متعلق اسٹارٹ اپ ’ونڈر مائنڈ‘ کے سرمایہ کاروں نے امریکی پاپ اسٹار سیلینا گومز، ان کی والدہ اور سابق کاروباری شراکت دار کے خلاف تقریباً 12 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری سے متعلق دھوکا دہی کا الزام عائد کیا ہے۔
امریکی پاپ اسٹار سیلینا گومز، ان کی والدہ مینڈی ٹیفی اور سابق کاروباری شراکت دار ڈینیئلا پیئرسن کے خلاف ذہنی صحت کے شعبے میں کام کرنے والے اسٹارٹ اپ ’ونڈر مائنڈ‘ کے متعدد سرمایہ کاروں نے مقدمہ دائر کردیا ہے۔ سرمایہ کاروں کا مؤقف ہے کہ انہیں کمپنی کے کاروبار اور سیلینا گومز کی اس میں شمولیت کے بارے میں گمراہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے ارب پتی افراد کی فہرست میں شامل سیلینا گومز کتنے اثاثوں کی مالک ہیں؟
ڈیلاویئر کی عدالت میں جمعرات کو دائر کی گئی درخواست کے مطابق دو گروپس سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں نے کمپنی میں مجموعی طور پر تقریباً 12 لاکھ ڈالر لگائے تھے۔ ان کا الزام ہے کہ تینوں مدعا علیہان نے کمپنی کے بارے میں غلط نمائندگی کی اور ایسی شراکت داریوں، اشتہاری معاہدوں اور منصوبوں کا تاثر دیا جو حقیقت میں موجود نہیں تھے۔
2021 میں قائم ہونے والی ’ونڈر مائنڈ‘ کی ویب سائٹ کے مطابق کمپنی روزمرہ زندگی میں ذہنی صحت بہتر بنانے کے لیے آسان اور قابلِ عمل طریقے فراہم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ سیلینا گومز کمپنی کی شریک بانی جبکہ ان کی والدہ مینڈی ٹیفی چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔ سابق کاروباری شراکت دار ڈینیئلا پیئرسن نے 2023 میں مینڈی ٹیفی سے مبینہ اختلافات کے بعد کمپنی چھوڑ دی تھی۔
یہ بھی پڑھیے سیلینا گومز کا انکشاف: بائی پولر ڈس آرڈر سے پہلے غلط تشخیص، 4 ری ہیب سینٹرز جانا پڑا
سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ ونڈر مائنڈ کی جے پی مورگن سمیت بڑی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داریاں، اشتہاری معاہدے، معروف شخصیات کے ساتھ کور اسٹوریز اور ایک جدید ایپ موجود ہے، تاہم ان کے بقول نہ یہ شراکت داریاں ہوئیں، نہ منصوبے عملی شکل اختیار کرسکے اور نہ ہی ایپ تیار کی گئی۔ سرمایہ کاروں نے اپنی ابتدائی سرمایہ کاری کی واپسی، ہرجانے اور قانونی اخراجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔














