بیلجیم، گھر کی مرمت کے دوران دیوار سے 2 ارب 89 کروڑ کا سونا نکل آیا، اصل وارث کون؟، نئی بحث شروع

ہفتہ 15 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بیلجیم کے علاقے مشرقی فلینڈرز میں مکان کی مرمت کے دوران مزدوروں کو دیواروں سے کروڑوں روپے مالیت کا سونا مل گیا۔

تقریباً 90 لاکھ یورو (2 ارب 89 کروڑ پاکستانی روپے) مالیت کے اس سونے میں اینٹیں اور سکے شامل ہیں۔

پولیس نے تمام خزانہ تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ قانون کے مطابق اصل مالک کے سامنے نہ آنے کی صورت میں یہ دولت مزدوروں اور مکان کے مالک فلاحی ادارے میں تقسیم کی جاسکتی ہے۔

ڈرلنگ کے دوران اچانک سونا نکل آیا

مشرقی فلینڈرز میں نئے سیوریج پائپ بچھانے کے لیے مکان میں ڈرلنگ کا کام جاری تھا کہ اچانک دیواروں کے اندر سے سونے کی اینٹیں اور سکے برآمد ہوگئے۔

اس کام میں مصروف 18 سالہ طالب علم اور مزدور کوبے نے بتایا کہ ابتد میں انہیں لگا کہ شاید یہ ایک یورو کے عام سکے ہیں، لیکن جب وہاں سونے کی اینٹ نظر آئی تو انہیں اندازہ ہوا کہ یہ کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ بہت بڑا خزانہ ہے۔

ایمانداری کی مثال، سونا چھپانا ناممکن تھا

خزانہ ملنے پر تمام مزدور پہلے حیران اور پریشان ہوئے، لیکن انہوں نے فوری طور پر پولیس کو اس کی اطلاع دی۔

سائٹ مینیجر ماریو اور مزدور کوبے کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی مالیت کا سونا چھپا کر اپنے پاس رکھنا نہ صرف ناممکن تھا بلکہ ایسا کرنا قانون کی رو سے چوری کے زمرے میں آتا ہے۔

پولیس نے موقع پر پہنچ کر تمام سونا محفوظ مقام پر منتقل کردیا اور عوام کو خبردار کیا کہ وہ مزید تلاش کے لیے اس مقام کا رخ نہ کریں۔

خزانے کا اصل مالک کون؟ بیلجیم کا قانون کیا کہتا ہے

یہ مکان اس وقت ‘سی اے ڈاوٴ اوست فلاندرن’ نامی ایک فلاحی ادارے کی ملکیت ہے جو ضرورت مند افراد کی مدد کرتا ہے۔

ادارے کے ڈائریکٹر گیرٹ ہلائرٹ نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر یہ خزانہ انہیں مل گیا تو اسے فلاحی کاموں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

بیلجیم کے قانون کے مطابق خزانے کے اصل مالک کے پاس اسے واپس لینے کے لیے 5 سال یعنی 1823 دن کا وقت ہے۔

اگر اس مدت میں کوئی دعویدار سامنے نہیں آتا اور یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ سونا کسی مجرمانہ سرگرمی سے منسلک نہیں ہے، تو قانون کے مطابق یہ خزانہ اسے تلاش کرنے والے مزدوروں اور جائیداد کے مالک فلاحی ادارے کے درمیان برابر تقسیم کردیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp