بیلجیم کے علاقے مشرقی فلینڈرز میں مکان کی مرمت کے دوران مزدوروں کو دیواروں سے کروڑوں روپے مالیت کا سونا مل گیا۔
تقریباً 90 لاکھ یورو (2 ارب 89 کروڑ پاکستانی روپے) مالیت کے اس سونے میں اینٹیں اور سکے شامل ہیں۔
پولیس نے تمام خزانہ تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ قانون کے مطابق اصل مالک کے سامنے نہ آنے کی صورت میں یہ دولت مزدوروں اور مکان کے مالک فلاحی ادارے میں تقسیم کی جاسکتی ہے۔
ڈرلنگ کے دوران اچانک سونا نکل آیا
مشرقی فلینڈرز میں نئے سیوریج پائپ بچھانے کے لیے مکان میں ڈرلنگ کا کام جاری تھا کہ اچانک دیواروں کے اندر سے سونے کی اینٹیں اور سکے برآمد ہوگئے۔
A routine sewer project turns into a $10 MILLION jackpot when construction workers discover a massive stash of gold behind a wall of a former brewery in Belgium.
“They shouted, ‘We found gold!'” the project leader recalls as workers kept digging up more coins and bars. An… pic.twitter.com/sk3D8AXCdx
— Fox News (@FoxNews) August 15, 2026
اس کام میں مصروف 18 سالہ طالب علم اور مزدور کوبے نے بتایا کہ ابتد میں انہیں لگا کہ شاید یہ ایک یورو کے عام سکے ہیں، لیکن جب وہاں سونے کی اینٹ نظر آئی تو انہیں اندازہ ہوا کہ یہ کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ بہت بڑا خزانہ ہے۔
ایمانداری کی مثال، سونا چھپانا ناممکن تھا
خزانہ ملنے پر تمام مزدور پہلے حیران اور پریشان ہوئے، لیکن انہوں نے فوری طور پر پولیس کو اس کی اطلاع دی۔
سائٹ مینیجر ماریو اور مزدور کوبے کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی مالیت کا سونا چھپا کر اپنے پاس رکھنا نہ صرف ناممکن تھا بلکہ ایسا کرنا قانون کی رو سے چوری کے زمرے میں آتا ہے۔
مزدوروں نے گھر کی دیوار توڑی تو دو ارب 89 کروڑ روپے مالیت کا سونا نکل آیا، مگر اب یہ کس کو ملے گا؟https://t.co/OHZhoOJWeU
— BBC News اردو (@BBCUrdu) August 15, 2026
پولیس نے موقع پر پہنچ کر تمام سونا محفوظ مقام پر منتقل کردیا اور عوام کو خبردار کیا کہ وہ مزید تلاش کے لیے اس مقام کا رخ نہ کریں۔
خزانے کا اصل مالک کون؟ بیلجیم کا قانون کیا کہتا ہے
یہ مکان اس وقت ‘سی اے ڈاوٴ اوست فلاندرن’ نامی ایک فلاحی ادارے کی ملکیت ہے جو ضرورت مند افراد کی مدد کرتا ہے۔
ادارے کے ڈائریکٹر گیرٹ ہلائرٹ نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر یہ خزانہ انہیں مل گیا تو اسے فلاحی کاموں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
بیلجیم کے قانون کے مطابق خزانے کے اصل مالک کے پاس اسے واپس لینے کے لیے 5 سال یعنی 1823 دن کا وقت ہے۔
اگر اس مدت میں کوئی دعویدار سامنے نہیں آتا اور یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ سونا کسی مجرمانہ سرگرمی سے منسلک نہیں ہے، تو قانون کے مطابق یہ خزانہ اسے تلاش کرنے والے مزدوروں اور جائیداد کے مالک فلاحی ادارے کے درمیان برابر تقسیم کردیا جائے گا۔














