کامی کلارک، اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی کی اہلیہ کے بدنام زمانہ جنسی اسمگلر جیفری ایپسٹین کے ساتھ رابطوں کا انکشاف ہوا ہے کہ ایپسٹین فائلز میں موجود ای میلز سے ان کے سابقہ کاروباری روابط کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
کامی کلارک نے اگرچہ اینتھروپک میں کوئی باضابطہ عہدہ نہیں سنبھالا، تاہم وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق وہ اپنے شوہر ڈاریو اموڈی کے لیے ایک اہم مشیر اور ساؤنڈنگ بورڈ کا کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ انہیں ڈیووس سمیت بڑے کاروباری اجتماعات میں دیکھا گیا ہے، جبکہ وہ سرمایہ کاروں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں بھی شریک رہی ہیں۔ 2022 میں اموڈی سے شادی سے قبل کلارک کا نام سابق گوگل چیف ایگزیکٹو ایرک شمٹ کے ساتھ بھی وابستہ رہا۔
رپورٹس کے مطابق 1979 میں نیواڈا میں پیدا ہونے والی کلارک نے 2016 میں اموڈی کے اوپن اے آئی میں شامل ہونے کے بعد ان کے لیے اسٹریٹجک مشیر کے طور پر کام کیا اور بعد میں ان کا تعارف ایرک شمٹ سے کرایا۔ اموڈی اور ان کے ساتھیوں نے 2020 میں اوپن اے آئی سے علیحدگی کے بعد اینتھروپک قائم کی، جس کے ابتدائی سرمایہ کاروں میں شمٹ بھی شامل ہوئے۔ کلارک نے اس دوران مختلف کاروباری منصوبوں پر بھی کام کیا، جن میں خود ساختہ ’فری لگژری پورن‘ کمپنی اور خواتین کے لیے ایک سوشل ڈائٹنگ ایپ شامل تھی۔
ایپسٹین فائلز میں موجود ای میلز کے مطابق کلارک کا جیفری ایپسٹین سے تعارف 2011 میں ادبی ایجنٹ جان بروک مین کے ذریعے ہوا۔ بعد ازاں انہوں نے ایپسٹین سے اپنے کاروباری منصوبوں کے لیے ممکنہ سرمایہ کاری کے بارے میں رابطہ کیا۔ ایک ای میل میں انہوں نے اپنی کمپنی کی مجوزہ فلموں کا مواد بھیجا اور ایپسٹین سے کہا کہ وہ اور ان کی خواتین ساتھی اسکرپٹ سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔
2012 میں کلارک نے دوبارہ ایپسٹین سے رابطہ کرکے اپنے اور ایک ساتھی کے کاروبار میں سرمایہ کاری کے امکان پر بات کی، تاہم دستیاب ریکارڈز میں ایپسٹین کی جانب سے ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
کلارک نے اسی دوران خواتین کے لیے صحت اور وزن کم کرنے سے متعلق ایک ایپ اور ویب سائٹ کا تصور بھی ایپسٹین کے سامنے رکھا تھا، جس میں ہیلتھ مانیٹرنگ ڈیوائسز اور صارفین کے فراہم کردہ ڈیٹا کو استعمال کرکے صحت سے متعلق معلومات کو بصری شکل میں پیش کرنے کا منصوبہ تھا۔
ریکارڈز کے مطابق وہ بعد میں بھی ایپسٹین کے حلقے سے منسلک رہیں، جن میں 2012 میں ایک ہاؤس وارمنگ پارٹی کی دعوت اور 2013 میں لنکڈ اِن رابطہ شامل ہے۔ تاہم دستیاب ای میلز سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ابتدائی کاروباری رابطوں کے بعد دونوں کی دوبارہ بالمشافہ ملاقات ہوئی۔













